سقوط ڈھاکہ؛ مارشل لاء پالیسیاں اور فوجی آپریشن


 

عمران خان نے اسی سال ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ‘ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہیے کہ اصل غدار تھا کون؛ یحییٰ یا مجیب’، اور اس میں شامل ویڈیو میں یحییٰ کو غدار اور پاکستانی فوج کو سانحہ مشرقی پاکستان کا مکمل ذمہ دار ٹہراتے ہوئے بہت سے الزامات لگائے ہیں۔

اسی موضوع پر میرے پچھلے مضامین میں سے پہلا عمران کی اس ٹویٹ کو کرنے کے ممکنہ مقصد اور دوسرا سقوط ڈھاکہ کے ایک محرک یعنی مجیب اور بھٹو کے اقتدار کی باہمی کشمکش کے خلاصے پر مشتمل ہے۔ اس مضمون میں اب میں ایوب کے مارشل لاء کی پالیسیوں کے نتائج اور یحییٰ کی کمان میں ہوئے فوجی آپریشن پر لگے الزامات کا مختصر الفاظ میں احاطہ کرنے کی کوشش کروں گا اور پچھلے دو مضامین کی طرح آخر میں اس ضمن میں مزید پڑھی کتابوں کا حوالہ دے دوں گا۔

عمران نے اپنی ٹویٹ میں رپورٹ کا حوالہ دے کر کہا ہے کہ ‘پاکستان کے دو لخت ہونے کے ذمہ دار اخلاقی دوالیہ پن کا شکار کرپٹ اور بزدل جنرل تھے جنہوں نے بغاوت کو روکنے کا بہانہ بنا کر ایسٹ بنگال رجمنٹ کے افسران، بزنس مین، انڈسٹریلسٹ اور ہندو اقلیت کا قتل کیا۔ بہت بڑی تعداد میں اس وقت کے افسران اور جوانوں نے بنگالی عورتوں کا ریپ کیا، مقتول افراد کو اجتماعی قبروں میں دفن کیا اور یہ سلسلہ آپریشن کے آغاز سے جنگ کے اختتام تک جاری رہا’۔

سب سے پہلے تو انتہائی اہم بات یہ ہے کہ رپورٹ خود ہی پاکستانی فوج پر ان الزامات کو ‘مبینہ الزامات’ قرار دیتی ہے اور پھر قتل اور ریپ کے مجموعی الزامات کو اپنے تجزیہ میں رد کرتی ہے۔ یہ تجزیہ اس اقرار کے ساتھ ہے کہ مسلح بغاوت کے ردعمل میں کیے گئے فوجی آپریشن میں یقیناً بے گناہ بنگالی بھی نشانہ بنے اور یہ کہ فوجی کمان کی طرف سے نہتے بنگالیوں کے جان و مال کے خلاف جرائم کو روکنے کے لیے بارہا احکامات جاری کیے گئے اور ڈسپلن کی خلاف ورزی پر سزائیں بھی دی گئیں۔ اسکے علاوہ باغیوں کی طرف سے غیر بنگالیوں کے قتل، ریپ اور ایک سٹریٹیجی کے تحت ان کی املاک کو تباہ کرنے کی شہادتوں کا بھی ذکر ہے۔

انیس سو چوہتر میں مکمل ہوئی اس رپورٹ کے علاوہ اس موضوع پر مزید بہت کچھ لکھا جا چکا ہے جس کا دائرہ کار پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش اور انڈیا تک کے افراد کے انٹرویوز اور ریکارڈ کی پڑتال پر بھی مشتمل ہے۔ ایسے ہی سورسز میں جو کچھ عمران کی ٹویٹ میں پاکستانی فوج پر لگائے الزامات کے بارے میں شامل ہے اس کا خلاصہ دینے سے پہلے، میں بنگلہ دیش بننے کے عوامل کی جڑ میں موجود ایوب کے لگائے فوجی مارشل لاء اور پھر یحییٰ کی پالیسیوں کے ایوب دور سے فرق کا ذکر کرنا چاہوں گا۔

