انسانی اسمگلنگ کے خلاف آگاہی کا عالمی دن


Sohail Ahmad usa

انسانی اسمگلنگ کا عالمی دن ہر سال 30 جولائی کو منایا جاتا ہے، اس دن کا مقصد بین الاقوامی سطح پر اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے شعور اجاگر کرنا ہے۔

2024 کا تھیم "انسانی سمگلنگ کے خلاف جنگ میں کسی بچے کو پیچھے نہ چھوڑیں“ کے موضوع کو لے کر کام کرے گا۔ عالمی سطح پر انسانی اسمگلنگ کا شکار ہونے والے ہر 3 افراد میں سے 1 بچہ ہوتا ہے۔ اس سال افراد کی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کی عالمی مہم بچوں کی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے تیز تر کارروائی پر فوکس کر رہی ہے۔ دنیا بھر میں اسمگلنگ کے متاثرین میں بچوں کی شرح بڑھ رہی ہے۔

بچوں کو اسمگلنگ کے دوران تشدد کا سامنا بالغوں کے مقابلے میں دوگنا ہوتا ہے، یو این او ڈی سی کی انسانی سمگلنگ پر عالمی رپورٹ (GLOTIP) کے مطابق صحارا افریقہ، شمالی افریقہ، لاطینی امریکہ اور کیریبین جیسے خطے غیر معمولی بوجھ برداشت کرتے ہیں، جہاں اسمگلنگ کا شکار ہونے والوں میں 60 فیصد بچے ہیں۔ مسلح تنازعات، وبائی امراض، معاشی مشکلات اور ماحولیاتی چیلنجز جیسے اوور لیپنگ بحرانوں کے درمیان، بچے تیزی سے اسمگلنگ کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آن لائن پلیٹ فارمز کے پھیلاؤ سے اضافی خطرات لاحق ہوئے ہیں کیونکہ بچے اکثر مناسب حفاظتی اقدامات کے بغیر ان سائٹس تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ اسمگلرز بچوں کو بھرتی کرنے اور ان کا استحصال کرنے کے لیے آن لائن پلیٹ فارمز، سوشل میڈیا اور ڈارک ویب کا استعمال کرتے ہیں، شکار کا پتہ لگانے، وسیع تر ناظرین تک پہنچنے، اور استحصالی ڈیٹا کو پھیلانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔

بچوں کی اسمگلنگ کے اسباب اتنے ہی زیادہ ہیں جتنے کہ بچوں کا استحصال کرنے کے طریقے۔ بچوں کو مختلف اقسام کی اسمگلنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جیسے جبری مشقت، جرائم یا بھیک مانگنا، غیر قانونی گود لینے کے لیے اسمگل کیا جانا، مسلح افواج میں بھرتی، اور آن لائن اور جنسی استحصال۔ ان سب کی بنیادی وجوہات بہت زیادہ ہیں، بشمول غربت، بڑھتی ہوئی ہجرت اور پناہ گزینوں کے بہاؤ کے درمیان غیر ساتھی بچوں کی ناکافی مدد، مسلح تنازعات، غیر فعال خاندان، اور والدین کی دیکھ بھال کی کمی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ کم آمدنی والے ممالک میں اکثر بچوں کو جبری مشقت کے لیے اسمگل کیا جاتا ہے، جب کہ زیادہ آمدنی والے ممالک میں بچوں کا جنسی استحصال بدستور جاری ہے۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کے ساتھ ساتھ تمام قبول شدہ ریاستوں میں بھی انسانی اسمگلنگ ایک گھناؤنا جرم ہے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے تاہم اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے دنیا کا ہر حصہ اس جرم سے شدید متاثر ہے۔ خاص طور پر غربت، جنگ اور خانی جنگی سے متاثرہ ممالک۔ جن میں ایشیائی ممالک میں افغانستان، سری لنکا خاص طور پر قابل ذکر ہیں تاہم اب پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں سے غیر قانونی طور پر ہجرت کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اس اسمگلنگ میں کئی افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں، مجبوری اور آگاہی سے لاعلمی زیادہ تر لوگوں کو اسمگل ہونے کی طرف دھکیل دیتی ہے کیونکہ انھیں ترک وطن کے قانونی راستے معلوم نہیں ہوتے۔ اقوام متحدہ کی 2020 کی ٹریفکنگ اِن پرسنز کی عالمی رپورٹ کے مطابق 2018 میں 46 فیصد متاثرین خواتین، 19 فیصد لڑکیاں اور 20 فیصد متاثرین مرد تھے جبکہ 15 فیصد لڑکے تھے۔

