ہم نے لاہور ڈوبتے دیکھا


آج صبح جب گھر سے یونیورسٹی جانے کے لئے نکلا تو بارش ہو رہی تھی، برساتی نکالی، دھیمی دھیمی بارش میں موٹر سائیکل پر سفر شروع کیا، اور سوچا کہ آدھا گھنٹہ اس بارش کو برداشت کر لیتے ہیں، لیکن پھر اصل میں ہمارے ساتھ وہ ہوا کہ ”اک اور دریا کا سامنا تھا مجھے“ ، شہرِ لاہور کی سڑکیں اس وقت ندی نالوں، بلکہ دریاؤں سمندروں کا منظر پیش کر رہی ہیں، میں گھر سے نکلا تو سب سے پہلے ”کیپٹن مبین شہید انڈر پاس ڈیم“ میں پانی بھر جانے کے باعث راستہ بدلنا پڑا، وہاں سے چلا تو ”نہرِ فردوس مارکیٹ“ میں قریب قریب تیرتے ہوئے کلمہ چوک پہنچا، وہاں سے جب انڈر پاس طے کیا تو سامنے ”دریائے برکت مارکیٹ“ میرا منتظر تھا جس کو موٹر سائیکل پر عبور کرنا خاصا دشوار و خطرناک تھا کہ یہاں کسی بھی مقام پہ کوئی گہرا کھڈا ہمارے لیے باعثِ زحمت بن سکتا تھا۔

وہاں سے واپس مڑا اور شہر کی سب سے خشک شاہراہ پر محو سفر ہو گیا، یعنی ”نہر و نہر“ ۔ وہاں سے گزرتے یہی خیال آیا کہ شہر کی تمام شاہراہوں کے درمیان نہر بنا دی جائے تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔

وہاں سے جب ٹھوکر نیاز بیگ پہنچا تو سامنے ”دریائے نیاز بیگ“ ٹھوکریں مار رہا تھا اور ہم بے بس اس میں داخل ہو گئے کہ واپسی کا راستہ اب بہت لمبا تھا، اور حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ تھوڑا آگے جا کر ہم نے موٹر سائیکل سیدھا ”بحرِ رائیونڈ روڈ“ میں ڈال دیا اور اقبالؒ کے معروف شعر میں تحریف کرتے ہوئے یہی الفاظ ذہن میں آئے کہ

” دشت تو دشت دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحرِ رائیونڈ روڈ میں دوڑا دیے موٹر سائیکل ہم نے ”

حالانکہ یہ سڑک صاحبانِ اقتدار کے گھروں کو جاتی ہے لیکن یہ بھی سمندر کا منظر پیش کر رہی تھی، یہ سارا سفر ڈیڑھ گھنٹے میں طے ہوا، ابھی میں نے نہر و نہر آنے کا فیصلہ کر کے ”دریائے فیصل ٹاؤن“ ، بحرِ یو سی پی ”اور نہرِ ویلنشیا“ کو نظر انداز کیا تھا، ورنہ حالات اور خطرناک ہو سکتے تھے۔

ایسے حالات میں پوری سڑک پر مجھے سوائے گلبرگ کوئی واسا کی وردی والا بندہ نظر نہیں آیا، حکومتی مشینری کام کر رہی ہے، لیکن افسوس وہ لاہور جو کبھی عظمت و بلندی کی پہچان تھا، جسے پیرس بنایا جانا تھا وہ ڈوب چکا ہے، ہمارے اجداد نے بغداد، غرناطہ اور ڈھاکہ ڈوبتے دیکھے، ہم نے لاہور ڈوبتے دیکھا، بقولِ عظیم لیڈر ”جب بارش آتا ہے تو پانی آتا ہے، لیکن جب زیادہ بارش آتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے“ ۔ تو بس آج زیادہ بارش آ گیا ہے۔

