پیرس اولمپکس، واقعی شکر کریں ڈوبا نہیں
پیرس اولمپکس میں ہمارے کھلاڑیوں کی شرمناک کارکردگی نے ہر پاکستانی کو افسردہ اور شرمندہ کر دیا ہے، سپورٹس ایک واحد شعبہ رہ گیا ہے جہاں سے پاکستانی عوام کو کبھی کبھار کوئی خوشی کی خبر مل جاتی ہے، وہ بھی اب دم توڑتی جا رہی ہے، کرکٹ قوم کا پسندیدہ کھیل ہے، ٹی 20 کرکٹ چیمپئن شپ میں قومی کرکٹ ٹیم نے گروپ بندی کی وجہ عبرتناک شکست کھائی، ان حالات کی ذمہ داری براہ راست محسن نقوی پر لاگو ہوتی ہے مگر یہاں ہم صرف اولمپکس کی بات کریں گے
25 کروڑ آبادی کے ملک سے صرف 7 کھلاڑی اولمپکس کے لئے کوالیفائی کرسکے جن کو 18 آفیشلز کے ساتھ پیرس روانہ کر دیا گیا، سب سے پہلے سوئمر جہاں آرا نبی کی کارکردگی نے قوم کو آنسو ہی دیے کیونکہ موصوفہ پہلے ہی میچ میں 30 کھلاڑیوں میں 26 ویں نمبر پر رہیں اور پہلے راؤنڈ میں ہی ایونٹ سے باہر ہو گئیں، دوسرے بوائز سوئمر احمد درانی ہیں جو مقابلے میں آخری نمبر پر رہے، جس پر قوم نے شکر ادا کیا کہ ”شکر کرو ڈوبیا نئی۔ جمعة المبارک کو پنجاب گیمز میں ریکارڈ توڑنے والی ایتھلیٹ فائقہ ریاض 100 میٹر ریس میں بھی ایونٹ سے باہر ہو گئیں وہ چھٹے نمبر پر رہیں
جب سوئمرز کی کارکردگی پر عوام برہم ہوئے تو بہت سے ”دانشور“ ان کی حمایت میں میدان میں آ گئے اور قوم کو بھاشن دینے لگے کہ ہمیں ان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کہ وہ اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں تاکہ وہ مستقبل میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں
اب ان ”دانشوروں“ کا کیا علاج کیا جائے، ان کو سپورٹس کی اے بی سی کا بھی علم نہیں، ان کو یہ بھی علم نہیں کہ اولمپکس میں شرکت یا کوالیفائی کرنے کے لئے طریقہ کار (criteria) کیا ہے، اوپر سے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی ان نالائق کھلاڑیوں کی حمایت میں وضاحت انتہائی شرمناک ہے کہ قوم شکر ادا کر رہی ہے کہ سوئمر ڈوبا نہیں مگر اس وضاحت کے بعد پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کو ڈوب مرنا چاہیے، بات کو مزید آگے بڑھانے سے پہلے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی وضاحت پڑھ لیں
”اولمپک گیمز میں حصہ لینے والے تمام پاکستانی ایتھلیٹس نہ صرف اپنے ایونٹس میں قومی سطح پر بہترین ہیں اور انہوں نے IOC اور متعلقہ انٹرنیشنل سپورٹس فیڈریشن کے مستعد طریقہ کار کے ذریعے داخلہ حاصل کیا ہے، ان کھلاڑیوں نے اس باوقار ایونٹ تک پہنچنے کے لیے برسوں کی محنت وقف کی ہے، تمغے جیتنے کے لیے وسیع تر ہم آہنگی کی ضرورت ہوتی ہے جس کا حصول صرف اس صورت میں ممکن ہے جب معاشرے کا ایک اہم حصہ، خاص طور پر نوجوان، اداروں کے تعاون سے کھیلوں کو اپنائیں اور فعال طور پر اس میں مشغول ہوں۔ اس ماحول کو فروغ دینے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز اور ادارے مل کر کام کر رہے ہیں، جہاں آرا نبی اور احمد درانی بیرون ملک تربیت لے رہے ہیں، اپنی تربیت کا انتظام عوامی فنڈنگ کے بغیر رضاکارانہ طور پر کر رہے ہیں، ہم ان کی لگن کی بہت تعریف کرتے ہیں اور ان کے والدین کی طرف سے انمول تعاون کی دل کی گہرائیوں سے تعریف کرتے ہیں، ہمیں ان کی کامیابیوں پر فخر ہے، ہم ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں اور انہیں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہیں“
