اقلیتی تعلیمی کوٹہ: فقط شکوہ مگر کس سے
میرے بہت ہی قریبی دوست نے مجھ سے شکوہ کیا کہ میری بہن کی شادی پر آپ کیوں نہیں آئے۔ میں نے کہا آپ نے دعوت نامہ دیا ہوتا تو ضرور حاضر ہوتا۔ بس یہی حال پنجاب میں 2 فیصد اقلیتی تعلیمی کوٹے کا بھی ہے۔
سرکاری یونیورسٹیز نہ ہی اشتہارات کے اوپر واضح ہدایات دیتی ہیں اور نہ ہی اقلیتی سٹوڈنٹس کی الگ میرٹ لسٹ بنتی ہے۔ سوال یہ ہے شکوہ کس سے بنتا ہے فیصلہ آپ پر چھوڑے دیتا ہوں۔
اقلیتی تعلیمی کوٹہ پروگرام کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تعلیمی اداروں میں مخصوص 2 فیصد نشستیں اقلیتی طلبہ کے لیے مختص ہوں، اس طرح اعلیٰ تعلیم میں کم نمائندگی والے اقلیتی بچوں کی نمائندگی میں اضافہ ہو
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ تعلیم سماجی نقل و حرکت اور معاشی ترقی کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ تاہم، بہت سے اقلیتی طلباء کو اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بشمول معیاری تعلیم تک محدود رسائی، مالی وسائل کی کمی، اور داخلے کے عمل میں تعصب۔ اس کے نتیجے میں تعلیمی اداروں میں تنوع اور نمائندگی میں فقدان ہو سکتا ہے۔ اقلیتی بچوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع مہیا کرنے کے لئے سال 2018 میں گورنمنٹ آف پنجاب کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے پنجاب مینارٹیز ایمپاورمنٹ پیکج کے تحت اقلیتی طلباء کے لئے پنجاب بھر کے پبلک سیکٹرز اعلیٰ تعلیمی اداروں میں 2 فیصدتعلیمی کوٹہ مختص کیا اور اس کو یقینی بنانے کے لئے اقلیتی بچوں کے لئے علیٰحدہ میرٹ لسٹ کی ہدایات دیں۔ مگر 2023۔ 24 کے اعداد و شمار بتاتے ہیں 50 پبلک سیکٹرز یونیورسٹیز میں سے 12 یونیورسٹیز میں 484 ٹوٹل سیٹس میں سے 89 سیٹس پُر ہو سکیں۔ جبکہ 395 مذکورہ سال میں خالی رہ گئیں ہیں۔
نوٹ: پنجاب کی 38 پبلک یونیورسٹیز سے اب تک جواب موصول نہیں ہوا
اقلیتی تعلیمی کوٹہ پروگرام کو نافذ کرنے کے لیے، حکومت پنجاب کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے مورخہ 18 مئی 2020 کو نوٹیفکیشن نمبر PA/AS/ (LM) /MISC/ 2020 میں اقلیتوں کو با اختیار بنانے کے پیکج کے تحت مذہبی اقلیتوں کے لیے پبلک سیکٹر کے اعلی تعلیمی اداروں میں 2 فیصد نشستوں کی ریزرویشن کی منظوری دی تھی اور اقلیتی امیدواروں کے لیے الگ میرٹ لسٹوں کو یقینی بنانے کی ہدایت رولز 28 ( 15 ) اور پنجاب گورنمنٹ رول اف بزنس 2011 کے تحت دی۔ اب ایک قدم اور آگے چاہیے کہ ایک منصفانہ اور شفاف داخلے کے عمل کو نافذ کریں جس میں تمام امیدواروں کی قابلیت اور اہلیت کو مدنظر رکھا جائے۔ یکم دسمبر 2022 جنگ نیوز کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سرکاری کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اقلیتی بچوں کے داخلے کے 2 فیصد کوٹے پر عمل درآمد کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی تھی جس میں والد نے موقف اختیار کیا تھا کہ میری بیٹی نے ایم بی بی ایس کے لیے ڈی کیٹ پاس کیا اہلیت کے باوجود داخلہ نہیں دیا جا رہا ہے حال ہی میں ڈپٹی سپیکر اینتھنی نوید سندھ اسمبلی نے بھی ایک بیان میں کہا کہ میری خواہش ہے کہ اقلیتی طلبہ کے لیے تعلیمی اداروں میں 5 فیصد ایجوکیشن کوٹہ متعارف کرواؤں۔ اقلیتی طلباء کو مالی رکاوٹوں پر قابو پانے میں مدد کے لیے اسکالرشپ اور مالی مدد فراہم کریں۔ اقلیتی طلباء کو تعلیمی ماحول میں جانے میں مدد کرنے کے لیے انہیں رہنمائی اور مدد فراہم کریں۔ اقلیتی ایجوکیشن کوٹہ سسٹم پروگرام کی کامیابی کی نگرانی اور جانچ باقاعدہ میٹرکس کے ذریعےکی جائے
اندراج شدہ اور گریجویٹ ہونے والے اقلیتی طلباء کی تعداد کا پتہ لگا کر بھی پبلک کرنا چاہیے ساتھ میں اقلیتی طلباء کے اطمینان کے مطابق سروے کی نگرانی کرنا اس بات کو یقینی بنائے کہ انہیں کوئی زیادتی محسوس نا ہو۔ اقلیتی طلباء کی تعلیمی کارکردگی پر نظر رکھی جائے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ اپنی تعلیمی صلاحیت کو پورا کر رہے ہیں۔ اقلیتی تعلیمی کوٹہ پروگرام کا نفاذ جامع تعلیم کو فروغ دینے اور اس بات کو یقینی بنانے کا ایک موثر طریقہ ہے کہ تمام طلباء کو معیاری تعلیم تک مساوی رسائی حاصل ہو۔ کوٹہ فیصد مقرر کر کے اور ٹارگٹڈ بھرتی کی حکمت عملی فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ اقلیتی طلباء کو اعلیٰ تعلیم تک رسائی کے مساوی مواقع فراہم ہوں۔ اقلیتی سیاسی سماجی اور مذہبی لیڈران کو بھی چاہیے کہ اپنے اپنے علاقے میں 2 فیصد ایجوکیشن اقلیتی کوٹہ سسٹم کی آگاہی دیں تاکہ ریاست کی طرف سے اس اعلیٰ پروگرام کے تحت زیادہ سے زیادہ اقلیتی بچے فائدہ حاصل کر سکیں اور اپنے ملک و قوم کی خدمت میں اپنا کردار ادا کر سکیں ہمیں یقین ہے کہ یہ پروگرام ہمارے ملک کی ثقافت اور طلباء کی آبادی پر مثبت اثر ڈالے گا، جو بالآخر بہتر تعلیمی نتائج کا باعث بنے گا۔



بہت عمدہ تحریر ہے اور تحقیقی حوالے بہت جاندار ہیں مگر نہ جانےکب ہونگے کم مذہبی اقلیتوں کے غم
بہت جلد یاسر بھائی