واسا کے بورڈ کے ساتھ اپنی جہازی سائز تصویر لگانے والی وزیر اعلیٰ صاحبہ کی جانب سے خاموشی چل رہی ہے اور ہمارے مسلم امہ کے عظیم لیڈر کے وسیم اکرم پلس کے بنائے لاہور کے ریزروائرز میں بھی پانی کا ذخیرہ نہیں جا رہا، اُس تجربے نے لاہور کی سڑکوں کے ساتھ جو کیا وہ بھی ایک الگ کہانی ہے لیکن ہم کسی عظیم لیڈر کی کوئی بات نہیں کریں گے۔

لاہور کی بارشوں کے حوالے سے آج سے کوئی پانچ سال قبل ایک کالم لکھا تھا جس میں کچھ اداروں کا ذکر کچھ یوں کیا تھا ”ویسے تو انتظامیہ اپنی نا اہلی دکھاتی ہی رہتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی لاہور کے دو اہم ادارے بھی بارش کے شروع ہوتے ہی جواب دے جاتے ہیں، ایک“ لیسکو ”اور دوسرا“ پی ٹی سی ایل ”۔ بارش شروع ہونے کی دیر ہے آدھے شہر کی بتی گُل اور اس کے ساتھ ہی انٹرنیٹ کی سپیڈ کچھوے کی چال چلتی ہے یا خوابِ خرگوش کے مزے لیتی ہے۔“

یہ بات آج بھی بالکل درست ہے کہ بارش کے بعد ان دونوں کی حالت یہی ہوتی ہے۔ دوسری اہم اور ضروری بات ہے اخلاقیات۔ بارش کے بعد سڑکوں پر موجود پانی بھی شہریوں کے لیے مصیبت کا باعث بنا رہتا ہے، اگر آپ اِن پانی زدہ سڑکوں پر نکلیں گے تو یقیناً آپ اپنے کپڑے کیچڑ سے نہیں بچا سکیں گے، آپ تو احتیاط کریں گے لیکن موٹرسائیکل اور کار میں بیٹھے ہمارے زندہ دلانِ لاہور آپ کو صحیح سلامت اور صاف ستھرا گھر نہیں پہنچنے دیں گے۔ وہ کیا کہتے ہیں کہ شہرِ زلیخا سے تو کوئی دامن بچا کر جا سکتا ہے لیکن لاہور شہر کی سڑکوں پر موجود پانی سے دامن بچانا ممکن نہیں۔ اور سونے پر سہاگہ ہمارے موٹرسائیکل اور موٹر کار سوار دوسروں کو نقصان پہنچا کر کر دیتے ہیں، اگر بھائی آپ ایک کار میں بیٹھے ہو تو باہر والوں کا بھی تو خیال کرو؟ وہ کیا انسان نہیں ہیں؟

جب پانی پر سے گزریں تو رفتار آہستہ کر لیں، اس سے کم از کم پانی کے چھینٹے نہیں اُڑیں گے، اور دوسروں کے ساتھ ساتھ آپ کی گاڑی بھی زیادہ گندی نہیں ہو گی اور موٹرسائیکل سوار ویسے تو موٹرسائیکل پر سٹیکر اور پتہ نہیں کیا کیا فیشن کے نام پر لگا لیتے ہیں لیکن بائیک کے پیچھے 50 روپے کا پلاسٹک کا ”مڈ فلیپ“ (جسے عرف عام میں ”دُمچی“ کہتے ہیں ) نہیں لگا سکتے، اور دوسرے موٹرسائیکل سواروں کے لیے باعث زحمت بنے رہتے ہیں، اگر آپ تھوڑی سی احتیاط کر لیں تو لوگ آپ کو دعائیں ہی دیں گے۔

جب بھی اس موسم میں باہر نکلیں تو سوچ لیں کہ کہیں بھی وقت پڑنے پر آپ کو تیراکی کرنی پڑ سکتی ہے، تو سترک رہیں، ساودھان رہیں، کیونکہ لاہور تو ڈوب چکا ہے۔

Facebook Comments HS