الیکشن نتائج کی تحقیقات اور چیف جسٹس پاکستان
گزشتہ دنوں مسلم لیگ نون کے رہنما اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسی سال نومبر کے بعد نون لیگ کی حکومت کے خاتمے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کی پارٹی کا مبینہ چرایا گیا مینڈیٹ ان کو واپس مل جائے گا اور یوں بقول ان کے رواں سال دسمبر تک تحریک انصاف وفاق میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ جائے گی لیگی رہنما کے خدشے اور تحریک انصاف کی توقع یا دعویٰ کا سبب اسی سال اکتوبر میں موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے بعد آنے والے نئے چیف جسٹس منصور علی شاہ کے سربراہی میں سپریم کورٹ کو گردانا جاتا ہے تحریک انصاف کا دعویٰ رہا ہے کہ گزشتہ انتحابات کے نتائج میں وسیع پیمانے پر رد و بدل کر کے اس کا مینڈیٹ چرایا گیا ہے اور اس کا مطالبہ یہ ہے کہ فارم 45 کی بنیاد پر اس کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔
تحریک انصاف کو سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس کے بارے میں تحفظات ہیں اس لیے تحریک انصاف کی قیادت کا خیال ہے کہ اگلے چیف جسٹس کے آنے سے نتائج کی شفاف تحقیقات ہونا ممکن ہوگی اور اس کی مبینہ چرائی گئی نشستیں ملنے سے اس کو واضح اکثریت حاصل ہو جائے گی اور اسی سوچ کے تحت وہ دسمبر تک وفاق میں حکومت بنانے کی پیشنگوئی کر رہے ہیں۔ متذکرہ حکومتی خدشے اور تحریک انصاف کی توقع کا مبینہ سبب اگر اگلا چیف جسٹس ہو تو اس حوالے سے کئی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
انتخابی نتائج سے متعلق اپیلیں سننا اور نمٹانا الیکشن ٹربیونلز کا کام ہوتا ہے جو سپریم کورٹ کے نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کے ماتحت ہوتے ہیں۔ ان کے فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جاتی ہے۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت ہونے کے ناتے سپریم کورٹ الیکشن ٹربیونلز اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کا جائزہ لینے کا اختیار رکھتی ہے۔ اگر ان کو قانون اور آئین کے خلاف پائے تو بلا شبہ ان کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ مگر یہ نوبت تو آخر میں آ سکتی ہے جبکہ الیکشن کمیشن کے تحت تحقیقات اور کارروائی میں سپریم کورٹ اور چیف جسٹس مداخلت نہیں کر سکتے ہیں ایسے میں کیونکر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک مخصوص چیف جسٹس کے ہونے یا نہ ہونے کی وجہ سے انتخابی نتائج سے متعلق فیصلوں پر اثر پڑ سکتا ہے؟ پھر بھی بالفرض اگر کوئی چیف جسٹس واقعی جانبدار ہو تو کیا کسی انتخابی اہم قومی نوعیت کے معاملے میں وہ من مانی کر سکتا ہے؟ بغیر کسی وزنی شواہد اور بنیاد کے آئین اور قانون کے برعکس اقدام کر سکتا ہے!
عام فہم کی بات ہے کہ ایک چیف جسٹس خواہ کتنا ہی جانبدار کیوں نہ ہو اتنے حساس اور اہم آئینی معاملے میں نہ من مانی کر سکتا ہے نہ ایسا کرنا کسی بنیاد اور جواز کے بغیر ممکن ہے۔ اگر گزشتہ انتحابات کے نتائج میں وسیع پیمانے پر رد و بدل کے ناقابل تردید شواہد الیکشن ٹربیونلز اور ہائی کورٹ میں پیش نہ کیے جا سکیں ہوں تو چیف جسٹس آف پاکستان اور سپریم کورٹ ان کو کیونکر کالعدم یا تبدیل کر سکتے ہیں؟ ہاں اگر تحقیقات سے ثابت ہو گیا کہ انتحابات کے نتائج میں بڑے پیمانے پر بے دریغ رد و بدل کیا گیا ہے جس کے باعث ان کو کالعدم یا تبدیل کرنا ضروری ہے تو چیف جسٹس کوئی بھی ہو سپریم کورٹ اس سلسلے میں جانبداری اور چشم پوشی سے کام لینے کی جسارت شاید نہ کرے۔ یوں نون لیگ کے خدشات اور تحریک انصاف کی توقعات اور دعوے حقائق سے زیادہ سیاسی بیان بازی ہیں۔