مجھے یہ بہت اہم لگتا ہے کہ عمران نے اپنی ٹویٹ میں خاص طور پر ایوب کا ذکر نہیں کیا ہے حالانکہ رپورٹ خود ہی اس کے مارشل لا کو سقوط ڈھاکہ کے بنیادی محرکات میں سے گردانتی ہے۔ انیس سو چھپن کے آئین نے اتفاق رائے کا وہ آخری موقع دیا تھا جب پاکستان کے مشرقی اور مغربی حصے ایک متحدہ ملک کے طور پر قائم رہ سکتے تھے لیکن ایوب نے اس آئین کو توڑا، ملک کے مروجہ سیاسی عمل کو بنیادی جمہوریتوں کے سسٹم سے ختم کیا اور اسی دھاندلی کے تحت کرائے الیکشن میں پورے ملک کی اپوزیشن کی متفقہ امیدوار فاطمہ جناح کو شکست سے دوچار کیا۔ یہ ایک بدقسمت حقیقت ہے کہ اس الیکشن میں خود مجیب نے فاطمہ جناح کی انتخابی مہم چلائی تھی لیکن نتائج کے بعد بنگلہ دیش کے قیام کی بنیاد بنے چھ نکات کا پرچارک بن گیا۔

یحییٰ نے اقتدار اس دور میں سنبھالا تھا جب ملک ایوب کے خلاف چل رہی تحریک کے باعث شدید بدامنی کا شکار تھا۔ یحییٰ نے جلد ہی بدامنی پر قابو پا لینے کے علاوہ ون یونٹ پالیسی اور سیاسی پارٹیوں پر لگی پابندی کو ختم کیا اور ملک میں ون مین ون ووٹ کے اصول پر الیکشن کرانے کا اعلان کر دیا۔ اس نے سیاسی جماعتوں کو الیکشن کمپئین چلانے کی پوری آزادی دی اور دسمبر انیس سو ستر میں الیکشن کرا دیئے۔ چونکہ الیکشنز کے بعد کی سیاسی کشمکش کا سقوط ڈھاکہ سے تعلق کا ذکر میں اپنے پچھلے مضمون میں کر چکا ہوں اس لئے اب عمران کی ٹویٹ میں موجود فوج پر لگائے الزامات کی طرف لوٹتا ہوں۔

خود رپورٹ میں پاکستانی فوج پر لگے مبینہ الزامات پر دی گئی وضاحت کے علاوہ ایسے واقعات کا تفصیلاً ذکر ہندوستانی نژاد محقق سرمیلا بوس نے بھی اپنی کتاب میں کیا ہے۔ یہ کتاب مشرقی پاکستان میں بغاوت کے دوران ہوئے جنگی جرائم کے تجزیہ پر مشتمل ہے جس کا ریفرنس میں اس سلسلہ میں لکھے اپنے پہلے مضمون میں دے چکا ہوں۔ عمران نے ایسٹ بنگال رجمنٹ کے فوجیوں کی اپنے ہی یونٹس کے ویسٹ پاکستانی فوجیوں کے خلاف شروع کی گئی کارروائیوں پر ردعمل کے واقعات کو انہیں قتل کرنے کا ایک بہانہ کہا ہے۔ جبکہ سرمیلا مشرقی پاکستان کی کنٹونمنٹس میں ہوئے انفرادی واقعات کے پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے لکھتی ہے کہ ‘ایسٹ بنگال رجمنٹس میں بنگالی آفیسرز اور جوانوں (جو مکتی باہنی کا حصہ بن چکے تھے) نے بہت سی یونٹس میں اپنے سے تعداد میں نسبتاً کم (حتیٰ کہ کچھ نہتے) ساتھی ویسٹ پاکستانی آفیسرز اور ان کی فیملیز کو قتل کیا’۔

اس ضمن میں یہ نوٹ کرنا بھی ضروری ہے کہ عوامی لیگ کے عسکریت پسندوں کی کارروائیاں انتقال اقتدار کے لئے جاری مذاکرات کے دوران ہی شروع ہو چکی تھیں۔ اس بارے میں سرمیلا اپنی کتاب میں لکھتی ہے کہ ‘بنگالی نیشنلزم کے نام پر شروع ہوئی پرتشدد کاروائیوں میں غیر بنگالی مرد، عورتوں اور بچوں کو قتل کیا گیا جیسے چٹاگانگ کی ہاؤسنگ کالونیز میں، کرنافلی ملز میں، کھلنا کی جوٹ مل کالونیز میں، جیسور میں ویسٹ پاکستانی بزنس مینوں کا قتل وغیرہ’۔ کمیشن رپورٹ میں عمران کے لگائے الزام کہ پاکستانی فوج نے بزنس مین اور انڈسٹریلسٹ کا قتل کیا کے ذکر کو صرف مبینہ الزامات کی لسٹ میں ہی رکھا ہے جبکہ سرمیلا نے ایسے ہوئے کسی قتل کا ذکر نہیں کیا۔

