( 4 )ٹرین ٹو کوئٹہ۔ ایک مسافر کی داستان


پہروکُنری؛ مشکاف کے بعد پانچ سرنگوں سے گزر کے پہروکنری کا نام نظر آتا ہے۔ کتنا پیارا اور منفرد نام ہے۔ بلکہ آگے آنے والا ہر اسٹیشن اپنے آپ میں منفرد اور دلچسپ نام رکھتا ہے چاہے وہ پنیر ہو، دوزان یا پھر سپیزند۔ کہتے ہیں کہ پہرو ندی کے شمال میں واقع اس گاؤں کا نام ایک عورت کے نام پہ رکھا گیا ہے۔ پہروکنری ہمیں تو بڑا بھایا لیکن شاید ٹرین کی اس سے نہیں بنتی۔ یہ اسٹیشن آج کل ریلوے کراسنگ کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے۔

پنیر؛ یہاں سے ریلوے ٹریک شمال کا رخ کرتا ہے اور ذرا آگے جا کر پنیر کا اسٹیشن آ جاتا ہے۔ کتنا دلچسپ نام ہے پنیر، جیسے ڈنمارک کا کوئی اسٹیشن ہو۔ یہ ضلع کچھی کا ایک چھوٹا سا خوبصورت اسٹیشن ہے جس کے قریب کوئی آبادی نہیں ہے۔

پنیر سے کچھ آگے پنیر سرنگ آتی ہے جو اس راستے کی سب سے لمبی سرنگ ہے۔ یہاں جب ٹرین داخل ہوتی ہے تو کچھ منٹ کے لیے گھپ اندھیرا چھا جاتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس سرنگ سے نکلنے کا کوئی راستہ ہی نہیں ہے۔ مزید پانچ سرنگوں سے گزر کے آپ کو ایک پَیشی بھگتانی پڑتی ہے۔

پَیشی؛ پنیر کے بعد جس جگہ ٹرین کی پَیشی پڑتی ہے وہ چھوٹا سا قصبہ ہے۔ چھوٹی چھوٹی کٹی ہوئی پہاڑیوں کے بیچ بنایا گیا یہ ننھا سا اسٹیشن دریائے بولان کے قریب واقع ہے اور دریا کیے دوسری جانب ”بی بی نانی“ کا مشہور مقام ہے جہاں لوگ پکنک منانے جاتے ہیں۔ پیشی اسٹیشن کے قریبی پل پر جب ٹرین مڑتی ہے تو یہ منظر دیکھے لائق ہوتا ہے تبھی یہی منظر پاکستان ریلوے کے ٹکٹ پر بھی چھاپا گیا ہے۔

آبِ گُم ؛ پیشی سے ہو کر ٹرین دریائے بولان کو پار کرتی ہے اور شمال میں واقع بلوچستان کے اسٹیشن آبِ گُم پہنچتی ہے۔ اگرچہ یہ ایک فارسی نام ہے لیکن مطلب صاف واضح ہے، گمشدہ پانی۔ نام کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے کے اس جگہ دریائے بولان ریت میں کہیں غائب ہو جاتا ہے۔ 1886 میں تحصیل مچھ کے اس قصبے میں ایک خوبصورت اسٹیشن بنایا گیا تھا جہاں کوئٹہ جانے والی ٹرین کو دوسرا انجن لگایا جاتا ہے۔ یہاں سے کولپور تک پٹڑی ڈبل کر دی گئی ہے۔

سطح سمندر سے اس کی بلندی 658 میٹر ہے اور یہاں سے ٹرین کو دو انجن کھینچتے ہیں جس سے صاف ظاہر ہے کہ آگے اونچائی بڑھتی جاتی ہے اور ٹرین کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ آبِ گُم میں آب شاید گم ہو جائے لیکن سوئی گیس کے کافی ذخائر پائے گئے ہیں جو اس خطے کی حالت بدلنے میں ہنوز ناکام ہیں۔

آبِ گُم کے بعد ریلوے ٹریک اور مرکزی سڑک ہمسفر بن جاتے ہیں جو راستے میں ایک دوسرے کو کراس کرتے رہتے ہیں۔ کچھ آبادی کے آثار نظر آتے ہیں اور یہاں بلوچستان کی دلچسپ روزمرہ زندگی دیکھنے کو ملتی ہے۔

مَچھ؛ ایک دو لمبے موڑ مُڑ کر ٹرین مچھ پہنچتی ہے جو کچھی ضلع کی ایک تحصیل اور آخری اسٹیشن ہے۔ سطح سمندر سے نو سو نوے میٹر بلند مچھ اسٹیشن سبی کے بعد سب سے بڑا اور شاندار اسٹیشن ہے جسے 1880 میں سوئٹزرلینڈ کے ایک ریلوے اسٹیشن کے طرز پر تعمیر کیا گیا تھا۔

