شمالی علاقہ جات کی سیر (1)


 

15 جولائی کو ہمارے سیاحتی سفر کا آغاز ہوا، نوجوانوں کا قافلہ صبح 9 بجے شہر ڈیرہ مراد سے روانہ ہوا، ہم (کشمور) قلندر کی دھرتی (سندھ ) کو خیر باد کہہ کر پنجاب میں داخل ہوئے۔

ہمارے پہلی منزل اولیاء کرام کی دھرتی ملتان تھی، رات کا قیام و طعام ملتان میں ہوا، یہاں کے مشہور مقامات کی سیر کے بعد ہمارے اگلی منزل کلر کہار تھی۔

ہم لوگ 15 جولائی صبح نو بجے شہر ڈیرہ مراد جمالی سے نکلے تھے، براستہ موٹر وے رات کے نو بجے ہم ملتان پہنچے، تاخیر سے پہنچنے کی وجہ راستے میں چائے اور نماز کے لیے وقفہ تھا۔

ایم فائیو (M۔ 5 ) موٹر وے پر سفر مجھے بہت اچھا لگا، روڈ کے دونوں جانب آم کے گھنے درختوں کی بہتات تھی، سڑک کے دونوں طرف ہریالی نے ماحول کو خوشگوار بنا رکھا تھا۔

ملتان۔ سکھر موٹر وے (M۔ 5 ) کی بنیاد 2016 میں رکھی گئی، مئی 2016 میں، حکومت پاکستان نے اس کی تعمیر کا ٹھیکہ چائنا اسٹیٹ کنسٹرکشن انجینئرنگ کو دیا، جس کی تکمیل اگست 2019 میں ہوئی۔

ملتان پہنچتے ہی سب سے پہلے ہم نے قیام کا بندوبست کیا، وہاڑی چوک پر واقع زم زم نامی ہوٹل میں ہمارے قیام کا بندوبست ہو گیا۔ طویل سفر کی وجہ سے ہم بہت تھک گئے تھے، کھانا کھانے کے بعد بستر پر دراز ہوتے ہی آنکھ لگ گئی۔

صبح 9 بجے تک تمام ساتھی بیدار ہو چکے تھے۔ ہم نے ناشتہ کیا اور تیار ہوئے کیونکہ اولیاءکرام کی دھرتی پر بہاؤ الدین زکریا، شاہ رکن عالم اور شمس تبریز کے مزارات پر جانے کا ارادہ تھا، قلعہ کہنہ قاسم باغ کا چکر لگانے کا بھی ارادہ تھا۔ لیکن 9 محرم کی وجہ سے مزارات اور دیگر مقامات بند تھے، اب واپسی پہ ارادہ ہے۔

ہم نے سامان سفر باندھا اور کلر کہار کے لیے ظہر کے بعد ملتان سے براستہ M۔ 4 موٹر وے روانہ ہوئے، ملتان میں بڑی حدت تھی، ایک بار ایسے لگا کہ ڈیرہ مراد جمالی کی گرمی اور ملتان کی گرمی میں کوئی خاص فرق نہیں۔

ایم۔ فور M۔ 4 موٹروے کا سفر M۔ 5 موٹر وے کی نسبت تھوڑا بیزار کن لگا، خیر جیسے تیسے گزر گیا۔

پنڈی بھٹیاں پہنچ کر ہم چائے کے لیے رکے، چائے پی کر پنڈی بھٹیاں سے ہم براستہ M۔ 2 موٹر وے کلر کہار کے لیے روانہ ہو گئے، دوران سفر M۔ 4 اور M۔ 2 موٹر وے پہ موٹر وے پولیس والوں نے بھی تھوڑا بہت روکا لیکن اس دوران جو بات مجھے اچھی لگی وہ یہ تھی کہ پنجاب پولیس والے ٹیچرز کا بڑا احترام کرتے ہیں، حتیٰ کہ ایک نوجوان افسر نے یہاں تک کہہ دیا آپ ہمارے لیے قابل احترام ہیں، ہمیں تو استاد کو سلیوٹ تک کرنے کا کہا گیا ہے۔

رات آٹھ بجے ہم کلر کہار پہنچ گئے، دربار غوثیہ گئے، چند ایک اور مقامات اور جھیلوں کی سیر کی، ہوٹل میانوالی میں قیام کیا، کلر کہار پنجاب کے ضلع چکوال میں پڑتا ہے، پہاڑوں سے گھرا یہ شہر بہت خوبصورت اور صاف ستھرا ہے، یہاں کے لوگ بہت اچھے ہیں، جس طرح ہمیں یہاں احترام ملا، وہ لائق تحسین ہے۔ یہاں پہ کوئٹہ کے کافی لوگ بھی کاروبار کرتے ہیں۔

