آخر کرم فرقہ ورانہ فسادات کی زد میں کیوں؟


پارااچنار پاکستان کے قبائلی علاقے ضلع کرم کا دار الحکومت اسلام آباد سے مغرب کی طرف 574 کلومیٹر کے فاصلے پر افغانستان کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔ ضلع کرم میں علاقے قبائل اور فرقوں کی بنیاد پر تقسیم ہیں۔ اپر کرم کے علاقے تری مینگل اور غوز گڑھی میں اکثریت کا تعلق اہلسنت جبکہ پیواڑ اور کونج علیزئی میں مقیم افراد کا تعلق اہل تشیع برادری سے ہے۔ کرم ماضی میں دہشت گردی اور فرقہ ورانہ فسادات کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ اپر کرم میں زیادہ تر شیعہ فرقے کے طُوری قبائل جبکہ سینٹرل اور لوئر کرم میں زیادہ تر سنّی آباد ہیں۔

افغان جہاد میں کرم کو سٹریٹیجک اہمیت حاصل تھی کیونکہ طالبان یہاں سے افغانستان کے اندر گوریلا حملے کرنے کے منصوبے بناتے تھے، کیونکہ افغانستان کے صوبہ ننگرہار اور پکتیکا میں جانے کے لیے کرم سے بآسانی راستہ مل جاتا تھا۔

2010 میں حاصل ہونے والی حساس معلومات کے مطابق طالبان کرم کو گیٹ وے ٹو افغانستان سمجھتے ہیں اور کرم کے راستے افغانستان اور پاکستان میں آمد و رفت کو ایک محفوظ راستہ سمجھتے ہیں۔ جب کہ لوئر کرم میں سدّہ میں تربیتی مراکز کے قیام اور یہاں سے پاکستان کے باقی حصوں اور اہم شاہراؤں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے علاقے کا مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ طالبان کو ایک چیز کا بہ خوبی اندازہ ہے کہ 40۔ 45 فیصد شیعہ آبادی جو ان کے متشدد نظریات سے ہم آہنگ نہیں اس کی موجودگی میں علاقے کا کنٹرول سنبھالنا ممکن نہیں، لہٰذا طالبان منصوبہ بندی کے ذریعے ایسے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ یہ افراد یا تو ختم کر دیے جائیں یا وہاں سے کسی اور جگہ ہجرت کر جائیں۔

تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی افغانستان میں طالبان کو تقویت ملتی ہے طالبان اپنے اسی مقصد کو پورا کرنے کی کوشش تیز کر دیتے ہیں۔ اور یوں پاکستان کے سرحدی علاقوں خصوصاً کرم پر سرحد پار سے حملوں میں اضافہ ہو جاتا ہے اور کرم کا علاقہ فرقہ ورانہ کشیدگی کی زد میں آ جاتا ہے۔

طُوری قبیلہ طالبان کا افغان سرحد سے قبائلی علاقوں اور خاص کر کرم میں داخل ہونے کا راستہ روکتا رہا ہے۔

2006 میں طالبان نے پاراچنار کی ایک مسجد پر قبضہ کر کے یہاں اپنے قدم جمانے کی کوشش کی تھی جس کے نتیجے میں مقامی لوگ، خاص کر طُوری قبیلے نے اس کی شدید مزاحمت کے ساتھ ساتھ 2007 میں باقاعدہ ان کے ساتھ لڑائی لڑی تھی۔ 2008 میں مقامی لوگوں کے انتظامیہ کو بار بار کہنے پر بھی جب کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا تو جرگے میں بڑوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود مقامی لوگوں پر مشتمل جنگجو فوج تیار کریں گے جو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے لڑے گی۔

سابق سینیٹر افراسیاب خٹک کے مطابق ’مہمند، باجوڑ اور دیگر علاقوں کی طرح یہاں سے بھی طالبان جا کر افغانستان میں لڑائیاں لڑتے رہے ہیں اور وار لارڈ بن جاتے ہیں۔ وہ طالبان کی تائید اور حمایت سے یہاں کرم میں بھی غلبہ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن مقامی سطح پر بھی لوگ لڑتے ہیں اور ان کا غلبہ قائم ہونے نہیں دیتے۔ یہ لڑائیاں فرقہ ورانہ شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ اس لڑائی میں ایسے دیہات بھی شامل ہوئے جن کی آبادی پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے آرپار مقیم ہے۔ اس دوران سرحد پار سے بھی اہلسنت قبائل کو مدد حاصل رہی ہے۔

حکومتی اتحاد کے رکنِ قومی اسمبلی انجینئر حمید حسن کا کہنا ہے کہ موجودہ تنازعہ 100 کنال زمین کی ملکیت کا برسوں پرانا تنازعہ ہے۔ ایسا تنازعہ فرقہ واریت میں بدلنے میں چند منٹ لگتے ہیں۔ جب تنازعہ شروع ہوتا ہے تو اس وقت ہی کچھ شرپسند لوگ فعال ہو جاتے ہیں۔ علاقوں اور مساجد میں اعلانات شروع ہو جاتے ہیں۔ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، افواہیں پھیلائی جاتی ہیں اور لوگوں کو اپنے اپنے فرقے کے نام پر بلایا جاتا ہے۔ یوں یہ لڑائی پھیل جاتی ہے اور دونوں فریق مورچہ زن ہو جاتے ہیں۔

اگر مقامی اور علاقائی مسائل حل نہیں کیے جاتے تو سازشیں کرنے والوں کو مواقع ملتے ہیں۔ اگر حکومت اور انتظامیہ پہلے ہی زمین کے تنازعہ کو حل کرتی تو کبھی بھی ایسے نہ ہوتا۔

Facebook Comments HS