اقوام متحدہ کی ایک اور رپورٹ کے مطابق خواتین اور لڑکیاں انسانی اسمگلنگ کے متاثرین کا تقریباً 60 فیصد ہوتی ہیں جنہیں اپنے اغوا کاروں کے ہاتھوں جنسی استحصال اور تشدد کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ گزشتہ سال 30 جولائی 2023، جرائم کی روک تھام اور غیر قانونی انسانی اسمگلنگ کے خلاف منائے جانے والے عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرش نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ سب مل کر ایسی دنیا تعمیر کریں جہاں کسی کو خریدا یا بیچا نہ جا سکے اور نہ ہی کسی کو استحصال کا سامنا ہو۔ انہوں نے انسانی اسمگلنگ کو بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر مجبور لوگ اس جرم کا نشانہ بنتے ہیں اور یہ تنازعات اور عدم استحکام کے دنوں میں زیادہ زور پکڑتا ہے۔

اس وقت دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات، موسمیاتی بحران اور ملکی حالات سے ڈر کر بہتر طرز زندگی کی خواہش میں نقل مکانی کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ لوگ انسانی اسمگلروں کے ہتھے چڑھ رہے ہیں اور ان متاثرین میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، جن میں سے اکثر وحشیانہ تشدد، جبری مشقت، اور ہولناک جنسی استحصال اور بدسلوکی کا شکار بنتے ہیں۔ دنیا بھر میں اس جرم کی روک تھام پر زیادہ توجہ نہیں دی جا رہی جس کی وجہ سے انسانی اسمگلر بغیر کسی ڈر و خوف کے اپنا دھندا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ریاست کو اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فعال کرنا ہو گا اور بلا تفریق ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کرنی ہو گی جو اس گھناؤنے جرم میں شامل ہیں۔

جرائم اور منشیات کی روک تھام پر کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے یو این او ڈی سی کی ڈائریکٹر جنرل غازہ والی نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ انسانی اسمگلنگ کے شکار بہت سے لوگ گلی کوچوں، زیر تعمیر عمارتوں، کارخانوں، اور دوسرے عوامی مقامات پر کام کر رہے ہوتے ہیں اور دنیا ان سے بے خبر ہوتی ہے۔ یو این او ڈی سی کی انسانی اسمگلنگ پر عالمی رپورٹ 2022 کے اعداد و شمار کے مطابق انسانی اسمگلنگ کے 50 فیصد سے زیادہ واقعات متاثرین یا ان کے اہل خانہ کے ذریعے سامنے آتے ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کا بروقت کھوج لگانے اور متاثرین کو تحفظ دینے میں ناکام رہتے ہیں۔

غازہ والی کا کہنا ہے کہ یہ بھی مشاہدے میں آ رہا ہے کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کی سزاؤں کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے جس سے اس دھندے میں ملوث جرائم پیشہ لوگ مزید دلیر ہوتے جا رہے ہیں۔

غازہ والی نے کہا کہ انسانی سمگلنگ سے متاثر ہر فرد تک پہنچنے کے لیے کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے، جس میں ان کا پتہ لگانے، مقدمات کی تفتیش، اور ملوث افراد کے خلاف ٹھوس قانونی کارروائی کرنا شامل ہیں۔ ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ انسانی اسمگلنگ کا شکار ہونے والا کوئی بھی فرد نظر انداز نہ ہو۔

معصوم اور مجبور انسانوں کے خلاف اس جرم کو روکنے کے لیے سول سوسائٹی کی تنظیمیں، پرائیویٹ سیکٹر، اور کمیونٹیز کا بیداری بڑھانے، معاونت فراہم کرنے، اور پالیسی اصلاحات کی وکالت کرنے میں اہم کردار ہے۔

جیسا کہ ہم 30 جولائی 2024 کو افراد کی اسمگلنگ کے خلاف دسواں عالمی دن منا رہے ہیں تو مروجہ خامیوں کو دور کرنا اور ملکی، مقامی اور عالمی سطح پر انسانی اسمگلنگ اور اسمگلروں کے خلاف کارروائی کو تیز کرنا بہت ضروری ہے۔

Facebook Comments HS