کلر کہار میں موسم خاصا خوشگوار تھا، ہم ناشتہ کر نے کے بعد کلر کہار سے روانہ ہوئے، ہمارا اگلا پڑاؤ سوات تھا، ہم براستہ M۔ 2 موٹر وے اسلام آباد تک پہنچے، کلر کہار اور اسلام آباد کا فاصلہ 132 کلومیٹر ہے، ہم اسلام آباد میں قیام کے مقصد سے نہیں آئے تھے، یہاں سے براستہ ایم۔ 1 سوات موٹر وے ( M۔ 16 ) سوات جانا تھا، اس روٹ کے ذریعے ہم خیبر پختونخوا میں داخل ہوسکتے تھے (لیکن ہم واپسی پر اسلام آباد بھی ضرور جائیں گے )

دوران سفر سوات موٹر وے پہ ہم دو بڑی سرنگوں سے بھی گزرے، اس موٹر وے پہ 21 پل (Bridges) بھی ہیں، سوات موٹر وے 160 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ اس موٹر وے کی تعمیر 2016 میں شروع ہوئی اور 2018 میں مکمل ہوئی ہے، اس کا دوسرا فیز 2022 میں شروع کیا گیا ہے۔

ہم فلک بوس پہاڑوں سے گھری وادی سوات جسے پاکستان کا سویٹزر لینڈ بھی کہا جاتا ہے میں بذریعہ این 45 داخل ہوچکے تھے، ہمارا پڑاؤ بحرین تھا، جو ایک خوبصورت سیاحتی مقام ہے۔

ہم چکدرہ میں داخل ہوئے، یہاں تھوڑی دیر کے لیے رکے، دریائے پنجکوڑہ کے ٹھنڈے پانی سے لطف اندوز ہوئے، ایک دو ساتھیوں نہائے بھی، مگر پانی بہت ٹھنڈا تھا، ہم نے صرف ہاتھ منہ دھونے پر اکتفا کیا، دوستوں نے تصاویر لیں۔ دریائے پنجکوڑہ شہر کے وسط سے گزرتا ہے اور سر سبز فلک بوس پہاڑ مزید اس کی خوبصورتی میں اضافہ کیے ہوئے ہیں، پانی کا بہاؤ تیز تھا، ہم نے دوپہر کا کھانا بھی یہاں ہوٹل میں کھایا۔

اسی دوران ہمیں ہوٹل کے باہر سندھی بزرگ ملا، جسمانی خد و خال سے پٹھان لگ رہا تھا، لیکن سندھی اس کی بالکل صاف تھی، مگر لہجہ پٹھانوں جیسا تھا، اس نے بتایا کہ اس کا تعلق قمبر شریف سندھ سے ہے لیکن کافی عرصے سے وہ یہاں رہائش پذیر ہے، یہ ایک خوبصورت اتفاق تھا کہ پختونوں کے دیس میں ہمیں ایک سندھی مل گیا۔

ہم اپنا سفر طے کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے، ایک چیز جس نے مجھے ورطہ حیرت میں ڈال رکھا تھا کہ سربفلک پہاڑوں پر گھروں کی تعمیر کیسے ممکن ہوئی، ان مکانوں کے مکین کیسے بلند چڑھائی چڑھتے ہیں، چکدرہ سے آگے بھی دوران سفر ہمیں گھروں کی تعمیر اس طرح نظر آئی۔

چکدرہ سے جیسے ہی نکلے تو موسم کافی خوشگوار ہو چکا تھا، یہاں سے ہم مینگورہ، مٹہ، مدین سے گزرتے ہوئے شام چھ بجے اپنی منزل ”بحرین“ پہنچے، دریائے سوات کے کنارے پر واقع یہ سیاحتی مقام واقعی خوبصورت ہے، لوگ بڑی تعداد میں یہاں سیر و تفریح کے لیے آئے ہوئے تھے۔

ہہت دلکش سماں تھا، خنکی اور بہتے پانی کا شور پر لطف لگا، سفر کی وجہ سے ہم بہت تھکے ہوئے تھے، لیکن اس دلفریب ماحول نے ہماری تھکاوٹ دور کردی۔

ہم نے سٹی اسٹار نامی ہوٹل میں قیام کا بندوبست کیا، سامان رکھنے کے بعد ، ہم چائے پینے کے لیے نکل گئے، پل کے قریب واقع کیفے کوئٹہ میں عمدہ چائے میسر تھی اور ساتھ ہی دریا کی تیز روانی سے لطف اندوز بھی ہوتے رہے، یہاں ہم دیر تک گھومتے رہے۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد ہمیں گہری نیند نے آ لیا۔

