ن م دانش کے ”بچے، تتلی، پھول“
دنیا میں جینا اور شاعری میں اسی دنیا کو برتنا، یکساں نہیں ہے۔ دنیا کے اصول و قاعدے اور شاعری کی دنیا کے اصول و قاعدے جدا ہیں۔ نیز شاعری کے قاعدے کے تحت، معمول کی زندگی نہیں گزاری جا سکتی۔ ن م دانش نے یہ خیالات اپنے شعری مجموعے ”بچے، تتلی، پھول“ کی دوسری اشاعت کے پیش لفظ میں ظاہر کیے ہیں۔ لیاری سے تعلق رکھنے والے، اور آج کل امریکا میں مقیم نقاد اور شاعر ن م دانش نے اس کتاب کی پہلی اشاعت ( 1997 ء) کا بھی تفصیلی پیش لفظ لکھا تھا۔ اس میں انھوں نے جنرل ضیا کی آمریت، اپنی ترقی پسندی (جسے وہ اردو کے ترقی پسند ادیبوں کی پہلی نسل کی ترقی پسندی سے مختلف کہتے ہیں ) اور اظہار کے نئے پیرائے کی تلاش پر لکھا تھا۔
انھوں نے غزل و نظم کے نئے شاعروں پر تنقید بھی کی ہے، جن کا مسئلہ اپنے حقیقی، انفرادی اظہار کے بجائے مقبولیت تھی۔ وہ یہ رائے بھی قائم کرتے ہیں کہ مقبولیت کی خواہش رکھنے والے، ردّ کیے جانے کے خوف میں مبتلا ہوتے ہیں۔ وہ اس خوف سے عہدہ برا ہونے کی کوشش کے طور پر اپنے عہد کے ممتاز لوگوں سے سند چاہتے ہیں۔ دانش صاحب اسی کی دہائی کی بات کر رہے ہیں۔ تب نئی شاعری کی تحریک کا جوش اگرچہ کم ہو چکا تھا، مگر اس نے نئی شاعری کی شعریات کو نئی زبان سے جس طور مشروط کیا تھا، اس کے اثرات موجود تھے۔
دانش صاحب خود اپنی شاعری کے سلسلے میں حد درجہ حساسیت رکھتے محسوس ہوتے ہیں۔ وہ اپنی شاعری کو زمانے اور خود اپنی ذات دونوں سے وابستہ کرتے محسوس ہوتے ہیں۔ یعنی ترقی پسندی اور اظہار کی انفرادیت سے۔ دانش صاحب کو تب اردو کے معاصر ادبی معاشرے سے شکایات بھی تھیں، اور ان کے اظہار میں تلخی و طنز کے عناصر بھی تھے۔ اردو کا ادبی معاشرہ تو اب بھی کم و بیش ویسا ہی ہے، جیسا انھیں اسی اور نوے کی دہائی میں دکھائی دیا تھا، مگر نئے پیش لفظ میں دانش صاحب ویسے دکھائی نہیں دیتے۔
اب ان کی طبیعت میں ٹھہراؤ ہے۔ شکایت اور تلخی نہیں ہے۔ دنیا، سماج، شاعری کے سلسلے میں صرف خیالات نہیں، بصیرت ہے۔ چیزوں کو تسلیم کرنے کا وجودی روّیہ محسوس کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً یہ کہ ”شاعرانہ طرزِ احساس اور زندگی، سماج اور دنیا کو دیکھنے اور برتنے کے انداز کے ساتھ معمول کی زندگی نہیں گزاری جا سکتی ہے“ اور ”بعض اوقات ان میں سے کسی ایک کا انتخاب زیادہ ایماندارانہ عمل ہوتا ہے“ ، نیز ایک bad faithکے ساتھ زندگی گزارنے کے بجائے، ”کوئی بھی مصدقہ زندگی گزارنا زیادہ بہتر ہے“ ۔
