فیملی وی لاگنگ اور عفان قیصر: یا منافقت تیرا ہی آسرا
سوچتی ہوں عورت جاتی کے ساتھ حسد کی کوئی تو حد ہوتی ہی ہو گی جہاں پہنچ کر عفان قیصر جیسوں کا کیڑا ختم ہو جائے۔ لیکن یہ تو بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ موصوف کا تازہ ترین مسئلہ ہے کہ اقرا کنول اور ان کی بہنیں سسٹرولوجی یوٹیوب چینل سے کروڑوں چھاپ رہی ہیں اور میں ویلا ہی بیٹھا ہوں۔ بھئی آپ کی شہابیہ اخلاقیات اتنی ہی بلند ہیں تو بیگم کو بھی ٹوپی والا برقعہ چڑھائیں اور گھر بٹھائیں۔ آخر آپ نے بھی تو اپنی فالوونگ بیگم کی رونمائی کے ذریعے ہی بڑھائی ہے جبکہ اپنے تمام سوشل میڈیا ہینڈلز کے ٹائٹلز اور ملکیت اپنے نام پہ ہی رکھی ہوئی ہے۔
پدرسری معاشرے میں ہر وہ عورت اشفاقیہ سوچ کو بدکردار لگتی ہے جسے وہ مالی فائدے کے عوض بستر تک نا لا سکے۔ اپنا پیسہ، اپنی سوچ رکھنے والی عورت ان کے نزدیک اچھی عورت نہیں ہے حالانکہ جناب کی اپنے گھر میں ایسی ہی خواتین موجود ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان کو بھی ویڈیوز میں مہمان اداکار کا کردار تو ضرور دیا جاتا ہے لیکن اتنے برسوں میں نہ تو ڈاکٹر نازش کے اپنے نام کا کوئی چینل نظر آیا نہ ان کی اپنی کوئی پہچان بننے دی گئی۔ بیوی کے نام کے ساتھ اپنا نام چپکا ڈالنا ایک اور پدرسری علامت ہے۔
سسٹرولوجی بنیادی طور پہ پانچ بہنوں کا ایک یوٹیوب چینل ہے۔ سب سے پہلے تو ان کے والد داد و تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے پانچ عدد بیٹیوں کے بوجھ تلے دب جانے کی بجائے ان کو پڑھنے اور سب سے اہم بولنے کا حق دیا۔ کسی کی سوچ ٹھیک غلط ہونا ایک بات ہے اور اشفاقیہ سوچ نافذ کرتے رہنا ایک اور بات۔ کوئی بھی شخص کیا بولنا چاہتا ہے کیا دکھانا چاہتا ہے اور لوگ کیا اسے دیکھتے ہیں یا نہیں، اس کا فیصلہ کوئی ڈاکٹر عفان تو نہیں کر سکتا۔ ڈاکٹر عفان جیسوں کا رویہ موٹر سائیکل چلانے والے ان لونڈوں سے مشابہ ہے جو خود ہیلمٹ کے بغیر بائیک بھگا رہے ہوتے ہیں لیکن سامنے والی باجی کو ”دوپٹہ ُچک لوو باجی“ کہنا ہرگز نہیں بھولتے۔
ارے بھائی کوئی کتنا کما رہا ہے یوٹیوب سے اور لوگ کیوں دیکھ رہے ہیں یہ آپ کا دردِ سر کیوں بن گیا ہے یا یہ سب ماضی کی طرح سستی شہرت حاصل کرنے کا ایک اور حربہ ہے۔ یاد رہے کہ موصوف سموسے بریانی کو ایٹم بم قرار دینے اور تربوز میں انجکشن کے شگوفے چھوڑنے سے کافی وائرل ہوئے تھے۔ حالانکہ ایک غریب تربوز والا پورے مہینے میں اتنا نہیں کماتا ہو گا جتنا یہ ایک مریض کے خود ساختہ ٹیسٹ لکھ کر ایک ہی دن میں جھاڑ لیتے ہیں۔ لیکن انہیں ہر اس شخص سے مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے جو حق حلال کے چار پیسے کما کر جیسے تیسے اپنا گھر چلا رہا ہوتا ہے۔ ہاں ٹریفک سگنلز پہ کھڑے ہو کر بھیک مانگنے والوں پہ بھی اپنی گاڑی سے اترے بنا وی لاگ بنا کر ان کی مظلومیت کی آڑ میں سستی ویور شپ حاصل کرنے کی کوشش موصوف کا اکثر وتیرہ رہی ہے۔
یہی ڈاکٹر عفان اکثر پیپلز پارٹی پہ تنقید کرتے پائے جاتے ہیں۔ طرفہ تماشا یہ کہ اسی پارٹی کی جس صوبہ میں حکومت ہے اسی جگہ موجود ہسپتال میں ٹریننگ حاصل کر کے آئے ہیں لیکن اسی جماعت پہ تنقید کے نشتر چلانا ان ڈاکٹر صاحب کے پسندیدہ مشاغل میں سے ایک ہے۔ ہے نا کمال کی بات کہ ایسا ہسپتال انہیں روشن پنجاب میں نہ ملا۔ احسان فراموشی کی یہ بدترین مثال ہے۔
بہاولپور کے قائد اعظم میڈیکل کالج پہ ویسے ریسرچ ہونی چاہیے کہ اس کالج سے ہی ایسے نمونے کیوں نکلتے ہیں۔ ایک اور سینئر ڈاکٹر صاحب بھی اکثر کئی مہنگی جلدی فارغ نہ ہونے میں مدد دینے والی دوائیوں کے اشتہارات میں پائے جاتے ہیں حالانکہ جناب سرجن ہیں اور سرجری والوں کا دوائیوں سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا مردوں کا میک اپ سے۔ لیکن کیا کریں جی گندا ہے پر دھندا ہے۔
سمجھ یہ نہیں آتی کہ آخر وہ کون سا عظیم معاشرتی نظام ہے جسے بچانے کی خاطر ایسے لوگ مرے جا رہے ہیں۔ ہم نے تو دیکھا کہ اس زبردست خاندانی نظام کی خاطر لوگ ڈنکیاں لگانا قبول کر لیتے ہیں تاکہ پیچھے ابے نے جو دو بیٹوں کی جوڑی بنانے کے چکر میں دس دھیاں جم لی ہوتی ہیں ان کو بھی بیاہنا ہوتا ہے۔ کسی کماؤ پت کو ماں باپ کسی کو بہن بھائی نچوڑ رہے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے اندر بھی عظیم خاندانی نظام میں مقید افراد کی یہی ذہنی حالت ہوتی ہے۔ اور بھاگنا اس اخلاقی طور پر تباہ حال یورپ میں ہونا ہوتا ہے جہاں بہت بے شرمی ہو چکی ہے۔ ہے نا کمال۔
اصل میں روحانیت اخلاقیات مشرقی اقدار کا منجن یہاں بنانا بہت آسان ہے اور بکتا بھی خوب ہے۔ ہینگ لگے نا پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آئے۔ واہ منافقت تیرا ہی آسرا۔ قیصر راجہ، ساحل عدیم جیسے کئی کردار اس معاشرے کی ذہانت کی علامت ہیں۔
ہماری تو مخلصانہ دعا ہے کہ ڈاکٹر ساب کا چینل کچھ ترقی کر ہی لے کسی طور ورنہ سچ مچ سٹپٹا کر آخر میں اپنے بیڈروم سے ایسا ہی فیملی وی لاگنگ نہ شروع کر ڈالیں جس کے خلاف آج کل آئے دن بھاشن دیتے رہتے ہیں۔

