مذہبی تعلیمات پر عمل اور مذہب کارڈ کا استعمال۔ دو متضاد طرز عمل


معاشرتی طور پر ہم ایک ایسے ماحول میں رہتے ہیں جہاں اس بات پر زیادہ زور دیا جاتا ہے کہ ہم کس طرح کے طرز زندگی پر یقین رکھتے ہیں اور اپنے معاشرے کی تشکیل کیسے کرتے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مذہب، خاص طور پر اسلام نے پاکستانی معاشرے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، اسلام ہی اس کے ثقافتی، سماجی، سیاسی اور قانونی فریم ورک کو متاثر کرتا ہے۔ مذہب بنیادی طور پر ریاست کے باشندوں کو متحد کرنے والی قوت کے طور پر کام کرتا ہے، قومی شناخت کو تشکیل دیتا ہے اور اخلاقی اقدار کی رہنمائی کرتا ہے۔ مذہب کا اثر روزمرہ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے ظاہر ہوتا ہے، سماجی رسم و رواج اور تہواروں سے لے کر غذائی طریقوں اور لباس کے ضابطوں تک۔

جیمز زوگبی واشنگٹن میں قائم عرب امریکن انسٹیٹیوٹ کے بانی اور صدر ہیں اور زوگبی ریسرچ سروسز جو کہ وقتاً فوقتاً عرب ممالک میں رائے عامہ کا جائزہ لیتا ہے اس کے منیجنگ ڈائریکٹر ہیں، وہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ دنیا کے تمام بڑے مذاہب میں ایسے گروہ اور افراد پائے جاتے ہیں جنہوں نے پر تشدد رویے اور انتہائی سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کو استعمال کیا اور آج بھی کر رہے ہیں۔ مثلاً بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں موجودہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) انتہائی جنونی ہندو قوم پرستی کے بل بوتے پر اقتدار میں آئی۔ خود مودی پر کئی برسوں تک امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد رہی تھی کیونکہ جن مسلمان مخالف فسادات کو ہوا دینے میں انہوں نے کردار ادا کیا تھا ان میں ایک ہزار سے زائد لوگوں کی جانیں گئیں، اسی طرح سری لنکا میں، بدھ ملیشیا نے اس نعرے کی بنیاد پر مسلمانوں پر ہر طرح سے زمین تنگ کرنے کی قسم اٹھائی ہے کہ چونکہ وہ ”بدھ مت کی زمینوں“ پر قابض ہیں لہذا وہ زندگی گزارنے سمیت ہر بنیادی حق سے محروم ہیں۔

مسیحیت بھی بلاشبہ اپنے اندر ان انتہا پسندوں سے محفوظ نہیں رہی ہے اس حوالے سے ہمیں صلیبی جنگوں کی طرف واپس جانے کی ضرورت ہے اور نہ ہی مسیحیت کے علمبرداروں کے جانب سے صلیبی جنگوں سے لے کر اب تک اور پھر دو عالمی جنگوں سے لے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ تک، مذہبی اصطلاحات کا سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کوئی پوشیدہ حقیقت ہے۔ جب محب وطن ہجوم نے ”آگے بڑھنے والے عیسائی سپاہیوں“ کا گانا گایا، تو دراصل امریکیوں کو سکھایا گیا کہ ہم ”خدا کے منکر لوگوں“ کو مار رہے ہیں۔

