میمنا، گیدڑ اور بھیڑیے: ایک علامتی کہانی
سنو، سنو، سنو۔ ایک کہانی سنو۔
لیکن کہانیاں تو جھوٹ کا پلندا ہوتی ہیں۔
اچھا چلو ایک واقعہ سنو۔
ارے، واقعات تو گھڑے جاتے ہیں۔ سچائی سے دور، بہت دور۔
ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ میں ایک سانحے کی روداد سناتا ہوں۔
چلو جی۔ حد ہے۔ سانحات تو آئے دن ہوتے رہتے ہیں، کچھ نہیں بھی ہوتے مگر آپ جیسے حضرات یونہی ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں۔
جی بہتر۔ میں ایک حادثے کے متعلق۔
ارے، چھوڑو میاں! کن حادثاتِ زمانہ کی بات کرنے لگے ہو؟ سڑک پر پیش آنے والا حادثہ یا ریلی میں بم پھٹنے کا ؟
ان میں سے کوئی بھی نہیں جناب۔ آپ پوری بات تو سن لیں پہلے۔
اچھا سناؤ۔ وقت کم ہے۔ جلدی بولو۔
جی تو سنیں۔
اب سنا بھی چکو۔
سنا رہا ہوں مگر آپ کا لفظ، چکو، میری سمجھ میں نہیں آیا۔
اپنی سمجھ کا علاج کراؤ، اور جو کہنا ہے جلد کہو، دماغ چاٹے جا رہے ہو۔
حضور دماغ تو آپ میرا کھا۔
بس۔ خاموش۔ گستاخ۔ ادب اور لحاظ کا پاس تو رکھنا ہی نہیں آتا تمہیں۔ کیسے گھٹیا آدمی ہو!
مگر حضور۔ میری عرض تو سن لیں۔
میں نہ سنوں گا۔ تم نے رسوا کیا ہے مجھے۔ بے ادبی کی کوئی رعایت نہیں۔
اچھا محترم! میں معذرت خواہ ہوں۔
ہاں! اب آئے (ناں ) لائن پر ۔ زبان سنبھال کر بات کیا کرو۔
لائن تو کوئی نہیں ہے ادھر، آپ بھی کیسی ٹیڑھی کھیر پکاتے ہیں۔
پھر وہی بکواس۔ میں جا رہا ہوں۔
جائیے جائیے۔ میرے جیسوں کی سنتا ہی کون ہے؟
نہیں! اب تو میں نہیں جانے کا ۔ میں تو پوری بات سن کے ہی جاؤں گا۔ بتائے دیتا ہوں۔ ہاں!
تو پھر سنیے۔
جی کہیے۔
روداد یوں ہے کہ کسی زمانے میں ایک جنگل تھا۔ وہی جنگل جہاں جنگلی جانور ہوتے ہیں۔ کچھ کتے اور سؤر بھی ہوتے ہیں۔
ایک منٹ۔ یہیں رک جاؤ۔ کہیں تم گالی تو نہیں دے رہے؟
میں کیوں گالی دوں گا کسی کو بھلا۔ میں تو ابھی فاختاؤں، جگنوؤں اور تتلیوں کا بھی ذکر کرنے والا تھا۔ آپ نے یونہی روک لیا۔
پھر وہی بے محال گفتگو۔ مسئلہ کیا ہے تمہارا۔
معذرت، جناب! مجھے ہرنوں کا ذکر کرنا چاہیے تھا۔
اور شیر کا بھی!
جی سرکار! شیر بھی، گیدڑ بھی اور بھیڑیے بھی۔
اب ٹھیک ہے۔ آگے کہو۔ پھر کیا ہوا۔
ہونا کیا تھا جناب۔ ایک روز ایک میمنا راستہ بھول کر گیدڑوں کی غلیظ بستی میں داخل ہوا۔
ادھر ہی رک جاؤ۔ یہ بتاؤ کہ میمنے کو اتنی سمجھ بوجھ نہیں تھی جو وہ گیدڑوں کی غلیظ آبادی میں جا پہنچا۔
ویسے معاف کیجیے گا، حضور! اگر آپ اس طرح ٹوکتے رہے تو میں وہ کبھی بیان نہ کر سکوں گا جسے بیان میں لانے کی مسلسل کوشش میں ہوں۔
ارے، چھوٹے! خفا مت ہو۔ میں اب خاموش۔ کہو۔ اب نہیں ٹوکتا۔
پھر یوں ہوا کہ گیدڑوں کی ٹولی سے ایک گیدڑ نکلا اور بولا:
”ارے، او، میمنے! غلطی کی جو ہمارے محلے میں آ گیا۔“
(دوسرے صاحب ایک بار پھر ٹوکتے ہوئے ) ابھی تو تم کہہ رہے تھے کہ جنگل ہوتا تھا اور جنگل میں گیدڑوں کی بستی، اور ابھی تم محلے کا ذکر کرنے لگ گئے۔ یہ کیسا بیہودہ مذاق ہے۔ ؟
آپ کہنے دیں تو تب۔ خیر۔ جنگل میں بھی محلے ہوتے ہیں۔
اچھا تو یہ مابعد جدیدیت اور ارتقا کی بات ہے۔
وہی سمجھ لیں۔
دیکھو میاں! میں سمجھنے اور فرض کرنے پہ یقین نہیں رکھتا۔
اف خدایا! یہ کہانی کبھی مکمل بھی ہو گی؟
تم نے تو کہا تھا یہ کہانی نہیں ہے!
جی ہاں یہ ایک حقیقی واقعہ۔
واقعہ بھی نہیں سنیں گے ہم۔
حکایت سے کام چلے گا؟
(منہ بناتے ہوئے ) اچھا چلو، جلدی کہو۔ میری نماز قضا ہو رہی ہے۔
فیس بک پر تو آپ کمیونسٹ ہیں، نماز بھی پڑھتے ہیں؟
ارے میاں! تم کیا جانو، ان باتوں کو ، سب کو دیکھنا پڑتا ہے۔
یعنی کہ آپ ایک موقع پرست آدمی ہیں؟
ایک تو تم یہ لایعنی گفتگو مت کرو۔ مجھے ایسی غیر عقلیت سے سخت چڑ ہے۔
جی بہتر! میرے محترم! اب اگر آپ کے مزاجِ عالی پر ناگوار نہ گزرے تو میں اپنی بات مکمل کروں؟
اجازت ہے!
گیدڑ بولا: غلطی کی جو ہمارے محلے میں آ گیا۔ ہم تجھے خوب نوچ کھائیں گے۔
میمنا حواس باختہ، حیران، پریشان، بولا : تم مجھے مت کھاؤ، میں بہت میٹھا ہوں، تمہارے شوگر لیولز ہائی ہو جائیں گے اور تمہیں میرے نرم گوشت کا ذرا مزہ نہیں آئے گا۔
یہ سن کر گیدڑ کو بہت غصہ آیا اور وہ میمنے کو نوچنے کو دوڑا۔ میمنا تھا سیانا۔ پیچھے ہٹا اور گیدڑ کا وار خالی گیا۔
گیدڑ اس گڑھے میں گر گیا جو ایک شکاری نے کھود رکھا تھا اور باقی گیدڑ خوف سے پیچھے ہٹ گئے۔
(دوسرے صاحب پھر بول اٹھے ) واہ! کیسا افسانوی رنگ دیا ہے۔ عقل تسلیم نہیں کرتی۔ کوئی منطقی بات کہو۔
اجی افسانوی نہیں۔ یہی حقیقت ہے۔ مکمل تو سن لیں۔
اچھا۔ کہو۔ آگے کیا ہوا۔
پھر یہ ہوا کہ گیدڑ رفو چکر ہو گئے، انہیں لگا کہ میمنے کے پاس شاید سُپر نیچرل پاورز ہیں۔ اور۔ ۔ ۔
رک جاؤ، رک جاؤ، تم ماروِل اسٹوڈیوز اور وارنر برادرز کی فلمیں دیکھ دیکھ کر شدید بد دماغ ہو چکے ہو۔ (بڑے میاں ناگواری سے بولے۔ )
توبہ ہے۔ کسے سناؤں؟ کیسے سناؤں؟ کوئی سننا ہی نہیں چاہتا۔ (میرا لہجہ دلگیر ہو گیا، اور آواز میں شکستگی در آئی۔ )
بڑے میاں ہمدردی سے بولے : تم عزیز ہو میرے، میں سنوں گا، پوری بات۔ کھل کے کہو۔
شکریہ، جناب۔ میں بھی کہوں کہ آپ کے سر پر جو سرخ ٹوپی ہے۔
بڑے میاں جلال میں آ گئے۔ خاموش! ٹوپی کے بارے میں مزید ایک لفظ بھی مت کہنا۔ یہ صرف نماز کے لیے ہے۔
اوہ! اچھا! اچھا! معاف کیجے گا۔ مجھے لگا کہ شاید۔
جی نہیں! جو تمہیں لگا وہ غلط ہے۔
جی بہتر۔
بات مکمل کرو اپنی۔
گیدڑ گئے بھاگ۔ میمنا چلتے چلتے اگلی بستی میں پہنچا۔
وہ بستی تھی بھیڑیوں کی۔
میمنے نے بورڈ پر لکھی عبارت پڑھی:
خبردار! یہ کم ظرف، کمینے اور گھٹیا بھیڑیوں کی بستی ہے، کوئی بھی میمنا اس طرف آیا تو سلامت واپس نہیں جائے گا، ہم تکا بوٹی اڑائیں گے۔
میمنا بہت پر اعتماد تھا کہ گیدڑ نے بھی تو دھمکایا تھا۔ میمنے نے سوچا، جو ہو گا، دیکھا جائے گا۔
میمنے نے بستی میں پہلا قدم رکھا۔ گھٹا چلی۔
میمنے نے دوسرا قدم رکھا۔ ہوا گھبرائی۔
میمنے نے اگلا قدم بڑھایا۔ آسمان نمناک ہوا۔
میمنے کا اگلا قدم اور سفاک، بھوکوں بھیڑیوں کا غول، جیسے اسی کے انتظار میں تھا۔
پھر کیا تھا۔ سب بھیڑیے دائرے میں اکٹھے۔ اور میمنا بیچارا تنہا۔ کوئی سہارا نہ امداد۔
بھیڑیے غرائے۔
میمنا منمنایا۔
بجلی چمکی۔ بادل گرجے۔
سر پر گھونسلے جیسی ٹوپی رکھے بھیڑیے نے جست لگائی۔
میمنا تھا شیعہ۔ فوراً یا علی مدد کہا۔
بھیڑیا رک گیا۔
پوچھنے لگا: تم شیعہ ہو؟
(بڑے میاں پھر سے بھڑک اٹھے۔ ) یہ کیا بکواس ہے۔ تم کہنا کیا چاہ رہے ہو؟ سنّی، شیعہ میں چل گیا ڈنڈا؟
یہ ہے کیا آخر؟ کیا اول فول بک رہے ہو۔ چلو۔ میری نماز بھی قضا ہو گئی۔ تف ہے تم پر ۔
ارے یہ تو میں نے مذاق کیا تھا صرف یہ جاننے کے لیے کہ آپ میری بات سن رہے ہیں یا نہیں۔
میں ایسی اوچھی حرکتیں پسند نہیں کرتا۔ (بڑے میاں ناراض ہو گئے۔ )
ارے آپ کو کیسے پتا؟ اس میمنے نے بھی یہی کہا کہ میں ایسی اوچھی حرکتیں پسند نہیں کرتا۔
بھیڑیا، نہیں رکا۔ جھپٹا۔ پلٹا۔ پلٹ کر پھر سے جھپٹا۔
بڑے میاں قہر بھری نگاہیں لیے بولے : یہ تم بیچ میں شاعری کہاں سے لے آئے؟
ہاہاہا۔ یہ بھی ایک مذاق تھا۔
لا حول ولا قوة الا باللہ۔ (بڑے میاں خاصے مذہبی دکھائی دیے۔ )
بھیڑیے کے پنجے سے میمنے کی پیشانی داغدار ہو گئی۔
پھر سے بجلی چمکی۔ بادل پورے جوش سے گرجا۔ موسلا دھار مینہ برسنے لگا۔
بھیڑیے کو بارش سے تھی الرجی۔ بھاگ اٹھا۔
میمنہ تھا زخمی۔ باقی بھیڑیوں کو بارش والی الرجی نہ تھی۔ اور طرح کی الرجیاں تھیں جیسا کہ ایڈز وغیرہ تو ۔ ۔ ۔
رک جاؤ، رک جاؤ۔ بڑے میاں طیش کھا کے بولے : مجھے یہ بتاؤ کہ یہ ایڈز، الرجی کب سے ہو گیا؟
جناب! الرجی کی بیسیوں اقسام ہیں۔ جیسا کہ مذہبی الرجی، فرقہ ورانہ الرجی، علاقائی الرجی، موسمی الرجی، کراری الرجی، دانشورانہ الرجی، صوفیانہ الرجی، ظالمانہ الرجی، وغیرہ وغیرہ۔
بڑے میاں مطمئن نظر آئے اور پہلی بار مسکرائے۔ پھر بولے :
میاں! باتیں تو تم دلچسپ کرتے ہو، سچ پوچھو تو مجھے یہ کہانی سن کر سن 1950 کا وہ واقعہ یاد آ گیا ہے جب ابا جان کی پنشن جاری نہیں ہو رہی تھی تو گامے پہلوان نے کہا تھا کہ حضور آپ مائی باپ ہیں، اس لیے مشورہ ہے کہ بڑے کھوتے سائیں کو پچاس ہزار کی سلامی دیں اور پنشن جاری کرائیں۔ مگر ابا جان تھے اصولوں کے پابند۔ بھڑک اٹھے۔ کہا۔ کسی کو ایک پیسہ نہیں دوں گا۔ بس پھر ابا جان تو جان سے گئے۔ خدا، مغفرت فرمائے، ابا جان کی۔ بڑے سچے اور کھرے بندے تھے۔ بس ان کے جانے کے بعد ہم فاقوں پر مجبور ہو گئے۔ برے حالات تھے۔ خدا جانتا ہے۔ مگر ایک بات سکھا گئے ابا مرحوم و مغفور، کہ بیٹا جھکنا کسی کے آگے نہیں۔ کسی کو حرام کھلانے کی ضرورت نہیں۔ زندگی مشکل ہو سکتی ہے مگر سچ کہنے اور تھوڑا کھا کر بھی گزر جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں جب سے منشی لگا ہوں، دفتری کام کے لیے صرف چالیس ہزار نو سو نناوے روپے لیتا ہوں۔ اوپر کا ایک روپیہ چھوڑ دیتا ہوں۔ قسم لے لو۔ ایک روپے والا ٹھیپا (سکہ) بھی واپس کرتا ہوں۔ بس میرا ایمان ہے کہ تھوڑا کھا کر گزارا کر لو، کم از کم آخرت تو اچھی ہو گی۔ (بڑے میاں کی آنکھیں نم ہو گئیں اور رومال نکال کر پونچھنے لگے۔ )
ارے آپ تو جذباتی ہو گئے۔ (میں معصومانہ شکل بنا کر بولا۔ )
کچھ نہیں ہوا۔ تم کہانی مکمل کرو۔
کہانی تو ختم ہو چکی جناب۔ اسی وقت آسمان سے ایک فرشتہ اترا۔
بڑے میاں اپنی عادت سے باز نہ آئے اور لگے پھر ٹوکنے : ارے یہ تو کہو کہ فرشتہ کون سا تھا؟ حضرت جبرائیل تھے یا اسرافیل؟
فرشتہ تھا، جو بھی تھا، نام نہیں پتا۔ اس فرشتے نے میمنے کو اٹھایا اور اس کے گھر اتار دیا۔
ارے، یہ تو تم اسپایڈر مین والی فلم کا سین بیان کر رہے ہو جب اسپائیڈر مین اپنی محبوبہ کو اٹھا کر اس کے گھر پہنچاتا ہے۔ (بڑے میاں نے چٹخارا لیتے ہوئے لقمہ دیا۔ )
جی نہیں جناب۔ ایسی کوئی بات نہیں۔ آپ نے لگتا ہے ضرورت سے زیادہ فلمیں دیکھ رکھی ہیں اور آپ کو فلم فوبیا ہو گیا ہے۔
ارے، میں فحش فلمیں چھوڑ کر ہر فلم دیکھ لیتا ہوں، پھر چاہے پاکستانی ہو یا انگریزی۔ قدامت پسند نہیں ہوں میں۔ (بڑے میاں فخر سے بولے۔ )
لیکن بھارتی فلموں کا ذکر نہیں کیا آپ نے؟
ارے، میں بھارتی نہیں دیکھتا۔ میں محبِ وطن ہوں۔ وہ دشمن ہیں۔ میں جہادی ہوں۔ (بڑے میاں شوشہ چھوڑتے ہوئے گویا ہوئے۔ )
جیسا آپ کہیں حضور۔ کہانی کا اختتام سن لیں۔
سناؤ! بڑے میاں تیوری چڑھا کر بولے۔
میمنا تو اپنے گھر پہنچ گیا۔ گھر والوں نے جو زخمی دیکھا تو ہو گئے پریشان۔
استفسار کیا۔ میمنے نے ساری تفصیل سنا دی۔ گھر والوں نے صبر اور ضبط سے سنا اور کہا کسی سے یہ راز نہ کہنا ورنہ بدنام ہو جاؤ گے۔
میمنا بھی تھا ضدی۔ اپنی مرضی کرنی تھی اسے۔ کیونکہ اسے لگا کہ اپنے ساتھ ہوئے ظلم پر آواز اٹھانا تو بنتا ہے۔
وہ باہر نکلا۔ آسمان کی جانب دیکھ کر پکارا: میری آواز، اس شورِ صدا میں گونج تو لینے دو ۔
بس پھر کیا تھا۔ آواز پھیلتی چلی گئی۔ بھیڑیوں تک بھی پہنچی۔ جنگلی کتوں تک بھی۔ گیدڑوں، سؤروں، پرندوں، شیر، خنزیر، کچھوے، سب کے سب نے سنی۔
کتوں اور سؤروں نے بھیڑیوں کی حمایت کا اعلان کر دیا۔
دیکھتے ہی دیکھتے بیانات کی کمک اکٹھی ہوئی۔ کسی نے کہا کہ ہم درویش ہیں۔ کسی نے کہا کہ میمنا ہی قصور وار ہے، اسے تو چیر پھاڑ کر ہلاک کر دینا چاہیے تھا۔
کوئی بولا: میمنے کی بات تب مانی جائے گی جب میمنا خود کو آگ لگا کر خود سوزی کی کوشش کرے۔ (یعنی جتنے منہ اتنی باتیں۔ )
کچھ لگڑ بگڑ اور جنگلی بھینسے، میمنے سے رابطے کی کوششیں کرنے لگے۔ ان کا بھیڑیوں سے اپنا اختلاف تھا سو وہ میمنے کی آڑ میں اپنی سیاست چمکانے لگے۔ مگر میمنا بھی ہوشیار ہے۔ وہ کسی کی سیاست میں نہ آئے گا۔
کیا مطلب یہ کہانی اب کی ہے؟ (بڑے میاں حیرانی اور پریشانی میں گویا ہوئے۔ )
جی ہاں جناب۔ یہ کوئی کہانی نہیں تھی۔ یہ ایک سچ کا احوال ہے۔ جو میں نے آپ کے گوش گزار کر دیا ہے۔
اور غور و فکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں!
بڑے میاں قرآنی آیت کا ترجمہ پڑھتے ہوئے مسجد کی سمت چل پڑے۔
بڑے میاں غور کرنے لگے ہیں۔ آپ بھی غور کیجیے!


