ڈارک میٹر: کائنات میں ہمارے وجود کی پوشیدہ بنیاد
ہماری کائنات غیر مرئی اشیا سے پر ہے، بلیک ہول، ایٹمز اور ان میں موجود بنیادی ذرات۔ اگرچہ سائنس کی ترقی کے ساتھ ہمیں ان چیزوں کے بالواسطہ شواہد حاصل ہوچکے ہیں مگر ہماری کائنات ایسے ڈارک میٹر (تاریک مادہ) سے بھری ہے جو سمندر، پہاڑ، سورج، کہکشائیں، ستارے غرض یہ کہ تمام دکھائی دینے والی اشیا کے مجموعے سے پانچ گنا زیادہ ہے۔ اور باوجود اس کے ہم اس ڈارک میٹر کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔
اہم بات یہ ہے کہ ڈارک میٹر کائنات میں ہمارے وجود کی پوشیدہ بنیاد فراہم کرتا ہے۔ آئین سٹائن کی گریوٹی تھیوری اور پارٹیکل فزکس کے درست ترین سٹینڈرڈ ماڈل کے حساب سے اگر تاریک مادے کا وجود کائنات سے نکال دیا جائے تو کائنات میں کہکشاؤں، ستاروں اور خود حضرت انسان کے بننے خاطر درکار وقت ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔ لیکن اگر کائنات کے ابتدا میں تاریک مادہ موجود ہو تو اس کی روشنی کے ساتھ یکسر تال میل نہ کھانے کی خصوصیت کی بدولت کائنات میں ایسے حصے وجود میں آسکتے ہیں جہاں عام مادے کے ڈھانچے پروان چڑھ سکیں اور بالآخر ہمارا وجود ممکن ہو سکے۔ لہذا کائنات میں انسان کے وجود کے لئے ڈارک میٹر کا ہونا اور مکمل تاریک ہونا ضروری تھا۔
اگرچہ ہماری کائنات میں ڈارک میٹر کی مقدار عام مادے سے پانچ گنا زیادہ ہے، مگر ہم ابھی تک اس کے بارے میں صرف اتنا جانتے ہیں کہ یہ کشش ثقل رکھتا ہے اور اپنے پاس سے گزرنے والی اشیا بشمول روشنی کو اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔ دنیا بھر میں ڈارک میٹر پہ تحقیق کی جا رہی ہے اور اب تک کی تحقیق کے نتیجے میں ڈارک میٹر کی وضاحت دو قسم کے نظریات سے ممکن ہے۔
اول: ایسا تاریک مادہ جو عام مادے کی طرح بنیادی ذرات سے مل کر بنا ہو مگر یہ ذرات عام مادے کے تمام ذرات سے یکسر مختلف ہوں۔
دوم: کشش ثقل کا نیا نظریہ۔ سائنس کی دنیا میں آج تک محض دو سائنسدان ایسے گزرے ہیں جن کے نظریات سے کشش ثقل کی وضاحت ممکن ہو سکی ہے۔ نیوٹن اور آئن سٹائن۔ لیکن یہ دونوں نظریات ڈارک میٹر کی وضاحت میں ناکام ہیں۔ لہذا بیشتر نظریات کشش ثقل کے نئے قوانین ترتیب دے کر ڈارک میٹر کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پارٹیکل فزکس کے حوالے سے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں قائم دنیا کی سب سے بڑی لیبارٹری سرن (CERN) میں بھی ڈارک میٹر پہ تحقیق جاری ہے اور بیشتر پاکستانی طلبا اور سائنسدان اس تحقیق کا حصہ ہیں۔ تاہم کائنات کی مشکل ترین گتھیوں میں سے ایک حل کرنے کے لئے ہر وقت تازہ دم اذہان کی ضرورت رہتی ہے۔ امید ہے مزید پاکستانی طلبا اس تحقیق میں اپنا حصہ ڈالتے رہیں گے۔

