تھیلیسیمیا سکریننگ کا شعور اجاگر کرنے کی ضرورت
تھیلیسیمیا ایک جینیٹک بیماری ہے جس کے پھیلنے کی بڑی وجوہات لاپروائی، ناخواندگی، خاندان میں شادی کی روایت اور حکومتی پالیسیوں کا فقدان ہیں۔ ایک سروے کے مطابق تھیلیسیمیا کے مریض زیادہ تر ایشیا، افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں پائے جاتے ہیں جبکہ دنیا کی 15 فیصد آبادی تھیلیسیمیا کی کیرئیر ہے۔
تھیلیسیمیا کیا ہے؟
تھیلیسیمیا ایک موروثی بیماری ہے جو ایسے جینز ابنارمل ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے جو خون کے سرخ خلیوں میں موجود جسم میں آکسیجن لے کر جانے والی سرخ پروٹین ہیموگلوبن بناتے ہیں، چونکہ بچہ اپنی ہر خصوصیت کے لئے دونوں والدین سے ایک ایک جین لیتا ہے تو اگر والدین کا ایک جین ابنارمل ہے (کیرئیر والدین) تو وہ بچے میں جا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر دونوں والدین کیرئیر ہیں تو بچہ تھیلیسیمیا میجر ہو سکتا ہے یعنی اسے تھیلیسیمیا کی بیماری ہو سکتی ہے۔ لہذا ہر پریگنینسی میں تھیلیسیمیا میجر کے بچے کے پیدا ہونے کے امکانات 25 فیصد ہوتے ہیں۔ ایسے بچے اندازہ 8 سے 9 سال تک زندہ رہ سکتے ہیں اور اس دوران انہیں مسلسل خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے بچے اندازہ 8 سے 9 سال تک زندہ رہ سکتے ہیں اور اس دوران انہیں مسلسل خون کی ضرورت ہوتی ہے۔
تھیلیسیمیا کو روکا کیسے جائے؟
تھیلیسیمیا کا حل صرف خون کا ایک ٹیسٹ ہے جو شادی سے پہلے کروایا جاتا ہے، اگر دو کیرئیرز آپس میں شادی نہ کریں تو تھیلیسیمیا سے مکمل بچاؤ ممکن ہے۔ اگر دو لوگوں میں سے ایک بھی کیرئیر ہو گا تو مسئلہ نہیں مگر ان کے بچے بھی کیرئیر ہوں گے۔ دنیا بھر میں شادی سے پہلے تھیلیسیمیا سکریننگ کا قانون موجود ہے اور بہت سے ممالک اس پر سختی سے عمل درآمد کروانے کے بعد تقریباً تھیلیسیمیا فری قرار دیے جا چکے ہیں۔ ان میں سائپرس، یونان، اٹلی، ایران، انڈونیشیا، یو کے اور یو ایس اے وغیرہ شامل ہیں حتی کہ فلسطین جیسا جنگ زدہ علاقہ بھی تقریباً تھیلیسیمیا فری ہے۔
پاکستان میں شادی سے پہلے تھیلیسیمیا سکریننگ کا قانون خیبر پختون خوا اور سندھ میں موجود ہے مگر اس پر عمل نہیں ہوتا۔ پنجاب میں 2017 میں تھیلیسیمیا سکریننگ بل پاس کیا گیا مگر ابھی تک اسے قانونی شکل دے کر نافذ نہیں کیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستان میں تھیلیسیمیا کا پھیلاؤ جو 2006 کی ورلڈ ہیلتھ رپورٹ کے مطابق 5 فیصد تھا آج بھی اتنا ہی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ہر سال پاکستان میں 6000 بچے تھیلیسیمیا میجر کے پیدا ہوتے ہیں جبکہ مقامی سرویز اور اندازے کے مطابق اس کا پھیلاؤ 10 فیصد ہے۔
2017 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 24 کروڑ تھی جو کہ اب تقریباً 27 کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ اس حساب سے پاکستان میں اڑھائی کروڑ لوگ تھیلیسیمیا کے کیرئیر ہیں۔ اگر شادی سے پہلے اس کی تشخیص نہ ہو تو پریگنینسی میں تشخیص ممکن ہے۔ یہ ٹیسٹ پہلے 10 سے 14 ہفتوں کے درمیان کیا جاتا ہے اور اگر بچے میں تھیلیسیمیا کی بیماری ہو تو مفتی تقی عثمانی نے فتویٰ دیا کہ اسقاط حمل جائز ہے۔
