چھوٹے میاں صاحب اور آئی پی پیز


ملکی حالات روز بروز نازک صورتحال سے دوچار ہو رہے ہیں۔ ہر نئی آنے والی حکومت پچھلی سے زیادہ بُری کارکردگی دکھا کر اپنا نام گنیز بک آف پاکستان ریکارڈ میں درج کروانے پر فخر محسوس کر رہی ہے۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ بجلی اور گیس کے بلوں میں ریکارڈ اضافے نے معیشت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے، مگر حکمران طبقے کی عیاشیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ افسر شاہی، حکومتی نمائندوں اور اراکین اسمبلیوں کے لئے نئی لگژری گاڑیوں کی ہر سال خریداری اور مراعات میں اضافہ، پاکستان جیسے تباہ حال ملک میں کس طرح ممکن ہو سکتی ہے۔

ناجائز ٹیکسز کی وَبا نے دو وقت کی جگہ ایک روٹی کھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ بجلی اور گیس کے بلوں کی ادائیگی کرنے کے لیے لوگ اپنی قیمتی اشیا فروخت کر رہے ہیں تو کوئی اپنی جان کا نذرانہ دے رہے ہیں۔ مگر حکومتی ایوانوں میں جوں تک نہیں رینگ رہی۔ کیوں کہ ان لوگوں کو مفت کی بجلی، گیس، ائرلائن ٹکٹ اور کئی مراعات حاصل ہوتی ہیں۔

مقتدرہ نے بڑے چاؤ کے ساتھ میاں شہباز شریف کو وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر براجمان کروایا تھا۔ اور اُس کی اُمید تھی کہ شہباز اسپیڈ اپنی مہارت سے بہت جلدی حالات پر قابو پالیں گے۔ مگر نتیجہ اس کے بالکل برعکس ثابت ہوا ہے۔ شہباز شریف فیصلہ لینے کی طاقت سے محروم ہیں اور معاملات کو بے جا طول دے رہے ہیں۔ جس سے مقتدرہ تذبذب کا شکار ہو رہی ہے۔ اس صورتحال میں صدر زرداری جن کے معاملات ماضی میں مقتدرہ سے بہتر نہیں تھے مگر اب اثر و رسوخ دوبارہ بڑھ رہا ہے۔ جس کا اندازہ حالیہ واقعات سے بخوبی ہو رہا ہے۔

ٹیکسز کے اضافے اور بجلی کے بلوں میں کپیسٹی چارجز کی وجہ سے تاجر برادری کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ جس کی سنجیدگی مقتدرہ کو بھی محسوس ہو رہی ہے۔ شہباز شریف آئی پی پیز کے ساتھ بدستور کھڑے ہیں، اِسی لیے مقتدرہ نے صدر زرداری کو میدان میں اُتار دیا ہے۔ یہی نون لیگ کی سب سے بڑی شکست ہوگی اور پیپلز پارٹی اگر اِس معاملے کو سلجھانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو وہ اس دور کی فاتح بن جائے گی۔

میثاقِ جمہوریت کے بعد سے نون لیگ مسلسل غلطیاں کر رہی ہیں، مگر اِن گزشتہ 3 سالوں میں اُس نے وہ بلنڈرز مارے ہیں جس سے اُس کی ساکھ بہت بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ سب سے پہلا بلنڈر تو عمران حکومت کو فارغ کر کے خود وزارت عظمیٰ کی کرسی سنبھالنا تھی مگر چھوٹے میاں کو بھی اس عہدے کا مزہ چکھنے کا بڑا شوق تھا۔ بڑے میاں صاحب کے لاکھ سمجھانے پر وہ ماننے کو تیار نہیں تھے اور پیپلز پارٹی نے بڑی ہی چالاکی اور ہوشیاری سے سارا ملبہ نون لیگ کی جھولی میں ڈال دیا۔ نقصان دونوں پارٹیوں کو ہوا مگر زیادہ نونیوں کو۔ انتخابات 2024 میں ان دونوں پارٹیوں کو ہی عوام نے مسترد کر دیا۔ وہ تو بھلا ہو ”فارم 47“ بنانے والوں کا ورنہ اِن کا انجام بہت بُرا تھا۔

