عوامی نا اہلی اور عالمی تنہائی


ہماری غیر ذمہ داریوں کی داستانیں ملک سے نکل کر عالمی سطح تک مشہور ہونے لگی ہے۔ عمومی طور پر عوام کا پسندیدہ موضوع حکومتی کمزوریوں اور نا اہلیوں سے متعلق ہوتا ہے اور چوبیس گھنٹوں میں سے وقت کا بڑا حصہ ہم سیاستدانوں، بیوروکریٹس، اسٹیبلشمنٹ اور جوڈیشری پر تنقید کرتے ہوئے گزارتے ہیں۔ لیکن عوام کبھی اپنی غیر ذمہ داریوں پر توجہ نہیں دیتی۔

وفاقی وزیر برائے سمندر پار کا کہنا ہے کہ بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کے رویے سے متعلق بہت سی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ اسی وجہ سے لوگوں کو قانونی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ہم جہاں بھی جائیں وہاں ایک منی اسٹیٹ بنانے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ جس ملک میں آپ ہوتے ہیں وہاں کے قوانین کا آپ پر اطلاق ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری شناخت پروفیشنلسٹ ہونے کے بجائے ہمارے غلط کاموں سے کی جاتی ہے۔ پاکستان سے باہر جانے والے لوگوں کی اکثریت کی اسکلز عالمی معیار کی نہیں ہوتیں۔ پاکستان میں جو سیاسی اور فرقہ ورانہ تقسیم ہے وہ بھی باہر ممالک میں منتقل ہو گئی ہے۔ بیرون ملک میں موجود لوگ پاکستانی نیوز چینلز زیادہ دیکھتے ہیں اور سارا دن پاکستانی سیاست میں الجھے رہتے ہیں۔

پاکستان کا پاسپورٹ دنیا کا چوتھا بدترین پاسپورٹ بن گیا ہے۔ عالمی تنہائی اس وقت ہمارا مقدر ہو چکی ہے۔ مڈل ایسٹ کو بھی جن ممالک سے زیادہ شکایات ہیں ان میں پاکستان سر فہرست ہے۔ ترکی اور چین میں پاکستان کا اچھا امیج آخری سانسیں لے رہا ہے باقی دنیا میں ہمارا امیج مکمل طور پر خراب ہو چکا ہے۔

دبئی میں کوٹہ کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ ملائیشیا میں لوگوں کا معاہدہ مکمل ہونے کے بعد بھی غیر قانونی طور پر لوگ رہتے ہیں اور جی سی سی ممالک نے بھی پاکستانی ورکرز کے رویے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جس کی ایک بڑی وجہ دبئی میں خواتین کے ساتھ نامناسب رویہ بھی ہے۔ یو اے ای نے پاکستان کے چوبیس شہروں پر غیر علانیہ پابندی لگا رکھی ہے۔ قطر میں پاکستانی لیبر کا ہیلمٹ پہننے سے انکار کرنا بھی بڑا مسئلہ ہے۔ ان سب باتوں کے بعد رہی سہی کمی ہمارے سفارتخانے پوری کر دیتے ہیں دو چار سفارتخانوں کو چھوڑ کر کہیں ملک کے لیے کوئی بہتر کام نہیں ہوتا۔ ان مسائل کی وجہ سے تمام تر توجہ مشرق وسطیٰ کی بجائے افریقہ کی سستی لیبر کی طرف ہو رہی ہے۔

ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ لیبر کو باہر بھیجنے سے پہلے اُن کی ٹریننگ کی جائے۔ جی سی سی ممالک کی شکایات کو دور کرنے کے لیے حکومتی سطح پر پالیسیاں بنائی جائیں۔ یقیناً حکومت کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ جو پاکستانی باہر موجود ہیں وہ اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں تاکہ ان ممالک میں پاکستانیوں کی قبولیت بڑھ جائے۔ پاکستانی جس ملک میں بھی رہیں اس سوسائٹی میں گھلنے ملنے کی کوشش کریں۔ اور فارغ وقت میں اپنی اسکلز کو بہتر بنانے کی کوشش کریں اور اپنے ملک میں ہونے والی سیاسی، مذہبی بحث و تکرار میں وقت ضائع نہ کریں۔ تاکہ نئے آنے والے پاکستانیوں کے لیے راہ ہموار ہو سکے۔

Facebook Comments HS