تھیلیسیمیا کا علاج صرف بون میرو ٹرانسپلانٹیشن سے ممکن ہے جو بہت مہنگا ہے اور 100 فیصد نتائج نہیں دیتا۔ تاہم علاج کا ایک یہی طریقہ ہے۔
پاکستان میں تھیلیسیمیا سکریننگ کے سینٹرز گورنمنٹ سطح پر تقریباً ہر ضلع میں موجود ہیں جہاں تھیلیسیمیا سکریننگ کے ساتھ ساتھ تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لئے خون اور دیگر ضروری علاج مہیا کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں یہ سینٹر زیادہ اہم ہیں جہاں تھیلیسیمیا کے علاج کے لیے بون میرو ٹرانسپلانٹیشن بھی کیا جاتا ہے :
1۔ آرمڈ فورسز بون میرو ٹرانسپلانٹیشن سینٹر راولپنڈی (یہ سب سے بڑا تھیلیسیمیا اینڈ بون میرو ٹرانسپلانٹیشن سینٹر ہے مگر پرائیویٹ ہے )
2۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز اینڈ بون میرو ٹرانسپلانٹیشن، کراچی:یہاں سالانہ 60۔ 70 مریضوں کے بون میرو ٹرانسپلانٹیشن کی سہولت میسر ہے
3۔ ڈیپارٹمنٹ آف کلینیکل ہیماٹولوجی اینڈ بون میرو ٹرانسپلانٹیشن، ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کراچی
4۔ گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، سندھ
5۔ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال پشاور
6۔ صوابی تھیلیسیمیا سکریننگ سینٹر، صوابی
7۔ ڈیپارٹمنٹ آف ہیماٹولوجیکل ڈیزیزز، تھیلیسیمیا اینڈ بون میرو ٹرانسپلانٹیشن سینٹر بہاول وکٹوریہ ہسپتال بہاولپور۔ یہاں سالانہ 60۔ 70 مریضوں کے بون میروٹرانسپلانٹیشن کی سہولت میسر ہے
8۔ چلڈرن ہسپتال لاہور۔ یہاں سالانہ 18۔ 20 مریضوں کے لئے بون میرو ٹرانسپلانٹیشن کی سہولت میسر ہے۔
9۔ نیشنل سینٹر آف بلڈ ڈزیزز لاہور۔ یہاں سالانہ 12۔ 14 مریضوں کے بون میرو ٹرانسپلانٹیشن کی سہولت میسر ہے۔
10۔ شفاء انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد۔ یہاں سالانہ 30۔ 32 مریضوں کے بون میرو ٹرانسپلانٹیشن کی سہولت میسر ہے۔
تھیلیسیمیا سکریننگ کے شعور کی ضرورت؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ عوامی سطح پر آگاہی مہم چلائی جائے اور خاندان میں شادیوں کے رواج کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ حکومتی سطح پر سخت قوانین بنائے جائیں اور ان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ نکاح نامے کو تھیلیسیمیا سکریننگ سے مشروط کیا جائے، اس کے علاوہ کالجوں اور یونیورسٹیز میں گورنمنٹ کی طرف سے طلباء و طالبات کی تھیلیسیمیا سکریننگ بھی اسے کنٹرول کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔ تھیلیسیمیا سکریننگ آپ کی آنے والی نسل کی زندگی کا سوال ہے لہذا اسے یقینی بنائیں۔ خون کا ایک ٹیسٹ آپ کی آنے والی نسل کو تھیلیسیمیا سے بچا سکتا ہے لہذا سب اپنا کردار ادا کریں اور آنے والی نسلوں کو تھیلیسیمیا فری پاکستان دیں۔


