پاکستانی تیراک جہاں آرا نبی: کیچڑ میں کھلا کنول


dr tehreem javaid

ہر چار سال بعد پاکستان کا نام ڈوب ڈوب جاتا ہے جب اولمپکس میں ہم شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ امسال بھی یہی تماشا جاری ہے۔ کوئی ساتھ جانے والے سیاست دانوں پہ جملہ بازی میں منہمک ہے تو کوئی ُ پہائی شکر کرو ہالے ڈبیا نہیں ُ جیسی جگتیں لگانے میں مصروف ہے۔ 25 کروڑ آبادی کا یہ ایشیائی ٹائیگر زوال کی ان اتھاہ گہرائیوں کو کیونکر پہنچا سوچنا تو بنتا ہے۔

روٹی کپڑے مکان کی لاحاصل دوڑ میں لگی اس مملکتِ خداداد کی کتنی آبادی ہے جو تیراکی جیسا شوق افورڈ کر لیتی ہے؟ اور رزق کی تلاش میں سر گرداں والدین میں سے کتنے ہیں جو بیٹیوں کی تیراکی کے لیے وقت اور حوصلہ دونوں نکال سکتے ہیں؟ شہری علاقے جو بمشکل پاکستان میں 35 فیصد ہیں۔ ان میں آخر کتنے باپ ہیں جن کا اسلام بیٹی کے غوطے کھانے سے جوش نہیں کھا جاتا۔

دین اسلام دنیا کے 57 ممالک میں موجود ہے لیکن شرم حیا اور پردے کے جو معانی اس خطے میں نازل ہوئے شاید ہی باقی دنیا میں اس کی کوئی نظیر ملے۔ سعودی عرب ہمارا دینی مائی باپ رہا ہے (مادی ابو امریکہ ہے) تو سعودی عرب تک کی خواتین ان مقابلوں میں موجود ہوتی ہیں لیکن ہائے ہمارا پردہ۔

لیجیے پردہ اٹھ گیا۔ منظر ہے دو ہزار چوبیس کا اور اولمپکس میں رواں دواں ہے پاکستان کا قافلہ پورے سات لوگوں کے ساتھ جس میں تین عدد لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ ایک نے ٹریننگ پیرس اور ایک نے تھائی لینڈ سے حاصل کی ہے۔ کیونکہ اس ملک میں عورتوں کا کام بس کھانا پکانا، رونا، مار کھانا، وغیرہ رہ گیا ہے۔ ٹانگیں کٹوانا، تیزاب پھنکوانا، گلا کٹوانا، سر قلم کروانا وغیرہ پاکستانی عورت کے مزید پسندیدہ اشغال ہیں۔

ارے دور کیوں جاتے ہیں کچھ وقت پہلے ہی لاہور کے روشن شہر میں ایک عورت کو شہر بھر کے غنڈے گھیر کر کھڑے ہو گئے تھے کہ حلوہ لکھا لباس کیوں پہنا۔ کیونکہ عورت کو کیا پہننا ہے سوچنا ہے بولنا ہے یہ فیصلہ تو مرد ہی کر سکتا ہے۔ ناقص العقل عورت کو آخر آتا ہی کیا ہے سوائے بچے پیدا کیے جانے اور پالنے کے۔

کھیل کا شعبہ ہی نہیں ہر میدان میں ہم بحیثیتِ قوم جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔ سائنس میں ہمارے رول ماڈل ساحل عدیم اور حماد صافی ہیں۔ صحافت میں صابر شاکر اور عمران ریاض ہیں۔ شاعری کا شعبہ تہذیب حافی اور نسیم خان سنبھالے بیٹھے ہیں۔ ادب تو ہمیشہ سے شہابیوں کے حوالے تھا۔ رہے نام اللہ کا۔

ایک وقت تھا کہ یہ ملک اسلامی دنیا میں پہلی خاتون وزیراعظم بی بی شہید کا پاکستان تھا۔ اور آج ہماری بچیاں اس ملک سے زندہ بھاگنے پہ مجبور ہیں۔ ترقیِ معکوس کا یہ سفر ایک دن میں طے نہیں ہوا۔ قوم سے ہجوم بننے میں ہم نے بڑا لمبا سفر کاٹا ہے۔

اس سفر میں ہر وہ شخص جو اس ہجوم سے باہر نکلنے کی جدوجہد کرنے والی لڑکی کی ٹانگیں کھینچتا ہے۔ قابلِ افسوس ہے۔ آپ وہ باپ تو نا بن سکے جو بیٹی کے شوق کی حوصلہ افزائی کر سکے۔ وہ بھائی نا بن سکے جس کی کھلاڑی بہن اس کے لیے ڈوب مرنے کا مقام نا ہو۔ تو وہ سوشل میڈیا یوزر بھی نا بنیں جس کے عظیم ملک کا وقار جہاں آرا نبی کے میڈل نا جیت پانے سے مجروح ہوا جا رہا ہو۔

جہاں آرا تم ان لاکھوں عورتوں کے لیے امید ہو جو ڈاکٹر اور استانی کے علاوہ کچھ بننا چاہتی ہیں۔ جو غیر محفوظ، غیر روایتی پروفیشنز سے منسلک ہونے کا خواب دیکھتی ہیں۔ تم ہر اس پاکستانی عورت کی نمائندہ ہو جو سوچتی ہے۔ بولنا چاہتی ہے۔ جو لوگ کیا کہیں گے کی فکر سے آزاد ہو کر کچھ کرنا چاہتی ہے۔ راستے کے کتوں سے ڈر کر اپنا راستہ نا چھوڑنا جہاں آرا۔ تم اس جہالت کے کیچڑ میں ِکھلا کنول ہو۔

Facebook Comments HS

One thought on “پاکستانی تیراک جہاں آرا نبی: کیچڑ میں کھلا کنول

  • 31/07/2024 at 10:34 شام
    Permalink

    very sketchy knowledge and writeup off-track to the actual topic
    after 18th amendment sports is a provincial subject so one can imagine who is to construct and provide sports facilities to male and female athletes
    this by itself is a different subject

    Armed Forces have good sports facilities for both men and women from Rifle shooting to archery, squash to track and field sports, rowing, yachting and above all swimming
    and boxing

    all three forces have good female swimmers
    as they have no issue you have indicated

    In Karachi, even girls are doing fencing and weight lifting to boxing / water sports

    Unluckily boards are nothing but political arena in which no one but sports and sportsmen and served for death

    There are even cases that girls rowing are from karachi and board officials are from

    Punjab who select their loved ones from Punjab for intl events leaving merit to death

    Loss to no one but sports and merit

Comments are closed.