ویلڈن! حافظ نعیم الرحمٰن


ریاست، سیاست، جمہوریت پھر مفاہمت یا مصلحت مک مکاؤ یا مذاکرات، ڈھنڈورا عوامی مطالبات سیاسی و ذاتی مذاکرات میں معاملات طے دھرنے پھر ٹھنڈے پڑ گئے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخی میں 2014 کا دھرنا جو 126 دن تک جاری رہا تھا جو اس وقت تو بظاہر ایک سیاسی جماعت لگتی تھی درحقیقت وہ گروہ تھا جتھا تھا ہجوم تھا جس نے سول نافرمانی جیسی تحریک کی بھی علامتیں چھوڑی تھیں سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایا تھا اداروں میں بھی توڑ پھوڑ کی تھی اور اپنے مقاصد میں بالآخر انہیں اقتدار کی مسند ملی۔

علامہ طاہر القادری نے بھی اس دھرنے کو تقویت بخشی تھی لیکن اقتدار کے مزے ان کے حصے میں نا آئے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان 2013 سے لانگ مارچ کی سیاست کی لپیٹ میں ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے سیاسی نظام کو عدم استحکام، حکومتوں کا مفلوج ہونا، معمولات زندگی میں گڑ بڑ پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی خساروں کا سامنا ہے۔ ماضی قریب میں دھرنا سیاست کے کلچر نے اپنی جڑیں مضبوط کرلی ہیں۔ اس کلچر کے تحت جتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو باہر نکالا جا سکے اور جتنا طویل عرصہ تک انہیں سڑکوں اور چوراہوں پر رکھا جا سکے، اتنا ہی اپنے مطالبات منوانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

اگرچہ پُرامن احتجاج، دھرنے اور لانگ مارچ سیاسی کارکنوں کا بنیادی حق ہیں تاہم پاکستان میں ان ہتھکنڈوں کا معیار مختلف ہے۔ دھرنا سیاست کا کلچر پاکستانی سیاسی نظام کی غیر فعال نوعیت کی نمائندگی کرتا ہے جہاں مختلف سیاسی سٹیک ہولڈرز، اپنی شرکت کے باوجود، نظام پر مکمل اعتماد نہیں رکھتے۔ پاکستانی سیاسی تاریخ میں دارالحکومت اسلام آباد میں پہلا بڑا مظاہرہ چار اور پانچ جولائی 1980 کو ہوا تھا، جب مذہبی جماعت تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے سابق صدر ضیاء الحق کے زکٰوۃ اور عشر آرڈیننس کے خلاف پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا۔

اور بغیر کسی مزاحمت کے اس کے مطالبات بھی مانے گئے تھے۔ لیکن 2013 کے بعد والے دھرنوں نے جو روایت قائم کی اس سے ایک خوف آتا، انتشار لگتا دہشت محسوس ہوتی۔ نا حکومتی ارکان میں صبر آتا اور نا ہی مظاہرین کا جوش ٹھنڈا پڑتا۔ خیر آمدم برسر مطلب جماعت اسلامی کا دھرنا بام عروج پر، دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ میں شقی القلب نہیں ہوں اور اس جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں کی جد و جہد کو نا صرف سراہتا بلکہ دعا دیتا ہوں کہ اللہ ان کا حامی و ناصر ہو۔ خدا ان کی حفاظت کرے۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے عوام سے امید لگا کر استدعا کی کہ اگر عوام ساتھ رہیں تو وہ حکومت کو گُھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے ان کے چہرے کا اطمینان بتاتا ہے کہ یہ دھرنا پاکستان کی تاریخ کو تبدیل کر دے گا۔ ایک طرح سے طبل جنگ تو بج ہی چکا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سخت گرمی میں بھی ان کا دھرنا جاری ہے، کارکن ثابت قدم رہیں، دھرنا طویل ہوتا جا رہا ہے، عوام کی نمائندگی کرنے پر کارکنوں کو مبارک باد بھی پیش کی۔

ایک مخصوص ٹولے پر سیاسی نشتر چلاتے کہا کہ کچھ لوگوں کا ایجنڈا نوجوانوں کو مایوس کرنا ہے، یہ دھرنا پورے پاکستان کو جوڑ رہا ہے، یہ دھرنا امید کے چراغ جلا رہا ہے، پاکستان کے دشمنوں کو منہ کی کھانی پڑے گی، ہم متحد ہو کر حکمران طبقہ کی بدمعاشیاں کو شکست سے دوچار کریں گے۔ ایک بات تو اظہر من الشمس ہے کہ جماعت اسلامی اب کسی دوسری سیاسی جماعت کو ساتھ ملانے کی سادگی نا دکھائے وگرنہ لہو لگا کر شہیدوں میں شامل ہونے والے بہت جھتے موجود ہیں جو کوشش کریں گے جڑنے کی لیکن جماعت اسلامی اپنے ایجنڈے اور اجتماع سے کسی کو بنی بنائی کھیر نا کھانے دے۔