1929 میں تعمیر کی گئی مچھ جیل، پاکستان کی سب سے بڑی جیل ہے جہاں بے شمار سیاست دانوں کے علاوہ خطرناک قیدیوں کو رکھا جاتا ہے، اس لیے یہاں کے اسٹیشن پر بھی ایف سی کی بھاری نفری تعینات رہتی ہے۔ چونکہ یہ علاقہ کوئلے کے وسیع ذخائر رکھتا ہے سو 1883 میں یہاں سے کوئلہ نکالنے کا کام شروع ہوا۔ اب بھی آپ کو اسٹیشن کے آس پاس پہاڑوں پر کوئلے کی کانیں نظر آ جائیں گی۔

1935 میں آنے والے تباہ کن زلزلے کا مرکز بھی یہی شہر تھا جس میں کوئٹہ شہر تباہ و برباد ہو گیا تھا۔ مچھ کی آبادی لگ بھگ پانچ ہزار نفوس پر مشتمل ہے جس میں مسلمان اور ہندو شامل ہیں۔ یہاں کی پہاڑیوں میں ایک خاص نسل کی بھیڑ پائی جاتی ہے جس کی اون ملائم اور ریشہ لمبا ہوتا ہے۔ اس نسل کو ترقی دے کر بہتر اون مہیا کرنا ایک نہایت منفعت بخش صنعت کی بنیاد بن سکتا ہے۔

ہِرک اور دَوزان؛ مچھ کے بعد ٹرین دریائے بولان کا پل پار کرتی ہے اور ہِرک نامی ایک چھوٹے سے اسٹیشن کو کراس کرتی ہے۔ یہاں سے آگے ریلوے ٹریک دریا کے ساتھ ساتھ چلتا ہے اور یہی درہ بولان کا مرکزی علاقہ ہے جہاں یہ تنگ سے درے کی صورت نظر آتا ہے۔

دریائے بولان پر بنے ریلوے پُلوں کو اس علاقے کی تیز ہواؤں کی بدولت ”وِنڈی برج“ کہا جاتا ہے۔ آگے ”پیر پنجا“ (ایک بزرگ کا نام جن کا مزار سڑک کنارے واقع ہے ) اور ”ونڈی کارنر“ نامی سرنگیں آتی ہیں جن سے گزر کے ٹرین دوزان کے اسٹیشن کو چھوڑتی ہوئی اپنا راستہ ناپتی ہے۔ دوزان کا چھوٹا سا پہاڑی اسٹیشن اپنے نام کی طرح خوبصورت ہے جس کے بعد مشہور زمانہ ”میری جین“ سرنگ آتی ہے جس کی کہانی سنائے بغیر ہم آگے کیسے بڑھ سکتے ہیں۔

میری جین کی گمشدہ قبر؛ یہ کہانی ہے سرنگ نمبر 16 کی۔

بلوچستان کے ایک خوبصورت اور چھوٹے سے ریلوے اسٹیشن دوزان سے آگے واقع سولہ نمبر سرنگ کو ”میری جین“ کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ بولان وادی کے فرش پر بچھائی گئی پٹڑی جب بارشوں سے تباہ ہو گئی تو اسے اونچائی پر بچھانے کے لیے نئے ٹریک اور سرنگوں پر کام شروع کیا گیا۔ یہاں کام کرنے والے انگریز عملے میں ایک انجینیئر ایف ایل او کیلہن بھی تھا جس کی بیوی میری جین، اپنے شوہر کی محبت میں برطانیہ سے اس دور دراز علاقے میں اس کے ساتھ رہنے آئی تھی۔

کہتے ہیں کہ 1894 میں اس سرنگ کی تعمیر کے دوران جب دھماکہ ہوا تو ایک پتھر کہیں سے انہیں آ لگا (کچھ کے مطابق پتھر پہاڑ سے گرا تھا) ۔ خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے وہ جانبر نا ہو سکیں اور موقع پر ان کی موت ہو گئی۔ ان کے تابوت کو برطانیہ بھیجا جا سکتا تھا لیکن بی بی سی کے مطابق کیلہن نے انہیں سرنگ کے اوپر پہاڑ کی چوٹی پر دفنانے کا فیصلہ کیا۔ انگریز سرکار نے اُس سرنگ کا نام ان کے نام سے موسوم کر دیا جہاں یہ حادثہ پیش آیا تھا۔

مقامی لوگوں کے مطابق بہت پہلے سرنگ کے اوپر ان کی قبر بھی موجود تھی لیکن دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے آج ایک سو تیس سال بعد اس کا سراغ لگانا بھی مشکل ہے۔ شاید بولان کی اِس سرنگ سے گزرنے والی ٹرین کو میری جین کی روح اس پہاڑ سے دیکھتی ہو گی اور بلوچستان کے معصوم بچوں کی طرح ٹرین کو ہاتھ ہلاتی ہو گی۔ میری جین کراس کرنے کے بعد دیدار ہوتا ہے اس راستے کے سب سے ٹھنڈے اور اونچے اسٹیشن کولپور کا ۔