کتنی شرمناک وضاحت ہے کہ سوال یہ ہے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو فنڈنگ ملتی ہے وہ کھلاڑیوں پر خرچ کیوں نہیں ہو رہی، اولمپکس میں شرکت کا معیار یہ ہے کہ کھلاڑی عوامی فنڈنگ کے بغیر خود رضاکارانہ طور پر بیرون ملک سے تربیت حاصل کر رہے ہیں اگر کھلاڑیوں نے اپنے خرچ پر تربیت حاصل کرنی ہے تو پھر فیڈریشنز ایسوسی ایشنز کس مرض کی دوا ہے، پاکستان سوئمنگ فیڈریشن اور پنجاب سوئمنگ ایسوسی ایشن کیا کر رہی ہیں اور حکومت سے فنڈ کیوں لیتی ہیں اور یہ فنڈز کھلاڑیوں پر خرچ کیوں نہیں ہو رہے
پیرس اولمپکس میں مصر کی حاملہ کھلاڑی اپنے ایونٹ کا پہلا مقابلہ جیت گئیں اور ہم شکر کر رہے ہیں کہ ڈوبیا نئی، ان کھلاڑیوں کے والدین نے پیسے کے بل بوتے اور سفارش پر ان کو اولمپکس میں دستے میں شامل کرا دیا ان کو میڈل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے وہ صرف اپنے بچوں کے نام کے ساتھ اولمپئن لکھوانا چاہتے ہیں، ملک کی عزت جائے بھاڑ میں، چند برس بعد یہی ڈوبنے سے بچنے والے سوئمرز نجی ٹی وی چینلز پر ماہرین کے طور پر مدعو کیے جائیں گے اور پھر یہ لمبی لمبی چھوڑیں گے
اب کھلاڑی تیار کرنے کا معیار بھی چیک کر لیں، شہباز شریف نے اپنے وزیراعلی پنجاب کے آخری دور میں قذافی سٹیڈیم کے قریب پنجاب انٹرنیشنل سوئمنگ کمپلیکس تعمیر کرایا، وزارت اعلی کے آخری دنوں میں وہاں اپنی تختی لگانے کے لئے اس کا افتتاح کیا، اس موقع پر ایک نمائشی مقابلہ بھی رکھا گیا، اس مقابلے میں ایک خاتون سیاستدان کا بیٹا بھی شریک تھا، اس کو جتوانے کے لئے 5 فٹ دس انچ کے نوجوان کے مقابلے میں چھوٹی عمر کے کھلاڑی رکھے گئے پھر اذلان مقابلہ جیت گیا اور اس وقت کے وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے گولڈ میڈل اور پچاس ہزار روپے انعام دیا پھر ڈی جی پی آر کی جانب سے جاری کی گئی وزیراعلی کی تصویر کے برعکس خاتون سیاستدان نے اپنے تعلقات استعمال کرتے ہوئے اپنے بیٹے کی وزیراعلی سے گولڈ میڈل لیتے ہوئے کی تصاویر اور فوٹیجز شائع اور نشر کرائیں، اسی نوجوان نے پنجاب گیمز میں گیارہ میڈلز بھی جیتے، ٹرافی لی اور 25 ہزار روپے انعام بھی لیا اگر وہ نوجوان اتنا باصلاحیت تھا تو وہ کوئی انٹرنیشنل ٹائٹل کیوں نہ جیت سکا
ہمارے ملک میں سپورٹس اس طرح پروموٹ ہو رہا ہے، چھ سال ہو گئے پنجاب انٹرنیشنل سوئمنگ کمپلیکس کو فنکشنل ہوئے، آج تک کوئی ایک کھلاڑی عالمی مقابلوں کے لئے تیار نہیں ہوسکا، جن سوئمر نے اولمپکس میں حصہ لیا اور مایوس کن کارکردگی دکھائی اس پر یہی کہنا بنتا ہے شکر کرو ڈوب نہیں گیا، یہ فقرہ نیا نہیں ہے، ایک اور واقعہ بیان کر دیتا ہوں۔
فوجی آمر ضیا الحق کے زمانے میں اولمپکس صرف ہاکی ٹیم گولڈ میڈل جیت کر آئی، اس وقت بھی سوئمر آخری پوزیشن پر رہا تھا جس پر ضیا الحق برہم ہو گئے کہ باقی کھیلوں میں کیا مسئلہ ہے اور اس نے ہنگامی اجلاس بلا لیا، اجلاس میں آرمی چیف شدید برہم ہو گئے جس پر ایک اولمپئن نے کہا کہ جناب ملک میں سوئمنگ پول ہی نہیں ہیں جو سوئمرز گئے ہیں ان کو ٹریننگ کے لئے پول ہی میسر نہیں وہاں کہاں تیاری کریں گے شکر کریں ہمارا سوئمر ڈوب نہیں گیا جس پر قہقہے لگ گئے اور ضیا الحق نے بڑے شہروں میں فوری سوئمنگ پول بنانے کا حکم دے دیا۔
اب صورتحال بہت تبدیل ہو چکی ہے، سوئمنگ پول ہیں مگر کھلاڑیوں کو تربیت دینے کا کوئی نظام موجود نہیں، حکومتی ادارے، فیڈریشن اور ایسوسی ایشنز فنڈز پر اپنی عیاشیاں کرتے ہیں، چھوٹے موٹے ایونٹس کرا کر تصاویر چھپوا کر کارروائی پوری کرتے ہیں، بزدار حکومت میں وزیر کھیل پنجاب تیمور بھٹی نے پنجاب کی سپورٹس ایسوسی ایشن کو تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے کے فنڈز دیے تھے جن میں سے پچاس لاکھ صرف پنجاب اولمپک ایسوسی ایشن کو دیے گئے، اتنا فنڈ لینے کے بعد بھی کوئی بتا دے کہ کسی کھیل کی ایسوسی ایشن نے ایک بھی کھلاڑی عالمی مقابلوں کے لئے تیار کیا ہو۔