مصدقہ اور غیر مصدقہ زندگی کا امتیاز، وجودی مفکروں، خصوصاً ہائیڈگر اور سارتر نے واضح کیا تھا۔ مصدقہ زندگی غیر مبہم علم اور دیانت داری سے بسر کی گئی زندگی ہے۔ یہ زندگی مشکل، تلخ، اضطراب انگیز ہو سکتی ہے، مگر اس کے سلسلے میں وہ احساسِ جرم نہیں ہوتا، جسے ’وجودی احساسِ جرم‘ کہا گیا ہے۔ یہ احساس ِ جرم پیدا ہی اس وقت ہوتا ہے، جب آدمی زمانے اور تقدیر سے ملنے والی زندگی کو سمجھے اور اس کی ذمہ داری قبول کیے بغیر جیتا ہے۔ انتخاب اور فیصلے اور ان کی ذمہ دادی قبول کرنے کے بعد بسر کی گئی زندگی، مصدقہ ہے۔ ن م دانش صاحب نے مصدقہ اور غیر مصدقہ زندگی کی بحث ایک بار پھر تازہ کردی ہے۔
ن م دانش صاحب کا یہ نکتہ بھی بہت اہم ہے کہ شاعرانہ طرزِ احساس اور معمول کی زندگی کا طرزِ احساس، ایک دوسرے سے اس قدر مختلف ہیں کہ دونوں اکٹھے نہیں چل سکتے۔ دونوں میں بلاشبہ فرق ہے۔ شاعری کا ذہنی و احساساتی منطقہ مختلف ہے، اور عام روزمرہ زندگی کے احساسات و خیالات اور ہیں۔ شاعری میں تتلی، پھول، بچے وہ نہیں جو عام روزمرہ زندگی میں دکھائی دیتے ہیں۔ ملارمے نے ”شاعری میں بحران“ والے مضمون میں یہ خیال پیش کیا تھا کہ شاعری کا پھول، شاعری کی زبان میں موجود ہوتا ہے، اور کہیں نہیں۔ گویا شاعری اپنے پھول، بچے، تتلیاں خود پیدا کرتی ہے۔
بیسویں صدی کی ہیئتی اور مابعد جدید تنقید کا بڑا حصہ، اسی خیال کو لے کر چلتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا شاعری، معمول کی زندگی ( روزمرہ زندگی کے تجربات، خوف، اندیشے، مشاہدات، خواب) سے اپنا مواد نہیں لیتی؟ کیا یہی معمول کی زندگی، اس کے مصائب، اس کے سوالات، اس کی الجھنیں، اس کے مصائب شاعرانہ تخیل کو تحریک نہیں دیتے؟ بجا کہ شاعری میں یہ سب بدل جاتا ہے، شاعری ان سب پر اپنے قوانین یا شعریات نافذ کرتی ہے، اور انھیں پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے، اور ان کی پہچان کے لیے ہمیں روایت کی طرف جانا پڑتا ہے، یا اس متن ہی میں اس کی تفہیم کرنا ہوتا ہے، مگر اس معمول کی زندگی کا کوئی نہ کوئی سرا باقی رہتا ہے، اور اسی سبب سے ہم شاعری کو اپنی روزمرہ زندگی ہی کے جبر و قہر، میکانکیت سے نجات کا ذریعہ بھی خیال کرتے ہیں۔ ایک مکمل فنتاسی بھی، ہماری زندگیوں سے متعلق ہوا کرتی ہے۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ خود ن م دانش کے یہاں یہی روزمرہ، پاکستانی سماج خصوصاً کراچی اور سندھ کی روزمرہ زندگی کے مٹے مٹے سہی، نشانات (traces) موجود ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ شاعری کو اپنے معانی کے انکشاف کے لیے ایک لنگر چاہیے ہوتا ہے۔ ایک لنگر تو خود شاعر مہیا کرتا ہے، جب وہ اپنی شاعری کو اپنے تجربے، سماج سے متعلق اپنے کسی تصور و فلسفے یا روایت میں موجود مضامین سے منسلک کرتا ہے۔ اسے آپ شاعر کی منشا بھی کہہ سکتے ہیں۔ دوسرے لنگر کی تلاش قاری کرتا ہے، اپنی بساط، علم، ذوق اور بصیرت کے مطابق۔ کہیں وہ شاعر کی منشا کو اہمیت دیتا ہے، کہیں نہیں۔ ایک بات تو بالکل واضح ہے۔ شاعری جب شاعر کے تخیل سے قرطاس پر منتقل ہوجاتی ہے تو اس پر اگر کسی کا واقعی اختیار ہوتا ہے تو وہ قاری ہے۔ وہ اسے نظر انداز کر سکتا ہے، اسے بے خلل توجہ کا مرکز بنا سکتا ہے، اسے درست انداز میں پڑھ سکتا ہے، اس کی غلط، ناقص تفہیم کر سکتا ہے، اور اس کے معانی کی طرفوں کو مسرت آمیز اسلوب میں کھول سکتا ہے۔ ایک قاری سے اختلاف بھی دوسرا قاری کرتا ہے۔ یعنی ایک قرات کی تکمیل یا تردید دوسری قرات کرتی ہے۔
ن م دانش اگر اپنے پیش لفظ شامل نہ بھی کرتے تو نظموں کے سلسلے میں خاص طور پر یہ اندازہ لگانے میں مشکل پیش نہ آتی کہ وہ بیسویں صدی کے اواخر کے پاکستان کی سماجی صورت ِ حال اور اس صورتِ حال میں مبتلا آدمی کی حالتِ دل سے تحریک پائی تھیں۔ مثلاً نظم ’لیاری‘ کراچی کی اس بستی کا طنزیہ نوحہ ہے، جس کی تہ میں گہری ہم دلی ہے۔ لیاری سویا ہوا ہے اور شاعر اسے بیدار کرنے کے جتن کر رہا ہے۔ وہ اس پر گزرنے و الی اور گزرنے کے لیے دہلیز پر کھڑی قیامتوں سے مطلع کر رہا ہے، مگر لیاری اپنے غم کی تمازت سے اپنی بینائی کھو چکا ہے۔
مگر تم یہ دیکھو گے کیسے
تمھاری تو آنکھیں نہیں ہیں
تمھیں تو تمھارے ہی غم کی تمازت نے
اندھا کیا ہے
اور اندھے کی قسمت!
عصا اور ٹکڑا
ان کی نظموں کا بڑا حصہ شہر کو لکھتا ہے۔ شہر کو لکھتے ہوئے، ان کا قلم سفاک ہوجاتا ہے۔ سفاک حقیقت پسند۔ کہیں کہیں غصہ بھی ان کی نظموں کے متکلم کے لہجے میں شامل ہوجاتا ہے۔ غصہ، شدید حساسیت اور عدم مطابقت اور انکار ہی کی ایک صورت ہے۔ غصہ مزاحمتی ادب کا حصہ ہوا کرتا ہے۔ مثلاً نظم ’احتجاج‘ کا ابتدائی حصہ دیکھیے :
ہوا جب تک میرے اس جسم کی دیوار کو
بوسیدہ چھلنی کی طرح
سوراخ در سوراخ کر لیتی نہیں
میں سانس لینے کی کوئی قیمت نہیں دوں گا
یہ لائنیں بھی ملاحظہ کیجیے :
نیا سورج طلوع جب تک نہیں ہو گا
میں گلیوں، آنگنوں
کچے مکانوں
شہر کی ویران سڑکوں
اور دیواروں پر تاریکی ملوں گا
تیر گی پھیلاؤں گا
ظاہر ہے یہ اظہار کا طنزیہ، نیم ملامتی اسلوب ہے۔ جس زمانے میں یہ شاعری لکھی گئی تھی، تب اندھیرا، ظلمت، رات، سورج، روشنی، شام، طلوع صبح، حبس، نیند، خواب، چراغ کو شاعر سیاسی علامتی معانی میں استعمال کر رہے تھے۔ اس وقت یہ لغت موثر تھی، آج اس کا اثر کم ہو گیا ہے، اس کی تاریخی معنویت بہ ہر حال قائم ہے۔
