اپنی مدد آپ سے سیلاب سے بچنے کے طریقے


ہر سال سیلاب آنے سے کسانوں کی قیمتی فصلیں اور گھر بار تباہ ہو جاتے ہیں، اسی طرح جب فصل زیادہ ہوتی ہے تو کسانوں کو اچھی قیمت نہیں مل پاتی، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب سارے کسان ایک ہی فصل جیسے کہ گندم بوتی ہے تو آڑھتی جانتے ہیں کہ بہت غلہ موجود ہے چنانچہ وہ اپنی مرضی کی قیمت لگا کر کسانوں کا نقصان کرتے ہیں۔ اس سے کسان مایوس ہو کر اپنی زمینیں رہائشی آبادیاں بنانے والوں کے ہاتھ فروخت کر دیتے ہیں۔ جو زراعت کا نقصان ہے۔

کسانوں کو چاہیے کہ اپنی آمدن کے ذرائع کو متنوع کریں تاکہ اگر کسی ایک فصل سے کم آمدن ہو تو اس کی کمی دوسری سے پوری کر لی جائے۔ اگر آپ کے پاس صرف چالیس پچاس کنال اراضی ہے تو اس پر ایک باغ بنانے کا سوچیں، اس میں پھل دار پودے لگائیں اور بیچ میں سبزیاں اور جانوروں کا چارہ بوئیں، باغ سے زیادہ آمدن بھی ہو گی اور یہ پورا سال کچھ نہ کچھ رقم کمانے کا موقع فراہم کرتا رہے گا۔

جس کسان کے پاس دو تین درجن گائیں بھینسیں، بھیڑ بکریاں اور تیس چالیس کنال اراضی ہے تو اس کے پاس اتنی دولت ہے کہ وہ متوسط طبقے میں شمار کیا جا سکتا ہے چنانچہ ایسے کسانوں کو چاہیے کہ امداد ملنے کے منتظر نہ رہیں، اور اپنی مدد آپ کے تحت خود اپنی زمینوں اور گھروں میں درخت لگائیں تاکہ سیلاب آنے کی صورت میں گھر، فصل اور زمین نہ بہہ جائیں۔ کوئی ایک ڈیڑھ کنال زمین میں آٹھ دس فٹ گہرا تالاب کھودیں، اس میں سے جو مٹی نکلے، اس سے کوئی آدھا کنال زمین کو دیگر زمین سے کئی فٹ اونچا کر لیں، اب اس میں دو تین کمرے گھر کے افراد اور دو تین کمرے مال مویشیوں کے لیے بنا لیں اور ان کمروں کے گرد ایسے درخت لگائیں جو زیادہ تیزی سے بڑے ہوتے ہوں مگر سفیدے کا درخت مت لگائیں کیونکہ وہ بڑا تو تیزی سے ہوتا ہے مگر ایک دن میں پچیس لیٹر سے زائد پانی بھی پی جاتا ہے۔ چنانچہ ایسے پیڑ جیسے کہ نیم، بیری، کیکر، آم، شہتوت، جامن مالٹے، امرود، سیب، کھجور، سوہانجڑا وغیرہ کے پودے لگائیں۔ ان سے کچھ آمدن بھی حاصل ہو سکے گی۔ اسی طرح تالاب کے کناروں پر بھی پیڑ لگائیں تاکہ اردگرد کی مٹی ان کی جڑوں سے مضبوط ہو، اپنے کھیتوں کے کناروں پر ایسے پیڑ لگائیں جو پھل دار ہوں تاکہ ان کے لگانے سے فصل اور آمدن میں جو کمی ہو، وہ پھلوں کو بیچ کر پوری کر لی جائے، یہ درخت سیلاب آنے کی صورت میں ریلے کی شدت کو کم کر لیں گے۔ گھر کے گرد باڑ کی شکل میں گھنے پودے لگائیں، یہ بھی سیلاب کی شدت کو بہت حد تک کم کر دیں گے۔ سیلاب کا موسم نہ ہونے کی صورت میں اس تالاب میں مچھلیاں پالیں، اس سے فصل اور آمدن میں جو کمی ہوگی، وہ مچھلیاں بیچنے سے پوری کی جا سکے گی۔ ہو سکے تو کچھ بطخیں بھی پال لیں، ایک تو وہ تالاب پر تیرتی ہوئی اچھی لگیں گی اور دوسرا ان کا گوشت بھی فروخت ہوتا ہے۔ چار پانچ مرلے زمین پر ایک بڑا سا چھپر بنا لیں اور اُس میں مرغیاں پالیں، مرغیوں کے انڈے اور خود مرغیاں بھی آمدن کا اچھا ذریعہ بن جائیں گی۔ اپنے گھروں کے گرد نکاسی آب کی نالیاں زیادہ بڑی اور صاف رکھیں تاکہ سیلاب اترنے کے بعد پانی بڑا نقصان کیے بغیر تیزی سے نکل بھی جائے۔ اپنے کھیتوں میں مویشیوں کا گوبر، راکھ اور دیگر نامیاتی کچرے کی دیسی کھاد ڈالیں اور کیمیائی مادوں سے پرہیز کریں اور اس کا چرچا بھی کریں کیونکہ دیسی کھاد والی فصلوں کی آج کل زیادہ قیمت ملتی ہے۔

کسانوں سے التجا ہے کہ دوسروں کی طرف امداد کے لیے مت دیکھیں، وہ کون سا اپنی جیب سے یہ رقم ادا کرتے ہیں، یہ رقم بھی تو قوم سے ٹیکسوں اور قرض کی صورت میں حاصل کی جاتی ہے، جو آخر کار ہم سب کو ہی ادا کرنی ہوتی ہے۔ دوسروں سے بھیک امداد مانگنا کہاں اچھی بات ہے اور ویسے بھی اس امداد کا بیشتر حصہ مستحق افراد کو مل ہی نہیں پاتا ہے۔

محنت کرے انساں تو کیا ہو نہیں سکتا
وہ کون سا عقدہ ہے جو حل ہو نہیں سکتا

Facebook Comments HS