اب اتھلیٹ فائقہ ریاض کا قصہ سن لیں، یہ ایتھلیٹ بہت باصلاحیت ہے اور میرٹ پر اولمپکس میں گئی ہے، اس کی ہار کا دلی افسوس ہوا، فائقہ ریاض نے 2019 کی پنجاب گیمز میں 100 میٹر ریس میں پاکستان کا ریکارڈ توڑا تھا جس پر اس وقت کے ڈی جی سپورٹس پنجاب ندیم سرور نے اس کی حوصلہ افزائی کے لئے 50 ہزار روپے کا خصوصی انعام بھی دیا تھا، ان کے ساتھ ساہیوال کے نوجوان علی احمد نے بھی شاندار کارکردگی کا بھی مظاہرہ کیا ان کو بھی پچاس ہزار روپے انعام دیا گیا مگر بعد میں احمد علی کا نام تک نہیں سنا، ظاہر ہے وہ غم روزگار میں گم ہو گیا ہو گا، افسوس اس بات کا ہے کہ یہ ٹیلنٹ ہمارے اداروں اور سپورٹس تنظیموں نے ضائع کر دیا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس ٹیلنٹ کو پالش کیا جاتا ہے، فائقہ ریاض کو بہترین تربیت دی جاتی مگر افسوس پانچ سال بعد اولمپکس میں چھٹے نمبر پر رہ کر ایونٹس سے باہر ہو گئی۔
جیو کے سینئر سپورٹس رپورٹر سہیل عمران نے آج یہ پوسٹ کی ہے پڑھ لیں اور حکومتی اداروں اور سپورٹس تنظیموں کی سرد مہری پر ماتم کریں، ”فائقہ ریاض پیرس اولمپکس 100 میٹر ریس کے پہلے مرحلے میں باہر ہو گئیں، فائقہ ریاض کو پنجاب سٹیڈیم لاہور میں تنہا ٹریننگ کرتے دیکھا، پہلے انہیں ذاتی کوچ میسر نہیں تھا پھر تاخیر سے انہیں ایک خاتون کوچ دی گئیں، بیرون ملک کوئی ایونٹ نہیں دیا گیا اور نہ پیرس اولمپکس میں ان کے ساتھ کوئی کوچ تھا، دستے کے ڈاکٹر انہیں مانیٹر کرتے رہے“ اب سفارش اور تعلقات کی بنیاد پر اولمپک میں حصہ لینے اور پھر ان کی شکست پر ان کی حوصلہ افزائی کا بھاشن دینے والے ”دانشور“ خود ہی شرم کر لیں۔
پاکستان میں پینٹاتھلون نامی ایک فیڈریشن ہے جس کے تحت شوٹنگ، روئنگ، رننگ، ہارس رائیڈنگ وغیرہ کے مقابلے کرائے جاتے ہیں، ہر سال ان کے مقامی سطح پر ایونٹس ہوتے ہیں، سپورٹس بورڈ پنجاب سے فنڈز بھی لیتے ہیں مگر کشمالہ طلعت شوٹنگ کے ایونٹ میں پہلے مرحلے میں ہی باہر ہو گئیں۔
30 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ پاکستان کسی اولمپک میں کوئی بھی میڈل نہیں جیت سکا، ملک میں سپورٹس کے محکمے اور وزرا ہیں، ایک کھیل کی دو، دو تین، تین سپورٹس فیڈریشنز اور ایسوسی ایشنز ہیں مگر کھلاڑی ایک بھی تیار نہیں ہو رہا جو کہ عالمی ٹائیٹل جیت سکے، سیاستدانوں کی طرح سپورٹس تنظیموں نے کھاؤ پیو پروگرام بنا رکھا ہے کوئی ملک کے لئے کام نہیں کرتا، ہماری قومی غیرت دفن ہو چکی ہے، 2014 سے 2016 تک ڈی جی سپورٹس پنجاب عثمان انور نے سپورٹس کو فروغ کے لئے بہت کام کیا انہوں نے تین سال میں بھارت کے کھلاڑی لاہور بلوائے اور انڈو پاک گیمز منعقد کرائی، اس وقت میں موجود رہا، خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ بھارتی کھلاڑیوں اور آفیشلز میں نیشنل ازم بہت دیکھا جبکہ ہمارے کھلاڑی اور آفیشلز ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہے۔
77 برسوں میں جہاں ملک کا ہر ادارہ تباہ ہو چکا ہے وہاں سپورٹس بھی تباہ ہو چکی ہے، ہاکی، سکواش، کبڈی کس کس کھیل کا رونا رویا جائے، سپورٹس کو فروغ دینے اور نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کے لئے قومی جذؓبے سے کام کرنا ہو گا ورنہ قوم ہر عالمی ایونٹ کے بعد پاکستانیوں کی شکست پر یہی کہے گی ”شکر کرو ڈوبیا نئی“۔