خیر دوبارہ مخلوط حکومت قائم ہو گئی اور دوسری بار وزارتِ عظمیٰ کا منصب چھوٹے میاں کو تفویض کر دیا گیا۔ مقتدرہ اب بہت پریشان ہے، کیونکہ شہباز شریف کارکردگی دکھانے میں یکسر ناکام ہو رہے ہیں۔ اُن میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، وہ ہر معاملے میں بڑے میاں صاحب یا مقتدرہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اب صورتحال اس نہج پر ہے کہ اس حکومت کو چلتا کرنے کے پروگرام بنائے جا رہے ہیں۔ اب وہ کس طرح ممکن ہوتا وہ کہنا قبل از بعید ہے۔

بانی پی ٹی آئی کا مستقبل ابھی تک ایک بند گلی میں ہے۔ عمران خان کی جیل میں موجودگی نے تحریک انصاف کا شیرازہ بکھیر دیا ہے۔ ہر کوئی اپنی من مانی کرنے پر لگا ہوا ہے۔ معاملات کو دو طرفہ چلانے سے نقصان ہو رہا ہے۔ کہنے کو تو سب کام بانی پی ٹی آئی کی رضامندی سے ہو رہے ہیں مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کی عدم موجودگی میں سیاسی بونوں نے خود کو بہت بڑا سمجھ لیا ہے۔ بہرحال کچھ کیسز میں عمران خان کی بریت ہو چکی ہے مگر ابھی بھی کچھ کیسز باقی ہیں جن پر فیصلہ آنا باقی ہے۔ اگر عمران خان اور مقتدرہ میں مذاکرات ہو جاتے ہیں، یہ کیسز بھی ماضی کی طرح بخارات بن کر اُڑ جائیں گے۔ وگرنہ عمران خان کا جیل سے باہر آنا بظاہر طور پر ناممکن ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں مقتدرہ کا بہت بڑا عمل دخل رہا ہے، سیاستدانوں نے ہمیشہ اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کرنے کے بجائے پیر پکڑنے پر اپنی توانائیاں صرف کی ہے جس کا خمیازہ آج تک پاکستان بھگت رہا ہے اور اب بھی ان کو عقل نہیں آ رہی ہے۔ پاکستان کی حالت اب اُس گدھے کی سی ہو گئی جس پر اُس کی طاقت سے زیادہ بوجھ لاد دِیا گیا ہے جو نہ چل سکتا ہے اور نہ ہی بیٹھ سکتا ہے۔

مہنگائی اور بجلی کے بلوں کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا جاری ہے جو تادم تحریر شہر اقتدار میں جاری ہے۔ اس کا فیصلہ کیا ہو گا، ماضی سے مختلف نہ ہو گا۔ لارے لپے، وعدے دعوے کیے جائیں گے۔ احتجاج ختم کیا جائے گا اور پھر ”وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے“ کے مصداق سب ختم۔

تاجر برادری کے بھی صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز اس معاملے پر تاجر برادری کی سربراہی کر رہے ہیں اور ارباب اقتدار میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ تاجر برادری کی جانب سے اگر کوئی ایکشن لے لیا جاتا ہے، جس کی توقع بہت زیادہ ہے، تو حکومت کے لیے مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہے۔ چھوٹے میاں صاحب کے لیے یہ کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔ اُنہیں چاہیے کہ سب سے پہلے آئی پی پیز کے معاملے کو انصاف کے مطابق حل کریں۔

جنہوں نے ناجائز طور پر قومی خزانہ لوٹا ہے اُن سے فوری واپس لیا جائے چاہے اُس میں اُن کے اپنے خاندان والے ہی کیوں نہ ہوں۔ ان آئی پی پیز میں اکثریت سیاستدانوں کی ہے۔ اگر وہ یہ اقدام نہیں کرتے تو اُن کا گھر جانا یقینی ہے۔ بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتیں کم کی جائیں اور ناجائز ٹیکسز کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ”مادرِ بحران“ سے گزر رہا ہے۔ معاشی بحران، سیاسی بحران، آئینی بحران، انتظامی بحران، اعتماد کا بحران اور اب مہنگی بجلی و گیس کا عذاب، حکومت اگر تیزی سے فیصلے نہیں کرے گی تو بے اطمینانی اور مایوسی مزید بڑھے گی۔ شہباز حکومت کوئی اُمید دلانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ اگر یہی حال بدستور رہا تو اُن کے بارے میں نظر آنے والے بُرے خواب، کہیں حقیقت نہ بن جائیں!

Facebook Comments HS