اسی طرح پاکستان میں مذہب ایک طاقتور قوت ہے جو سماجی اصولوں، قانونی ڈھانچے اور سیاسی نظریات کو تشکیل دیتا ہے، معاشرے کے تانے بانے میں خود کو گہرائی سے سمیٹتا ہے اور زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اوقات افراد اور گروہوں کی طرف سے ذاتی اور سیاسی ایجنڈوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے مذہب کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔ سیاست دان اور رہنما حمایت یا جواز حاصل کرنے کے لیے مذہبی جذبات کو بھڑکاتے رہتے ہیں، رائے عامہ کو اکٹھا کرنے یا اپنے مخالفین کو معاشرتی لحاظ سے تنہا اور بدنام کرنے کے لیے عقیدے اور مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح، کچھ لوگ مذہبی بیان بازی کا استعمال کرتے ہوئے ان اعمال کا دفاع کرتے ہیں جو اسلامی اصولوں سے متصادم ہوں، جیسے کہ بدعنوانی یا سماجی نا انصافی، کو تقدیر کا لبادہ اوڑھا کر لوگوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے، مذہب کا اس طرح سے استعمال نہ صرف اسلام کی اصل روح کو مجروح کرتا ہے بلکہ سماجی اور سیاسی تقسیم کو بھی مزید گہرا کرنے کا سبب بنتا ہے، جس سے ایک ایسا ماحول پیدا ہوتا ہے جہاں حقیقی مذہبی اقدار خود غرض تشریحات کے زیر سایہ اپنی اصل معنویت اور مفہوم کھو دیتی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں آج بھی اسے افراد اور گروہ موجود ہیں جو اپنے اعمال یا عقائد کو درست ثابت کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر قبول شدہ مذہبی اصولوں اور اقدار کا استعمال کرتے ہوئے اپنے خیالات اور اپنے اعمال کا دفاع کرتے ہیں۔ بعض اوقات دوسروں کو بلیک میل کرنے اور ان کو ملامت کرنے کیلے قرآنی آیات یا احادیث کا حوالہ دیا جاتا ہے، قبولیت حاصل کرنے اور تنقید سے بچنے کے لیے اپنے انتخاب کو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ ثابت کیا جاتا ہے۔ اس میں سماجی طریقوں، سیاسی موقف، یا ذاتی رویے کو اور اپنے قیاس کردہ مذہبی رائے کو جواز فراہم کرنا شامل ہوتا ہے۔ ایسا کرنے سے، ہم اس گہرے احترام اور اختیار کا فائدہ اٹھاتے ہیں جو مذہب معاشرے میں رکھتا ہے، اس طرح اپنے اعمال کو مذہبی تناظر میں رکھ کر خود کو جانچ پڑتال یا مخالفت سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں جس پر سوال اٹھائے جانے کا امکان کم ہوں۔

مذہب کی روح کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کی خود غرض تشریحات اکثر تشریح کرنے والے فرد کی ذاتی ترجیحات، شخصی سہولتوں، سماجی دباؤ اور انتخابی تشریح کا مرکب ہوتی ہیں۔ لوگ ایسے طریقوں کی پیروی کرتے ہیں جو ان کی زندگی میں آسانی سے فٹ ہوتے ہیں یا سماجی طور پر نمایاں طور پر نافذ ہوتے ہوں، جبکہ کم دکھائی دینے والے یا شریعت کے مطابق اولیت رکھنے والے فرائض کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اس کی مثال کچھ یوں ہے کہ ہمارے ایک میٹنگ میں ایک اعلیٰ طبقے کی عمر رسیدہ خاتون جو بطور کنسلٹینٹ یونیسف کے ایک پروجیکٹ میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے میٹنگ کے دوران فخریہ انداز میں بول پڑی کہ میں بے شک فرض نمازوں میں کوتاہی کرتی ہوں لیکن میں حلال اور حرام کے بارے میں اتنی فکرمند رہتی ہوں کہ صبح سے لے کر رات کے دو بجے تک کام کرتی ہوں تاکہ میری روزی حلال رہے۔ خاتون کے اس فقرے نے اس بات کی تصدیق کی کہ انسان مذہبی اصطلاحات کو اپنی ترجیحات کے مطابق استعمال کرتا رہتا ہے اور معاشرے میں نمایاں مقام بھی حاصل ہو جاتا ہے جبکہ نماز جیسے فرض کا اجر پوشیدہ ہوتا ہے۔

اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان میں اعلیٰ طبقہ اکثر مغربی ثقافت اور عالمی طرز زندگی کے سامنے آنے کی وجہ سے مذہبی تعلیمات پر سختی سے عمل نہیں کرتا، اور جو لوگ زیادہ لبرل اور سیکولر اقدار کے قائل ہوتے ہیں ان کی خوشحال طرز زندگی انہیں صرف مادی مسرت کے حصول اور سماجی حیثیت بلند کرنے پر آمادہ کرتا ہے اس طرح اعلیٰ تعلیم اور سیکولر سماجی حلقہ بھی ایک آزاد خیال عالمی نظام کو وجود میں لانے میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ مزید برآں، یہ تاثر کہ جدیدیت کا تعلق سیکولرازم کے ساتھ ہے، اس کا باعث بنتا ہے کہ مذہبی احکامات کی پابندی کے حوالے سے زیادہ لچکدار رویہ اپناتے ہوئے اس کے مسلّمہ اصولوں کے اپنی ذات کے اوپر اطلاق کے بجائے اپنا ایک انفرادی نقطہ نظر وضع کیا جائے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آج بھی بہت سے لوگ مذہب کو بطور شیلڈ اور بطور ہتھیار استعمال کرنے اور اس کی خودغرض تشریحات سے گریز کرتے ہیں، فلاحی کاموں میں مصروف رہتے ہیں اور اپنے مذہبی فرائض کو پورا کرتے ہیں۔

Facebook Comments HS