عمران کا پاکستانی فوج پر یہ الزام کہ ہندو اقلیت کا قتل کیا گیا اس حقیقت کے ذکر کے بغیر ہے کہ انڈیا سرحد کے قریب موجود کیمپوں میں ہزاروں ہندو نوجوانوں کو گوریلا ٹریننگ دے رہا تھا جو آخرکار پاکستانی فوج کے مدمقابل آئے۔ اس بارے میں سیسون اینڈ روز اپنی کتاب جس کا ریفرنس میرے پچھلے مضمون میں ہے لکھتے ہیں ‘ویسٹ بنگال اور تری پورہ کے کیمپوں میں نوجوان ہندو مکتی باہنی میں رضاکارانہ شمولیت کے لیے رفیوجی کیمپوں کو چھوڑ رہے تھے’۔ جبکہ سرمیلا نے اپنی کتاب میں بڑی تفصیل سے ان واقعات کا ذکر کیا ہے جن میں پاکستانی فوج پر ہندوؤں کے اجتماعی قتل کا الزام لگایا گیا مگر ان میں خود بنگالیوں کے تقسیم ہند کے ہندو مسلم فسادات کی طرز پر ملوث ہونے کی نشاندہی کی ہے۔

اسکے علاوہ بنگالی عورتوں کے ریپ پر خود رپورٹ اور دیگر کتابوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ الزامات بہت بڑی حد تک مبالغہ آرائی کا نتیجہ تھے۔ مثال کے طور پر رپورٹ میں یہ نوٹ کیا گیا کہ ‘بنگلہ دیشی حکام کے مطابق پاکستانی فوج تیس لاکھ بنگالیوں کے قتل اور دو لاکھ عورتوں کے ریپ میں ملوث تھی، لیکن اس بارے میں کسی طویل بحث کی ضرورت نہیں کہ اگر تمام پاکستانی فوج کے پاس اس کام کے علاوہ کچھ اور کرنے کو نہیں بھی ہوتا تو وہ ایسا نقصان نا کر پاتی’۔ رپورٹ البتہ یہ نوٹ کرتی ہے کہ ‘یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ پرتشدد کارروائیوں کا آغاز عوامی لیگ کے عسکریت پسندوں کی طرف سے کیا گیا اور اس چیز کے مستند ثبوت ہیں کہ اس دوران وہ پرو پاکستانی لوگوں کے خلاف بہت بڑے سکیل پر قتل اور ریپ میں ملوث تھے’۔

اجتماعی قبروں کی معاملے میں سرمیلا نے ایک جرنلسٹ اور پروفیسر ولیم ڈرمنڈ کا گارڈین اخبار میں آرٹیکل ‘دا مسنگ ملین’ کا ذکر کیا ہے جو بنگلہ دیش بننے کے بعد چھپا تھا۔ ولیم لکھتا ہے کہ ‘یقیناً پورے بنگلہ دیش میں اجتماعی قبریں موجود پائی گئیں مگر پاکستان سے شدید نفرت کرنے والوں نے بھی اب تک اس بات پر اصرار نہیں کیا کہ ان سب میں ہزار سے زیادہ لوگ دفن ہیں۔ اسکے علاوہ اگر کسی کی لاش اجتماعی قبر سے ملی بھی تو یہ ضروری نہیں کہ اس کا قتل پاکستانی فوج کے ہی ہاتھوں ہوا ہو’۔ سیسون اینڈ روز نے اس بارے میں مزید لکھا ہے کہ ‘ان الزامات کو بنیاد بنا کر انڈیا کے پاس پاکستان کو بدنام کرنے کا اچھا موقع تھا، اور مغربی ممالک کا (زیادہ تر) پریس بغیر تصدیق کے (سقوط) ڈھاکہ کے متعلق ایسی ڈراؤنی کہانیوں پر یقین کرنے پر بہت آمادہ ثابت ہوا’۔

مندرجہ بالا تفصیل کا مقصد ہرگز پاکستانی فوج کے کیے جنگی جرائم پر پردہ ڈالنا نہیں اور ایسے کچھ واقعات کا ذکر خود میرے مضامین میں ذکر کی گئی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ میں نے یہ مضمون لکھنے کے لیے مندرجہ ذیل مزید کتابوں کو پڑھا اور ریفرنس دی گئی کتابوں کو بنیادی حقائق پر آپس میں متفق پایا ہے۔

1- دا سیپریشن آف ایسٹ پاکستان؛ حسن ظہیر
2- پاکستان اے ڈریم گان ساور ؛ روئیداد خان
3- اے جرنی ٹو ڈس ایلوژنمنٹ؛ شیر باز خان مزاری

Facebook Comments HS