کرم ایجنسی میں خیبر پختونخوا حکومت کی بدترین ناکامی

خیبر پختونخوا پاکستان کا ایک ایسا خطہ ہے جہاں قبائلی روایات اور پیچیدہ مسائل کے باعث امن و امان کی صورتحال مسلسل متاثر ہوتی رہتی ہے۔ "کرم” کا خطہ جو کہ پاک افغان سرحد پر واقع ہے، سیکورٹی کے نقطہ نظر سے فطری طور پر حساس ہے۔ سابق فاٹا کا تاریخی تناظر، قبائلی طرز حکمرانی کی پیچیدگی اور حالیہ سیاسی تبدیلیوں کی وجہ سے انتظامیہ کے لیے اہم چیلنج ہے۔ امن و امان کے نفاذ کی حکومت کی کوششوں کو خطے کے قبائلی ضابطوں اور فرقہ ورانہ جھگڑوں کی وجہ سے مسلسل نقصان پہنچا ہے۔ یہاں کے حالیہ تنازعے اور فرقہ ورانہ تشدد نے علاقے کی زندگیوں کو شدید مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔ خاص طور پر مدگی اور مالی خیل قبائل کے درمیان حالیہ جھڑپیں ایک مثال ہیں کہ کس طرح پرانے تنازعات آج بھی بڑے بحران کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ جھڑپیں زرعی زمین کے ایک تنازعے پر ہوئی ہیں، جس نے ایک معمولی مسئلے کو شدید تشدد میں بدل دیا۔ اس تنازعے میں کم از کم 42 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ تشدد صرف اس بات کی عکاسی نہیں کرتا کہ روایتی قبائلی مسائل کس طرح فرقہ ورانہ جھگڑوں میں بدل سکتے ہیں، بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ مذہبی شناختوں کا غلط استعمال کس طرح تشدد کو بڑھاوا دیتے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں تنازعات کو حل کرنے کے لیے مقامی کونسلیں یا جرگے عام طور پر اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن بڑھتے ہوئے تشدد کی وجہ سے یہ جرگے اب اتنے موثر نہیں رہے۔ مدگی قبیلہ زیادہ تر سنی ہے، جبکہ مالی خیل قبیلہ شیعہ ہے۔ ان دونوں قبائل کے درمیان فرقہ ورانہ تناؤ ایک طویل عرصے سے جاری ہے اور حالیہ تصادم میں شدت اختیار کر گیا۔ "کرم” میں لڑائی نے نقل و حرکت اور طبی سہولتوں تک رسائی کو مشکل بنا دیا ہے۔ قبائلی روایات کے مطابق، خواتین اور بچوں کو تشدد سے بچانے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن موجودہ حالات میں یہ اصول بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ تشدد نے انسانی زندگیوں کے ساتھ ساتھ روزمرہ کی زندگیوں کو بھی برباد کر دیا ہے، جس سے تنازعات کے حل کے موثر طریقے کی ضرورت مزید واضح ہو گئی ہے۔
حکومت اور مقامی رہنماؤں کی طرف سے جرگے کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوششیں ابھی تک ناکافی ثابت ہوئی ہیں۔ 2018 میں خیبر پختونخوا میں فاٹا کے انضمام کے بعد سے علاقے میں حکومتی کنٹرول اور نظم و نسق میں مشکلات آئی ہیں۔ قبائلی ضابطہ اخلاق، جو روایتی طور پر خواتین، بچوں اور گھروں کو نشانہ بنائے جانے سے بچاتا ہے، بڑھتی ہوئی دشمنیوں کی وجہ سے ٹوٹتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ جنگ بندی قلیل مدتی ثابت ہوئی، کیونکہ رات کے بعد تشدد دوبارہ شروع ہوا۔ کرم کے، کے پی میں انضمام کا مقصد اس خطے کو ریاست کے قانونی اور انتظامی نظام کے دائرے میں لانا تھا، لیکن پولیس اور سکیورٹی فورسز اس غیر مستحکم علاقے میں نفاذ کے لئے شدید دشواریوں سے دوچار ہیں اور یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ مسلح تصادم میں صوبائی حکومت کا کردار کیوں غیر موثر ثابت ہوا، کیا یہ ریاست کے اندر ریاست کی نشاندہی نہیں کر رہا کہ دو قبائل مسلح تصادم اس طرح کر رہے ہیں جیسے کہ کوئی خانہ جنگی ہو رہی ہو اور انہیں کوئی روکنے والا نہ ہو۔
یہ جاری تشدد ایک جامع نقطہ نظر کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے جو فوری سکیورٹی مسائل کے ساتھ ساتھ بنیادی فرقہ ورانہ اور زمین کی ملکیت کے مسائل کو بھی حل کرے۔ خیبر پختونخوا کی حکومت کو چاہیے کہ وہ دوسرے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر مذاکرات کو ترجیح دے اور موثر حل تلاش کرے۔ یہ بات واضح ہے کہ خیبرپختونخوا میں فرقہ ورانہ تقسیم اور قبائلی مسائل کو ختم کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ قبائلی ضوابط اور جدید طرز حکمرانی کے چیلنجز اس بحران میں واضح ہیں، اور اس خطے میں امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے نازک توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔
خیبر پختونخوا جو قبائلی روایات اور پیچیدہ حرکیات میں گھیرا ہوا ہے، دیرینہ قبائلی جھگڑے سے اس حساس سرحدی علاقے میں نظم و نسق اور قیام امن کی مشکلات نمایاں ہو گئی ہیں اس تشدد کے انسانی اثرات شدید ہیں۔ لڑائی نے نقل و حرکت اور طبی سہولیات تک رسائی میں خلل ڈالا ہے، جس سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔
روایتی اقدار، فرقہ ورانہ شناختوں اور جدید طرز حکمرانی کے چیلنجوں کا باہمی تعامل ایک غیر یقینی ماحول پیدا کرتا ہے جو فوری اور موثر مداخلت کا متقاضی ہے۔ ان پرتشدد تنازعات کی علامات اور بنیادی وجوہات کو حل کرنے اور خطے میں دیرپا امن قائم کرنے کے لیے تنازعات کے حل کے لیے ایک زیادہ مضبوط اور جامع نقطہ نظر ضروری ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت کو دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر مذاکرات کو ترجیح دینی چاہیے اور تنازعہ کی فوری اور بنیادی وجوہات کو حل کرنے کے لیے اس بات کو یقینی بنانا چاہیئےکہ اس طرح کے تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کیا جائےجو کہ نا صرف کرم کے استحکام کے لیے بلکہ تمام خطے کے لیے بھی ضروری ہے۔
تشدد کے اثرات صرف جانی نقصانات تک محدود نہیں ہیں بلکہ متاثرہ علاقوں میں رہنے والوں کی روزمرہ زندگیوں کو بھی بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ لوگ اپنے گھروں، اسکولوں اور کاروباروں کی حفاظت میں ناکام ہو رہے ہیں۔ اس صورت حال نے تنازعات کے حل کے موثر طریقہ کار کی اشد ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ یہ وقت ہے کہ حکومت اور دیگر متعلقہ ادارے فوری طور پر اقدامات کریں تاکہ متاثرہ لوگوں کی مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے۔ صرف سیکیورٹی کی بحالی ہی کافی نہیں ہے، بلکہ تنازعات کے بنیادی مسائل کو بھی حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔

