راگنی کی کھوج میں: کتاب پر تبصرہ


مصنفہ اکادمی ادبیات پاکستان کی پہلی خاتون صدر نشین ہیں۔ آپ ایک نام ور تخلیق کار، مترجم اور محقق ہیں، آپ تخلیقی اعتبار سے شاعری، فکشن، رپور تاژ نگاری آپ کی دل چسپی کے عکاس ہیں۔ ان کی دل چسپی کا نمایاں میدان نو آبادیاتی عہد میں غرب شناسی، سیرت نویسی، بر عظیم کی صوفیانہ روایت اور اردو ادب، بالخصوص فکشن کا سماجی و سیاسی مطالعہ ہے، تاہم ان کی اہم علمی جہت تحقیق متن ہے۔

مصنفہ کی آپ بیتی راگنی کی کھوج میں ایک انتہائی دل چسپی کی حامل کتاب ہے۔ اس کی نثر بہت طاقت ور ہے، زندگی کی بہت سی ان کہی حقیقتوں کو روح میں سر اٹھاتے سوالوں کو جس سچائی اور قادر الکلامی سے انہوں نے سچ سچ بیان کیا ہے وہ بہت پر اثر ہے۔

”راگنی کی کھوج میں“ ڈؑاکٹر نجیبہ عارف جیسی بلند پایہ ادیبہ اور شاعرہ کے کمال فن کا شاہکار ہے۔ اس آپ بیتی میں ڈاکٹر نجیبہ کے اندر بے چینی، اضطراب، تجسس اور کھوج کی خواہش نمایاں ہے۔ جو اپنے خوابوں پر کسی طرح کا اجارہ قبول نہیں کر سکتے، ایسے لوگوں کے لیے نجیبہ عارف جیسے لوگ غنیمت ہوتے ہیں جو ان کے اندر راگنی کی کھوج بیدار رکھتے ہیں اور وہ اس شوق کے آسرے پر جینے کا سامان کرتے رہتے ہیں، بے شک شوق ہی ایسا آسرا ہے جو اندھیر دنوں میں باطنی لو کو فروزاں رکھتا ہے، یہ تلاش کسی اور کی نہیں بلکہ اپنی تلاش ہے جس نے متلاشی کو مسلسل جستجو کی سان پر رکھا۔

پس سرورق محمد سلیم الرحمن لکھتے ہیں کہ نجیبہ عارف کی کتاب، راگنی کی کھوج میں دو زندگیاں گودے اور خول کی طرح آپس میں پیوست ہیں۔ ایک نجیبہ کی آپ بیتی، دوسرے ان کے مرشد محمد عبید اللہ، درانی کی زندگی کے حالات جو وقتاً فوقتاً ان کے سننے میں آئے۔ میں نے نجیبہ عارف کی کتاب کو ناول کی طرح پڑھا ہے کہ یہ واقعات اور کرداروں کے تنوع کے سبب سے ناولانہ دل ربائی کی حامل ہے۔ کتاب ایک منجھی ہوئی تخلیق کار کا شاہکار ہے۔ حد درجہ دل چسپ ذات اور سماج کے چھوٹے چھوٹے دل چسپ واقعات کے چلتی، روانی کی طرح بہتی، کہیں آپ کو مسکرانے پر مجبور کرتی ہے، کہیں آپ کو غمگین کرتی، کہیں خود کو الجھن میں ڈالتی، کہیں آپ سے اختلاف کرتی، فہم و دانش اور اسرار کے جہان آپ کھولتی ہے۔

نجیبہ عارف بہت اچھی کہانیاں، نظمیں اور تنقیدی مضامین لکھتی رہی ہیں۔ انہیں جوانی میں ہی صوفیاء کی طرح یہ بے تابی تھی کہ آخر مجھے کیوں پیدا کیا گیا؟ کمال یہ ہے کہ ان کو مختلف طبقوں میں ایسے دیوانے ملے جو ان کی طرح تلاش حق میں سرگرداں تھے اس تلاش میں وہ کئی بابوں کے پاس گئیں جو اپنے حلقہ یاراں میں کبھی روز اور کبھی ہفتہ وار بیٹھتے ہیں۔

ڈاکٹر نجیبہ عارف کوئی عام مصنفہ نہیں ہیں، بلکہ سچی اور خالص لکھاری ہیں یہ کتاب ایک دنیا کی دریافت ہے گرو کی تلاش میں اس کتاب کا موضوع ہے یہ روایتی پیر پرستی یا کشف و کرامات بتانے کی کتاب نہیں ہے بلکہ دلوں کو روشن کرنے اور زندگیوں کو تبدیل کرنے کا تذکرہ موجود ہے۔ یہاں ہمیں اہل سلوک اور اہل خدمت کا ذکر ملتا ہے کہ جو خلق خدا کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں لیکن روایتی بابوں کی طرح نہیں بلکہ زندگی کے حقیقی کردار جو اپنی دنیوی زندگیوں میں بھی بہت کامیاب ہیں اور وہ کس طرح اہل سلوک اور اہل خدمت بنے ہیں۔

سادہ الفاظ، سلامت اور روانی سے ادا کیے گئے جملے کہ جن میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے، کوئی رنگین بیانی نہیں ہے کسی جگہ تعریفوں کا طومار نہیں ہے۔ ہر بات کھلی کھلی، سچی سچی، حقیقت میں اس کتاب کو خودنوشت کہا جائے یہ اس کی تعریف سے آگے ہے۔

کتاب خوب صورت سر ورق اعلیٰ امپورٹڈ کاغذ، مضبوط جلد غلطیوں سے پاک کمپوزنگ کے ساتھ اچھی طبع ہوئی ہے۔

نام کتاب: راگنی کی کھوج میں
مصنفہ: ڈاکٹر نجیبہ عارف
صفحات: 280
قیمت: 1600 روپے مجلد
ناشر: قوسین، 124 سی، ون، فیصل ٹاؤن، لاہور، پاکستان
رابطہ نمبرز۔ 04235165309 / 3087067131

Facebook Comments HS