کَولپور؛ سطح سمندر سے 1792 میٹر بلند کو لپور، اِس وقت بلوچستان کا سب سے بلند ترین ریلوے سٹیشن ہے۔ اس سے پہلے ژوب سیکشن پر واقع کان مہترزئی ( 2224 میٹر) بلند ترین ریلوے اسٹیشن تھا جو مستقل بند ہے۔ پھر نمبر آتا ہے کوئٹہ چمن روٹ پہ واقع شیلا باغ ( 1938 میٹر) ریلوے اسٹیشن کا جو سرحد پہ جاری کشیدگی کی وجہ سے عارضی طور پہ بند ہے۔

کولپور ایک دلکش و پُر فضا ہِل اسٹیشن ہے جس کے اطراف میں مٹی کے بنے چھوٹے چھوٹے گھر آنکھوں کو بہت بھلے لگتے ہیں۔ یہاں پر جنوری اور فروری کے مہینے میں دو سے ڈھائی فٹ تک برف باری بھی ہوتی ہے۔ برفباری کے دنوں میں یہاں پاکستان بھر سے سیاح آتے ہیں۔

1890 میں جب برطانوی راج اس علاقے میں ریلوے ٹریک بچھا رہی تھی تب کولپور میں برصغیر کے مختلف علاقوں (خصوصاً سندھ اور ملتان) سے مزدوروں کو لایا گیا، جن میں ہندوؤں کی بھی کثیر تعداد شامل تھی۔ چونکہ یہ قصبہ اسٹیشن بننے کے بعد ہی آباد ہوا سو بیشتر مزدوروں نے یہیں رہنا مناسب سمجھا اور آج کولپور میں ہندو برادری اکثریت میں ہے جہاں ان کے مندر بھی ہیں۔

کولپور کو مال گاڑیوں کا جنکشن بھی کہا جاتا ہے۔ سبی اور کوئٹہ، ہر دو جانب سے آنے والی مال گاڑی یہاں ٹرمینیٹ ہوتی ہے۔ ڈھلوان کی وجہ سے یہاں مکینیکل چیک (خصوصاً بریکوں کی چیکنگ) اور لوڈ چیک کے بعد انہیں روانہ کر دیا جاتا ہے۔

کولپور اسٹیشن سے ذرا آگے 1894 میں تعمیر کی گئی ”سمٹ“ نامی سرنگ آتی ہے جسے کولپور ٹنل بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پہاڑی پتھروں سے بنی ایک مضبوط سُرنگ ہے جس کا برج اور پتھروں کی تراش خراش بھی کاریگروں کی محنت کو ظاہر کرتی ہے۔

سپیزند؛ کولپور سرنگ سے ہو کر ٹرین ضلع مستونگ کی حدود میں داخل ہو جاتی ہے جہاں یہ کولپور اور سپیزند کے درمیان میں واقع گلِ لالہ کی وادی دشت سے گزرتی ہے۔ اب پہاڑ آہستہ آہستہ دور ہوتے چلے جاتے ہیں اور میدان شروع ہوتا نظر آتا ہے۔ ضلع مستونگ کے اکلوتے اسٹیشن، سپیزند جنکشن پہ بغیر رکے یہ آگے بڑھ جاتی ہے۔ اسٹیشن سے کچھ آگے تفتان اور زاہدان کو جانے والی ریلوے لائن الگ ہوتی ہے۔ یہ اسٹیشن ولی خان، نوشکی، احمد وال، دالبندین، نوکنڈی، میر جاوہ اور زاہدان کے لیے جنکشن ہے۔

کوئٹہ؛ سپیزند کے بعد تیرہ میل اور پھر سریاب سے ہو کر ٹرین اپنی منزل مقصود یعنی کوئٹہ کے مرکزی اسٹیشن پر جا رکتی ہے جو اس کا آخری سٹاپ ہے۔

1676 میٹر بلندی پر واقع کوئٹہ، پاکستان کے اونچے اسٹیشنوں میں سے ایک ہے جہاں سے ریلوے لائن آگے کچلاک، بوستان جنکشن، گلستان اور شیلا باغ سے ہو کر چمن تک جاتی ہے (اس کا ذکر پھر سہی) ۔ جبکہ یہ اسٹیشن کوئٹہ تفتان ریلوے لائن کے لیے ٹرمینس (یعنی ایک کنارے پر واقع پہلا یا آخری) اسٹیشن بھی ہے۔

کوئٹہ کا اسٹیشن، بلوچستان کا سب سے بڑا اور خوبصورت اسٹیشن ہے جہاں کسی زمانے میں رات بھر رونق رہتی تھی اب تو یہ شام کو ہی بند ہو جاتا ہے۔ اس کے باہر ایک پارک میں پرانا اسٹیم انجن بھی کھڑا کیا گیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ریلوے کے قدیم سامان اور اوزاروں کو محفوظ بنانے کے لیے سٹیشن کے اندر ایک میوزیم بھی بنایا گیا ہے۔ یہ میوزیم ویسے بند رہتا ہے لیکن اگر کوئی دیکھنا چاہے تو اسے کھول دیا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS