خدا اور خدائی


کبھی کبھی دل میں عجیب قسم کے خیالات گردش کرتے رہتے ہیں۔ معاشرے کے افراد اور ان کے کردار کو دیکھ کر مایوس سا ہو جاتا ہوں۔ جو کام ہونے کے ہیں وہ نہیں ہوتے۔ اور جو نہیں ہونے چاہیے وہ ہو جاتے ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک برے کام واقع ہوتے ہیں۔ مگر کسے احساس ہے؟ نہ چاہتے ہوئے بھی اس معاشرے میں رہنا پڑتا ہے اور کچھ نہ کچھ کہنا پڑتا ہے۔ کہتے ہوئے بھی اثر نہیں ہوتا اور جو بات بے اثر ہو وہ باثمر نہیں ہوتا۔ ایسے میں یہ کہتے ہوئے بھی جی نہیں بھرتا کہ

وہ کیسا خدا ہے اور یہ کیسے خدائی
بنے ہیں دونوں اپنے ہی تماشائی

ایک وہ خدا ہے جو ڈراتا اور امید دلاتا ہے۔ اور ایک یہ خدائی جو ڈرتا اور مایوس ہو جاتا ہے۔ جزا کے لالچ میں اچھے اچھے کام کرنا اور سزا کے خوف سے برے کاموں سے دور رہنا انسانیت کا شیوہ تھا۔ اب نہ جزا کے لالچ میں اچھے کام ہوتے ہیں اور نہ سزا کے خوف سے برے کاموں سے رک جاتے ہیں۔ ایک دریائے بے حیائی ہے جو تلاش گہرائی میں رواں ہے۔ کنارے ایسے دور ہیں جیسے دریا نہیں بحر بے کراں ہے۔ کچھ لوگوں کے ڈوب جانے کا اندیشہ ہے اور کچھ کے تیرنے کا خدشہ۔ ہر صورت میں بدن کا گیلا ہونا لازمی ہے۔ کیوں نہ ہو خشکی کا نام نشان نہیں رہا۔ ہر جگہ پانی ہی پانی ہے۔

کارزار ہستی میں اب یہی کچھ ہو رہا ہے اور جانے انجانے انسان سب کچھ کھو رہا ہے۔ جینے کا یہ انداز نہ جانے کیوں مجھے راس نہیں آتا، میں خود بھی حیران ہوں۔ کیونکہ میں بھی اسی معاشرے کا ایک انسان ہوں۔ دیکھتے ہیں اوپر والا کب تک اس طرح بے لگام چھوڑ دیتا ہے اور پھر ٹوٹے ہوئے نظام کو جوڑ دیتا ہے۔

جوڑتے وقت ہم بھی موجود ہوں گے کون کہتا ہے
یہ تو دنیا ہے کبھی کون تو کبھی کون رہتا ہے

اصل میں ہم مہلت سے گزر رہے ہیں ہم یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ کچھ بھی کر سکتے ہیں کون دیکھ سکتا ہے ہمیں۔ یہ ہماری خام خیالی ہے سب سے برتر تو وہ ذات عالی ہے۔ ہم مخلوق ہیں، اور خالق وہ ذات ہے جس کے قبضے قدرت میں سب کی جان ہے۔ ہم بے مقصد پیدا نہیں کیے گئے ہیں، نہ یہ اس کی شان ہے۔ یہ بہت سخت آزمائش ہے۔ آزمائش میں کامیابی اور ناکامی لازمی اجزاء ہیں۔ ظاہر سی بات ہے، جو اس کے مطابق چلتا ہے وہ کامیاب ہے اور جو اس کے برخلاف چلتا ہے وہ ناکام ہے۔ کامیابی کا انجام جزا اور ناکامی کا انجام سزا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ اس کے آزمانے کا ایک انوکھا طریقہ ہو۔ اپنے انداز میں یہ بھی ایک سلیقہ ہو۔ ہو سکتا ہے۔ مگر کیوں؟ آزمانے کا یہ طریقہ نہ جانے کیوں اپنایا، کبھی ترسایا تو کبھی بہلایا اور کبھی کھلے میدان میں بن سمجھائے دوڑایا!

سوچتے کیا ہو اور کرتے ہو کیا
ہوتا کیا ہے جانتے ہو کیا

Facebook Comments HS