افسانہ


”ان گہری آنکھوں میں اس نے عرصے بعد پھر سے امید کی اک کرن دیکھی تھی۔ جانے کتنے عرصے سے وہ اسے بس بے جان ساکت آنکھوں کے ساتھ ہر روز دنیا میں چلتے پھرتے دیکھ رہا تھا۔ بیتے سالوں میں اس کی مسکراہٹ وقت کے اندھیروں تلے دفن ہو گئی تھی اور آنکھوں کی چمک کسی بھیڑیے کی ہوس کی نظر۔ وقت مرہم ہوتا ہے مگر فقط تب جب آپ اس زندان سے نکل چکے ہوں، نہیں تو یہ وقت آپ سے آپ کی روح تک چھین لیتا ہے۔ “

اس کے ہاتھ سے کسی نے کاغذ چھینا تھا اور وہ ایک دم جیسے کسی خواب سے جاگی تھی۔ یہ کیا لکھ رہی ہو؟ اس شخص نے غصّے سے پوچھا تھا۔ کچھ بھی تو نہیں بس یونہی ساکت نگاہوں سے اس نے بے تاثر لہجے میں جواب دیا تھا۔

” تمھیں کرنے کو کوئی کام نہیں جو یوں فارغ بیٹھ کر کاغذ کالے کر رہی ہو۔ خیر کام ہو گا بھی کیوں میں گدھوں کی طرح کام کر کر کے کما جو رہا ہوں، تم مہارانی کی طرح بیٹھو اور میرا پیسہ اڑاؤ۔“ وہ غصے سے چلایا تھا۔

اس نے آنکھوں کے کونے سے اسے دیکھا تھا۔ وہ جب بھی غصے میں ہوتا تو اس کے ماتھے کی رگیں ابھر آتی تھیں۔ اس نے ان رگوں کے جال کو دیکھا تھا اور ماضی سے اک شخص اس کے ذہن میں آیا تھا جس کے ماتھے پر وہ انگلیاں پھیر کر اس جیسے جال کو غائب کر دیتی تھی۔ ماضی میں ڈوبے اس نے اپنے سامنے موجود شخص کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا مگر اس سے پہلے ہی اس نے اسے کھینچ کر اس کی جگہ سے اٹھایا تھا اور دروازے کی طرف دھکا دیتے ہوئے کہا تھا ”دفعہ ہو جاؤ یہاں سے۔ سارے دن بعد گھر آؤ اور دو گھڑی کا سکون بھر بھی میسر نہیں۔“ دوپٹہ اس کے پاؤں میں اٹکا تھا مگر سہارا لینے کے لیے اس نے ہاتھ بھی آگے نہیں بڑھایا تھا۔ شاید اسے عادت ہو گئی تھی گرنے کی یا شاید اس کے لاشعور کے نہاں خانوں میں بھی یہ بات رقم ہو چکی تھی کہ اب ہاتھ بڑھانے پر بھی اسے سہارا نہیں مل سکتا۔ اس نے زندان کا دروازہ بند کیا تھا اور باہر آ گئی تھی مگر بعض زندان سے رہائی فقط ایک دروازہ بند کرنے سے نہیں ملتی ہاں وقتی فرار ضرور مل جاتا ہے۔

آج جانے کتنے دنوں کے بعد اس نے کاغذ پر چند بے معنی سی لائنیں لکھی تھیں۔ نہیں تو عرصہ ہوا اب وہ زندگی کے گنجلک فلسفوں سے خود کو دور کر چکی تھی۔ چاند کو تکتے اس نے ایک بار پھر ماضی بعید کے شخص کو یاد کیا تھا۔ ان دونوں کو چاند دیکھنا پسند تھا یا شاید صرف اسے کیونکہ وہ چاند سے زیادہ اس کے ہاتھ میں موجود چائے کے کپ اور کاغذوں کو دیکھا کرتی تھی۔ اس شخص کے ہاتھ سے لکھے گئے الفاظ اسے اس قدر پسند تھے کہ وہ کلاسز کے جلدی ختم ہو جانے کے باوجود گھنٹوں اس کے انتظار میں بیٹھی رہتی تھی۔ یہ اس کا انتظار تھا یا لاتعداد دعاؤں کا نتیجہ وہ لکھتے لکھتے اکثر سر اٹھا کر اسے دیکھ لیتا تھا۔ ایک دن اس نے اس کے ہاتھ میں قلم تھماتے ہوئے کہا تھا ”تم کیوں نہیں لکھتیں کوشش تو کرو“ اور اس کا کہنا حکم تھا جو اس داسی کو بجا لانا تھا۔ اس نے ساری ساری رات جاگ کر کہانیاں بننا شروع کی تھیں کیونکہ اس کی لکھی ہر تحریر پر وہ ہلکا سا مسکرا کر کہتا ”دیکھا میں کہتا تھا نا تم لکھ سکتی ہو“

ماضی کی ان گنت یادیں تھیں جو اس کے سامنے آج عرصے بعد پھر سے آن وارد ہوئی تھیں۔ وہ ہولے سے اپنی جگہ سے اٹھی تھی اور چلتے ہوئے شیشے کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔

”تمھیں نہیں لگتا کہ زندگی جینا بہت مشکل ہے؟“ اس نے ٹھنڈی آہ بھر کر سامنے نظر آتے اپنے عکس سے سوال کیا تھا۔ ”یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسان چلتی آندھی میں ایک جلتی موم بتی ہے جسے ہر پہر بجھ جانے کا خطرہ لاحق ہو۔ مگر جب آپ چاہو کہ یہ شمع بجھ جائے تو اس کا شعلہ مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے“

اس نے آئینے میں دوبارہ اپنے عکس کو دیکھا تھا وہ اب بھی ویسی ہی تھی اور آئینے میں پیچھے ایک تصویر کی جھلک نظر آ رہی تھی جس میں وہ ماضی بعید کے شخص کا ہاتھ تھامے مسکرا رہی تھی۔ جانے غلطی کہاں ہوئی تھی مگر اب وہ دونوں شخص الگ الگ محسوس ہوتے تھے۔ شاید پہلی دفعہ وہ ماضی بعید کے شخص سے علیحدہ تب ہوا تھا جب اس نے اس کے ہاتھوں سے کتاب چھین کر اپنا جوتا صاف کرنے کے لیے دیا تھا یا شاید تب جب ہر رات چاند کو دیکھ کر لکھنے والے شخص نے گرم ابلتی چائے اس کے پیروں میں پھینکی تھی کیونکہ وہ چینی ڈالنا بھول گئی تھی۔ رفتہ رفتہ وہ دو الگ شخص بن گئے تھے اور وہ جو ماضی بعید کے شخص کی دیوانی تھی اب اس انجان شخص سے خوف کھاتی تھی۔ وہ جو اس کی ایک جھلک پر مسکرا اٹھتی تھی اب چاہ کر بھی اسے دیکھ کر اپنی آنکھوں کی ویرانی چھپا نہیں پاتی تھی اور اسی بات سے وہ چڑتا تھا کہ وہ ہر وقت منحوسیت پھیلائے رکھتی ہے مگر وہ اسے شاید کبھی بتا نہیں سکتی تھی کہ وہ اس کے لیے ایک انجان شخص ہے اور اس کو پا لینے کے باوجود اس کا دل ماضی بعید کے شخص کے بچھڑ جانے کے غم میں مبتلا ہے۔

کیونکہ محبت وجود سے نہیں ہوتی یہ تو ادا ہوتی ہے جو کسی کو کسی کا دیوانہ بنا دیتی ہے اور اس ادا کا ختم ہوجانا اکثر محبوب کو عاشق کے لیے انجان شخص بنا دیتی ہے اور پھر ہجر اور ملاپ بھی مترادف بن جاتے ہیں۔

Facebook Comments HS