صبح بحرین میں چند مقامات کی سیر کرنے کے بعد، جن میں ایک جھیل بھی شامل تھی ہمارا اگلا پڑاؤ ”کالام“ تھا ”بحرین“ سے ہمارا قافلہ کالام کے لیے صبح نو بجے نکل پڑا، کالام بحرین سے ڈیڑھ گھنٹے کی دوری پر ہے، بحرین سے کالام کا راستہ تقریباً خستہ حال تھا، اس وجہ سے ہمیں وہاں پہنچتے پہنچتے تھوڑا زیادہ وقت لگا۔

سر سبز پہاڑوں کے بیچ دریا ہمارے ساتھ یا ہم دریا کے ساتھ چل رہے تھے مگر حقیقت یوں تھی کہ ساتھ ہونے کے باوجود ہم دونوں مخالف سمتوں کی جانب رواں دواں تھے۔ ہم جا رہے تھے، وہ آ رہا تھا، مگر یہ نہ ختم ہونے والا ساتھ تھا اس کا جوش اور روانی ہمیں گرما رہی تھی۔ دریا سرسبز و شاداب فصلوں، درختوں اور باغات کا سینہ چیرتے اور بل کھاتے ہوئے جانبِ منزل رواں دواں تھا۔

کالام پہنچتے ہی ہم مہو ڈنڈ جھیل کو دوڑ گئے۔ عام گاڑی تو وہاں نہیں جا سکتی ہے، پھر ہمیں وہاں کھڑی مخصوص گاڑی نے اٹھایا، اچھا خاصا کرایہ لیا۔ ایک مزید مہم کا آغاز ہوا چاہتا تھا، کھردری اور انتہائی بے ڈھنگی ناپختہ سڑک اور اس میں موجود گڑھے گاڑی ہچکولے کھاتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی۔

کالام سے مہو ڈنڈ جھیل تک اوشو، مٹلتان، گلیشیئر اور آبشار ایسے مقامات سے گزر ہوتا ہے۔ مہوڈنڈ جھیل سے آگے سیف اللہ جھیل بھی ہے لیکن وقت کی کمی کے باعث ہم جھیل سیف اللہ نہیں جا سکے، ہمارا قافلہ بھی مذکورہ مقامات پر سیاحت کے مزے لیتا رہا۔ آبشاریں حسن دوبالا کر رہی تھیں، ان کی سریلی آواز اور دھیمے پن نے ہمارے دل موہ لئے تھے۔ پانی کے شدید سرد ہونے کے باوجود ہمارے جذبات ٹھنڈے نہ پڑے تھے۔ ٹھنڈے چشموں سے سیراب ہونا تازگی کا سبب تھا۔

مہوڈنڈ جھیل کے مقام پر زیادہ ٹھنڈ تھی، ایسا لگ رہا تھا کہ جنوری کا کوئی سردی سے بھر پور دن ہو۔ شام گئے تک ہم وہاں گھومتے رہے اور حسین مناظر سے لطف اندوز ہوتے رہے، اس مقام پر پہاڑوں میں سے کچھ پہاڑ سرسبز اور کچھ ننگے دھڑنگے بھی تھے۔ دیار کی مہک ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ محنت مزدوری میں مشغول مقامی لوگ کوہستانی زبان بول رہے تھے۔

جھیل کو جاتے ایک مقام پلوگاہ بھی تھا۔ جانوروں کے ریوڑ تھے۔ لوگوں کے ہجرت کرنے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ عارضی رہائش گاہیں یعنی جھونپڑیاں بنانے سے زندگی کا اصل مفہوم سمجھ میں آ رہا تھا۔ لوگوں کا یہ طرزِ زندگی فطرت کے قریب تھا۔ عیش و عشرت سے مبرا زندگی خوبصورت لگی۔ درختوں کی اوٹ سے بہتا پانی سیاحوں کو سرشار کر رہا تھا جو مہوڈنڈ جھیل جوق در جوق پہنچے تھے۔
خیمے نما ہوٹل تھے، گھڑ سواری اور کشتی رانی کے مزے لوٹے جا رہے تھے حسیں و دلکش مناظر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیے جا رہے تھے۔ شہد کی دستیابی کے علاوہ ہمیں ایک جگہ ایک عمر رسیدہ شخص سلاجیت بھی بیچتے نظر آیا۔ مقام دلکش تھا مگر بھاگم بھاگ اور سفر کی دشواری نے مہرے ہلا دیے تھے۔

Facebook Comments HS