ن م دانش کی ایک اچھی نظم ’ٹنڈو آدم کا مسئلہ‘ ہے۔ یہ نظم ایک شہر کے مسئلے کو خود اسی شہر کے سیاق میں سمجھنے پر زور دیتی ہے۔ شہر کے مسئلے کے گرہ نہ تو کرکیگارڈ کھول سکتا ہے نہ ابن عربی، نہ سارتر نہ مارکس، نہ ایلیٹ۔ نہ پرانا مشرق نہ جدید مغرب۔ ٹنڈو آدم، ان سب سے الگ ہے، مگر انھی میں گھرا ہے۔
ٹنڈو آدم کا مسئلہ عجب ہے
کہ سب پوچھتے ہیں اب اک دوسرے سے
کہ چشموں کے شیشوں پہ دھند کیسی ہے
چیزیں مکمل نظر کیوں نہیں آتیں ہیں
روشنی میں اندھیر اتارا ہے کس نے
دلوں میں یہ کیوں برف سی جم رہی ہے
ٹنڈو آدم کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے چشمے کا شیشہ بھی ٹنڈو آدم کا ہونا چاہیے۔ لیکن کیا اس کے پاس چشمے کا اپنا شیشہ ہے؟ اگر واقعی اس کے پاس شیشہ ہے تو دوسرے شیشے کیوں استعمال کیے جا رہے ہیں؟ یہ سب کب سے شروع ہوا؟ ظاہر ہے نظم تو ان سوالوں کے جواب نہیں دیتی، مگر تاریخ ضرور دیتی ہے۔
ان کی ایک اور قابل ذکر نظم، ’آدم کے بیٹے‘ ہے۔ اگرچہ یہ نظم روشنی و تاریکی کی جدلیات پر مبنی ڈکشن کی حامل ہے، اور نظم کے مخاطب کو شب زادہ کہا گیا ہے، جس میں آج شعری جمال اور توجہ انگیز معنی تلاش کرنا مشکل لگتا ہے، مگر یہ نظم کچھ جرات مندانہ باتیں کہتی ہے۔ یہاں بھی شاعر کا قلم سفاک حقیقت پسندی سے کام لیتا ہے۔ ہلکی سی تلخی اور طنز یہاں بھی ہے۔
صحیفے جھوٹ کہتے ہیں
کہ ایک آدم ہے
سب اولاد ہیں اس کی
وہ مٹی سے بنا ہے
جھوٹ کہتے ہیں
الگ سب کا خدا
اور سب کا
اپنا اپنا آدم ہے
سو یہ تسلیم کرلو
سب کا اپنا اپنا آدم ہے
کہ جو کچھ واقعہ ہے
وہ حقیقت ہے
علاوہ اس کے جو کچھ ہے
فقط وہ خواب ہے
عدم مساوات، تفریق، تضحیک، ذلت، رسوائی کے احساسات، ان کی نظموں کا بہ طور خاص محرک بنے ہیں۔ وہ عدم مساوات و تفریق کو صرف سماج اور مقتدرہ کے یہاں تلاش نہیں کرتے، فطرت میں بھی انھیں یہ تفریق دکھائی دیتی ہے۔ نظم ’بدصورتی‘ میں وہ خود فطرت کا حسن و قبح کی تفریق کا سبب قرار دیتے ہیں۔ انھیں اصل الجھن اس بات سے ہوتی ہے کہ فطرت کو مساوات پسند کہا جاتا ہے۔ یہاں بھی وہ سفاک حقیقت پسندی سے کام لیتے ہیں۔ ان کی یہ نظمیں پڑھتے ہوئے خیال آتا ہے کہ کاش وہ نظمیں لکھتے رہتے۔ کسی تخلیق کار کے سب امکانات ایک کتاب میں ظاہر نہیں ہوسکتے۔ ان امکانات کو پوری قوت اور جلال سے ظاہر ہونے کے لیے وقت، تجربہ، اور مسلسل لکھنا درکار ہوتا ہے۔