اتحادی حکومت پر لفظی وار کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے یہ بھی کہا کہ ہم تقسیم ہوں گے تو دشمن طاقتور ہوں گے، 1994 ء سے پیپلز پارٹی نے آئی پی پیز کا دھندا شروع کیا، پھر مسلم لیگ (ن) نے اس دھندے کو عروج پر پہنچایا۔

ان لوگوں نے آئی پی پیز کو مسلط کیا، 23 فیصد بین الاقوامی آئی پی پیز ہیں، حکومت کے ننھے ایسے مذاکرات کر رہے ہیں جیسے انہیں کچھ پتہ ہی نہیں عوامی مسائل پر انہوں نے کھری باتیں کیں کہ مہنگی بجلی سے تاجر، صنعت کار، مزدور، تنخواہ دار طبقہ سبھی پریشان ہیں۔ صرف جاگیردار طبقہ خوشحال ہے، اس ظلم کے نظام کو اب ختم کرنا پڑے گا، اب لڑنا اور مزاحمت کرنی پڑے گی۔

ریڑھی بان، چھابڑی والا، خوانچہ فروش، دیہاڑی دار، مالی، مزارع، ڈرائیور، چوکیدار، خاکروب، خانساماں، درجہ چہارم کا ملازم اور ہر متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والا شخص نا تو مزاحمت کر سکتا ہے اور نا ہی دھرنوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ ایک دن کی دیہاڑی ترک کرنا چولہا ٹھنڈا رکھنے کے مصداق ہے۔ ان سب کی طرف سے دھرنا، احتجاج، مظاہرہ، لانگ مارچ، مزاحمت اور مطالبات و مذاکرات حافظ نعیم الرحمٰن کرنے گئے ہیں، حافظ صاحب ان سب کی دعائیں نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں۔

جس خاتون نے اپنے کان کی بالیاں بیچ کر بجلی کا بل بھرا اس کا حساب بھی آپ نے لینا ہے۔ جس نوجوان نے بے روزگاری سے تنگ آ کر خودکشی کرلی تھی اس کے قاتل کا گریبان بھی آپ نے پکڑنا ہے۔ جس باپ نے غربت سے تنگ آ کر اپنی اولاد کو ذبح کر دیا اس کا مقدمہ بھی آپ نے لڑنا ہے۔ جس ممتا نے بچوں سمیت دریا میں چھلانگ لگائی اس کے قصور واروں کو آپ ہی نے پکڑنا ہے۔ جس نوجوان نے تنگدستی میں اپنے گردے بیچے اس کی قیمت بھی آپ نے اس کو وصول کروانی ہے۔

جن نوجوانوں کو بے روزگاری سمندر کی بے رحم موجوں کی نذر کر گئی ہے ان کے والدین کو ہمت و حوصلہ بھی آپ نے دینا ہے۔ جنہیں سیاسی گمراہی و بے راہروی پر لگایا گیا جنہیں بھڑکایا اور بھٹکایا گیا انہیں راہیں آپ نے ہی دکھانی ہیں۔ حافظ صاحب بہت خوب کر رہے ہیں آپ! کوئی نون لیگی ہے یا پیپلز پارٹی کا جیالا، یوتھیا ہے یا لبیک یا رسول اللہ کا متوالا سب کا اندر ہی اندر سے ہے ایک ہی نعرہ کہ جیے حافظ ہمارا۔ یہ مسئلہ جماعت اسلامی کا نہیں ہے یہ سب کا مسئلہ ہے تبھی پوری قوم کو اپنے ضمیر کے خلاف اگر جانا پڑتا ہے جائے قوم کو سیاسی بیداری ہونی چاہیے کہ کون ہیں جو ملک کو لوٹ رہے ہیں؟

کون ہیں جن کی بدولت بنیادی ضروریات زندگی کو عام آدمی ترستا ہے؟ کون ہیں جن کی بدولت بے روزگاری اور مہنگائی کے پہاڑ ہم پر ٹوٹ پڑے ہیں؟ کون ہیں جن کی خاطر ہم ٹیکسز بھر رہے ہیں؟ عوام روڈ پر نہیں نکل سکتے، احتجاج نہیں کر سکتے، مظاہرے اور دھرنے نہیں دے سکتے، حکومت کے خلاف نہیں بول سکتے، ہزار مجبوریاں ہزار رکاوٹیں، ان گنت مسائل اور بے بسیاں ہوں گی حقیقتیں رد نہیں کی جا سکتی ہیں مگر حافظ کی سلامتی و کامیابی کی دعائیں تو کی جا سکتی ہیں۔ شاباش حافظ نعیم الرحمٰن! ویلڈن حافظ نعیم الرحمٰن! اللہ آپ کو آپ کے نیک عوامی مقاصد میں کامیاب و کامران کرے!

Facebook Comments HS