ہرے دَرخت کے ساتھ اَیسا تو سُوکھے کے ساتھ؟


کراچی میں ہمارے ایک دوست کاشف انتھونی رہائش پذیر ہیں۔ انسانی حقوق کے علم بردار ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا روم (اِٹلی) سے سینے پر تعلیمی تمغے سجائے اور اسناد سمیٹے وطن واپس تشریف لائے ہیں۔ انتہائی نفیس، جہاندیدہ، مثبت اور پُراُمید شخصیت کے مالک ہیں۔ طبیعتاً کم گو مگر گہری اور سُتھری بات کہنے کا فن جانتے ہیں، بلکہ بقول احمد فراز ’بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں‘ ۔

گزشتہ ملاقات پر فرمانے لگے میں آپ کو اسی ’ماتمی‘ سماج میں سے حوصلہ مندی کی چند خبریں نکال کے دوں گا آپ انہیں مضمون کا حصہ بنائیں۔ ہم نے زیرِ لب مسکراتے ہوئے کہا ”آپ کے منہ میں گھی شکر“ ۔

چند روز سے وہ ملکی صورتحال کو لے کر بہت افسردہ ہیں کہ کہیں بھی پُرامن فضا میسر نہیں۔ چہارسوُ چھوٹے بڑے تنازعات، افراتفری، من مانی، تشدد پسندی، عدم رواداری، حقوق کی پامالی اور آتشیں اسلحہ کا راج ہے۔ مجموعی طور پر ملک کے مستقبل پر گھپ اندھیرا چھا چکا ہے۔ روشنی کی کوئی سمت نظر نہیں آ رہی۔ یہ حالات ہمیں کدھر لے جائیں گے کچھ خبر نہیں۔ نہ کوئی رہنما ہے نہ منزل کا اتا پتہ۔ اک ہجوم ہے کہ جو رواں دواں ہے۔ نہ حقوق کا شعور نہ حقوق کی ضمانت اور نہ ہی جان و مال کا تحفظ۔ کوئی جب چاہے، جہاں چاہے لاؤ لشکر سمیت زندگی مفلوج کر کے رکھ دیتا ہے۔ جو من میں آئے فرمائے جاتا ہے۔ نہ کوئی حکومتی رٹ ہے، نہ کوئی کسی کو جوابدہ۔ کہیں سکون کا سانس نہیں۔ قبائل، گروہ، بستیاں، آبادیاں سبھی جگہ ہٹ دھرمی اور’میں‘ کا راج ہے۔

اس سلسلے میں ہم وطنِ عزیز پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں کہ کہاں کیا ہو رہا ہے؟ صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع کُرم کے علاقے پاراچنار میں چند روز ہوئے دو قبائل کے درمیان زمین کا ایک ٹکڑا انتہائی متنازعہ صورتحال اختیار کر چکا ہے اور عوام کو علاقے میں انتہائی کشیدہ صورتحال کا سامنا ہے۔

یہ لگ بھگ 100 کنال زمین کا ایک ٹکڑا ہے جس پر دو مقامی قبائل (گلاب ملی اور مدگی گلے ) ملکیت کے دعویٰ دار ہیں۔ ماضی میں مسلح تصادم کے نتیجہ میں سینکڑوں ہلاکتوں کے علاوہ گزشتہ ہفتہ تک جاری حالیہ تصادم میں 50 کے قریب افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اور اب جس طرح سے اس قبائلی تنازعہ کو مذہبی رنگ دیا جا رہا ہے اس سے علاقے میں کشیدگی اور ہلاکتیں مزید بڑھنے کے امکانات ہیں۔ اس لئے کہ ایک فریق گلاب ملی خیل کا تعلق اہلِ تشیع جبکہ مدگی گلے اہلِ سنت ہے۔ اس کشیدگی کی وجہ سے ماضی میں متعدد مرتبہ مسلح تصادم ہو چکے، جرگے، پنچائتیں اور امن کمیٹیاں بھی قائم کی گئیں مگر کوئی دیرپا حل یا پُرامن حتمی نتیجہ نہیں نکلا۔

اُدھر صوبہ بلوچستان کے شہر گوادر میں بھی حالات انتہائی کشیدہ ہیں جہاں بلوچ عوام اپنے کچھ ارکان کی گرفتاریوں اور مبینہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہلاکت خیز جھڑپوں کے بعد کئی دنوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔

تازہ ترین کشیدگی گزشتہ دنوں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے صوبے میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں اور لوگوں کے ماورائے عدالت قتل کیے جانے کے خلاف مظاہروں کے اعلان کے بعد شروع ہوئی۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے گوادر میں ”بلوچ راجی موچی“ ، یا ’بلوچ قومی اجتماع‘ کا مطالبہ کیا۔ تاہم مبینہ طور پر جیسے ہی مختلف حصوں سے قافلے شہر میں داخل ہونا شروع ہوئے، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے اُس طرف جانے والی بڑی شاہراہوں کو بند کرنا شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں کچھ جگہوں پر جھڑپیں بھی سامنے آئیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ ضلع مستونگ میں ایک جھڑپ کے دوران سیکورٹی فورسز نے فائرنگ کی، جس میں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

گوادر بحیرہ عرب پر پاکستان کی واحد گہرے پانی کی سمندری بندرگاہ ہے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک کا ایک اہم راستہ بھی۔

اس کے علاوہ پنجاب میں ’میں نہ مانوں‘ کا رجحان آج بھی جاری ہے۔ مذہبی نفرت اور تفرقہ بازی کا بیج کئی گُنا پھل لا رہا ہے۔ جس نفرت کی آبیاری برسوں کی گئی اُس کا پھل اب پک چکا ہے اور بات عام شہریوں کی جاں سوزی سے نکل کر ججوں کے سر کی قیمت تک جا پہنچی ہے۔

سوچنے کا مقام ہے کہ کوئی گروہ اتنا طاقتور کیسے ہو گیا کہ وہ مسندِ عدالت پر بیٹھے ذمہ داروں کو بھی للکارنے کی ہمت رکھتا ہے۔ رائے یا نظریہ کا اختلاف ہو سکتا ہے۔ سوچنے سمجھنے کا انداز بھی مختلف ہو سکتا ہے مگر اپنے موقف کو پُر تشدد الفاظ یا عمل میں ڈھالنا ہی کیوں ضروری ہے؟

فکرمندی کی بات یہ ہے اگر حکومتی رٹ اس قدر کمزور پڑ چکی ہے کہ وہ مشتعل ہجوم اور اشتعال انگیز تقاریر کو بھی روکنے کی سکت نہیں رکھتی۔ اُن کا حوصلہ اگر اتنا بڑا ہے کہ بڑے سے بڑے عہدے دار جن کی سکیورٹی کی ذمہ داری حکومت کی ہو، جن کے تحفظ کو ممکن بنانے کے ہزار جتن کیے جاتے ہوں اور جس کی جان و مال کو محفوظ بنانے کے لئے کروڑوں روپے اور سینکڑوں افراد کا عمل دخل ہو، اگر بھرے مجمع میں انہیں للکارا اور دھمکایا جا سکتا ہے تو پھر عام شہری اور کسی اقلیتی فرد کے جان و مال کی حفاظت کی ضمانت کون دے گا؟

انجیلِ مقدس میں مرقوم ہے کہ ’جب ہَرے دَرخت کے ساتھ اَیسا کِیا جاتا ہے تو سُوکھے کے ساتھ کیا نہ کِیا جائے گا؟‘ ( مقدس لُوقا: 23 واں باب، 31 ویں آیت)

بس اسی بات کو لے کے ہم تب سے سوچ میں گُم ہیں کہ جو شخص قانون سے بھرا ہے، جس نے قانون گھول کے پی رکھا ہے، جو نظامِ عدل کا سربراہ ہے، جو قانون کی کتاب پر عمل کرتا ہے جس کا اوڑھنا بچھونا قانون ہے، جو حکومتی سربراہان کو بھی عدالت میں حاضر ہونے کا حکم صادر کر سکتا ہے، جو بیرونِ ملک ریاست کی پہچان ہے اور جو اپنی موجودہ حالت میں ’ہرے درخت‘ کی مثل ہے اگر اُس کے لئے اس ملک میں زندگی اتنی پُرخطر اور سنگلاخ رستوں پے چلنے کے مترادف اور چیلنجنگ ہو سکتی ہے تو پھر یہ سوچنا بھی بنتا ہے کہ حقوق اور پہچان سے محروم پسماندہ عوام یا اقلیتی افراد جنہیں ’دوسرے درجے‘ پر ’الگ‘ رکھ کر سوچا جاتا ہے اور جن کی حیثیت ’سوُکھے درخت‘ کی سی ہے اُن کے جان و مال، حقِ زندگی اور حقوق کا ضامن کون ہو گا؟ وہ اپنے تحفظ کو یقینی بنانے کی فریاد کس سے کریں گے؟ بصورتِ دیگر ’سُوکھے درخت‘ کا جلنا تو بنتا ہی ہے۔

Facebook Comments HS