اگرچہ ن م دانش کی غزلوں میں بھی نظموں کے ڈکشن کا کچھ حصہ ظاہر ہوا ہے، جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ غزلوں میں بھی (ایک حد تک) وہ اپنے شہر کو لکھتے ہیں، اور اس شہر پر سایہ فگن آسیب کو۔ تاہم غزل اپنی شعریات میں ورائے تاریخ ہونے کا امکان رکھتی ہے۔ وہ مخصوص لمحے، مخصوص صورتِ حال، مخصوص تجربے کو عبور کر جاتی ہے۔ اس میں عمومیت، وسعت اور تنوع بہ یک وقت پیدا ہوتے ہیں۔ ن م دانش اپنی غزلوں کو مخصوص جگہوں، حالتوں، کیفیتوں سے وابستہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر غزل کی شعریات خصوص کو عموم میں بدل دیتی ہے۔ غزل کے ہر کلیدی لفظ میں ایک رمزیت و علامت پیدا ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلوں کے مضامین آج بھی تازہ اور اہم محسوس ہوتے ہیں۔ ان مضامین میں اندر اور باہر، شہر، شہرِ ذات، زمین و آسمان، دل و دنیا کی تخصیص نظر نہیں آتی۔
وہ خود کو، عصر کو، سماج کو اور روایت کو غزل میں لکھتے ہیں۔ کلاسیکی غزل میں وحشت ایک اہم مضمون بھی تھا اور کلاسیکی عہد کے انسان کا ایک اہم وجودی مسئلہ بھی۔ یہ دونوں ہمیں جدید غزل گوؤں کے یہاں اور خود ن م دانش کے یہاں بھی دکھائی دیتے ہیں۔ کلیم الدین احمد نے غزل کی وحشت کو مغربی نظم کے کینن کی روشنی میں سمجھا تھا اور ٹھوکر کھائی تھی۔ وحشت، شاعر کو یکسانیت و میکانکیت اور سماج سے اندھی مطابقت کا شکار نہیں ہونے دیتی، اور تمام پیٹرن کو توڑتی ہے۔ ن م دانش کے یہاں وحشت بہ طور مضمون اور ایک وجودی رویے کے موجود ہے۔ غزل کی تازگی میں ایک حصہ اس وحشت کا بھی ہے۔ ن م دانش کی غزل سے چند منتخب اشعار دیکھیے :
اک خاموشی جیسے روح کے سناٹے میں جلتی دھوپ کا راج
اک ویرانی جیسے سب معدوم ہوئے ہیں بچے تتلی پھول
اک محرومی جیسے ہارے لشکر کا ہو تنہا ایک سوار
اک سناٹا جیسے سارے قتل ہوئے ہیں بچے تتلی پھول
اک آدمی بیٹھا ہے بس چھپ کر کہیں دیوار پر
خالی ہے یہ سارا مکاں نہ وقت ہے نہ لوگ ہیں
اک درد پھیلا ہوا ہے اک آگ ہے دہکی ہوئی
حد گماں تک دھواں نہ وقت ہے نہ لوگ ہیں
کوئی منظر کسی مٹھی میں رکتا ہی نہیں لیکن
میں ہر منظر میں اک رنج روانی یاد رکھتا ہوں
وہ خالی آسماں ہو، خالی کمرہ ہو کہ خالی دل
میں ہر اک رنج کو اس کی زبانی یاد رکھتا ہوں
ہوا مضطرب بچے خاموش ہیں
عجب درد نقل مکانی میں ہے
ایک وحشت میں لے کے پھرتی تھی
رات بھر چاندنی مسافر کو
وہ راستہ عجیب ہے مسافرو
جو راستہ ہے درمیان خواب کے
ایک لامحدود تنہائی میرے سینے میں ہے
خالی کمرے اور مکاں کے درمیاں اک رنج ہے


