انگریزی ادب پڑھانے والا ایک استاد
اس زبان سے ایک خاص چِڑ سی رہی ہے، بقولِ انور مسعود صاحب؎
دوستو انگلش ضروری ہے ہمارے واسطے
فیل ہونے کو بھی اک مضمون ہونا چاہیے
لیکن کیا کیجئے اس نامراد میں بقولِ بابا جی فیل ہو جائیں تو آپ ڈگری (اصلی والی) نہیں حاصل کر سکتے چاہے آپ نے بقیہ تمام مضامین میں ٹاپ و ٹاپ کیا ہو۔
ہم ٹھہرے ٹاٹ و گورنمنٹ سکول والے، اس لئے پڑھنے کی طرف جو تھوڑی سی رغبت ہے وہ اردو ہی کی ہے۔
محترم شاہد صدیقی صاحب نے اپنے ایک کالم میں انگریزی ادب پڑھانے اور سمجھانے کے اسلوب کا ذکر کیا، تو کالج دور کا ایک پرانا اسلوب یاد آ گیا، سوچا ہم بھی اس کارِخیر میں حصہ ڈال دیں۔
انیس سو نوے کے بعد گیارہویں کلاس میں داخل ہوئے تو پتا چلا انٹر کالج جہلم (اس وقت انٹر ہی تھا آج کل ترقی ہو چکی ہے ) میں انگریزی کے دو پروفیسر ہیں، ایک رشید صاحب جو کہ کافی حلیم الطبع یعنی ٹھنڈی ٹھار شخصیت کے مالک ہیں جبکہ دوسرے پروفیسر اعظم کھوکھر صاحب جو کہ کالج میں بھی طلباء کو ”کُٹ“ لگانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ اب دعاؤں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے کہ یا اللہ دسویں تک تو بہت پھینٹا کھایا ہے، سوچا کالج جا کر کچھ آزادی ملے گی، یا پروردگار یہ کیسا معاملہ ہے۔
بہرحال دعائیں نامقبول ٹھہریں اور کھوکھر صاحب ہمارے پروفیسر نامزد ہو گئے۔
پہلے دن لیکچر کے لئے ہال میں بیٹھے تھے کہ کھوکھر صاحب کی آمد کا غلغلہ ہوا، رونمائی نے ایک بار پھر دل و دماغ کو ہلا ڈالا۔ اونچا لمبا قد جسے جناح کیپ نے کچھ مزید بڑھاوا دے دیا تھا، کافی صحت مند جسامت اور شرعی ریش مبارک۔ کُٹ والے تمام لوازمات سے آراستہ پروفیسر صاحب نے السلام علیکم کہا تو گونجدار آواز نے تمام خدشات پر مہر ثبت کر دی۔ یعنی ایف اے انگریزی کے دو سال دما دم مست قلندر ہی ہوں گے ۔
تعارف کے بعد ، کھوکھر صاحب نے کتاب کھولی اور پہلے مضمون کا عنوان باآوازِ بلند پڑھا:
His First Flight
یعنی اس کی پہلی اڑان، اور ہماری پہلی تھکان۔
فرمایا اپنی کتابیں بند کر دیں اور توجہ میری طرف، اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ کسی کے بھی وہم و گمان میں نہیں تھا کیونکہ ایسا طرزِ تعلیم اور پڑھانے کا اسلوب نہ دیکھا نہ سنا۔
کھوکھر صاحب نے کہا، یہاں اکثریت گاؤں کے سکولوں سے پڑھ کر آتی ہے جن کے لئے انگریزی ادب پڑھنا اور سمجھنا بہت مشکل ہوتا ہے اس لئے پہلے میں آپ کو یہ ساری کہانی پنجابی میں سناؤں گا اس کے بعد ہم انگلش کی طرف آئیں گے۔
اسکے بعد انہوں نے کہانی سنانے کا آغاز کیا،
اے اک بگلے دی کہانی اے جنوں اڈن تو ڈر لگدا سی۔
کہانی سنانے اور سمجھانے کے بعد انہوں نے کلاس سے پوچھا کہ اس کا اخلاقی نتیجہ بتائیں،
ایک طالبعلم نے جواب دیا:
” اودی اماں نے آکھیا کہ پتر جے تو اڈیا نا، تے فیر تینوں روٹی وی کوئی نہیں لبھنی۔“
اس پر کلاس میں ایک جاندار قہقہہ بلند ہوا جس میں سب سے بلند آہنگ آواز کھوکھر صاحب کی تھی۔
یہ تھا انگلش کا سفر جو ڈر سے شروع ہو کر قہقہے پر ختم ہوا۔


