اندلس اجنبی نہیں تھا!


کافی ہاؤس کی بوڑھیاں ؛ قسط نمبر چھ

دوسرے دن علی الصبح آنکھ کھل گئی۔ دماغ بگڑا بیٹھا تھا کہ کل سے سرزمین سپین پہ آئی بیٹھی ہو اور ہلنے پہ تیار نہیں۔ کیا بستر پہ پاؤں پسارنے آئیں تھیں؟

دیکھتے نہیں کس قدر تھکاوٹ تھی۔ ہم نے گھرکا۔

کل کی شام تو تم نے گزار دی نا ایسے ہی۔ گلی میں جھانکتے اور نہ جانے کس کس کو یاد کرتے ہوئے۔ یہ نہ ہوا کہ باہر کا ایک چکر ہی لگا لیتیں۔ بتیاں شتیاں دیکھنے۔ طعنہ ملا!

تو کیا ہوا؟ آج کی شام بھی تو آئے گی نا۔ ہم نے پچکارا۔
مجھے بھی زبردستی سلا دیا تم نے۔ ذہن بسورا۔
یہ تو اور بھی اچھا ہوا۔ آج تازہ دم ہو کر چلتے ہیں۔ دیکھیں میڈرڈ کیسا ہے؟
پھرتی سے ہم نے بنائی چائے، ساتھ میں بسکٹ۔ یہ ہماری بیڈ ٹی تھی۔

جب گوگل اور سمارٹ فون نہیں ایجاد ہوئے تھے تب شہر کا نقشہ اور ٹورسٹ اٹریکشنز کے کتابچے ہم ہوٹل کاؤنٹر سے لیا کرتے تھے۔ نقشہ کھولو، بس یا ٹرین کا نمبر دیکھو، بس سٹاپ یا ٹرین سٹیشن پہنچو اور نہ جانے کیا کیا کچھ۔ سمارٹ فون نامی عمرو عیار کی زنبیل نے تو زندگی کو مٹھی میں بند کر دیا۔ اگر دیکھنا ہو کہ کیا کچھ ہے بغل میں۔ لکھو، کلک کرو، پل بھر میں کھل جائے گا آپ کے گردونواح کا کچا چٹھا۔ چلو جی چل پڑو۔

اسی ترکیب پہ عمل کیا تو علم ہوا کہ بغل میں رائنا صوفیہ میوزیم ہے۔ پکاسو کی ڈھیروں پینٹنگز سمیٹے۔ ڈاؤن ٹاؤن میں رہائش بک کروانے کا سہرا صاحبزادی کے سر جو ہمارے ہر پروگرام کی آرگنائزر ہوتی ہے۔

باہر نکلے تو پتھریلی گلیوں کا جال ہمارے سامنے تھا۔ ایک گلی کا احوال تو ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔

پینٹ ہوئے گھروں اور گیراج کے دروازے، پھولوں بھری بالکنیاں اور لہراتے پردے۔ ہر طرف اُڑتی کافی کی مہک اور بالکونیوں میں بیٹھے بوڑھے اخبار کھولے چسکیاں بھرتے۔ کبھی کبھی کوئی اچٹتی نظر سے گلی میں سے گزرنے والے ان سیاحوں کو دیکھ لیتا جو منہ کھولے اشتیاق بھری نظروں سے ہر کھڑکی اور بالکونی سے یوں اندر جھانکتے تھے جیسے شاید کوئی ان کے انتظار میں بیٹھا ہو۔

مُوروں کا شہر۔ وہ جو کبھی اپنا تھا۔ جہاں ہر طرف دور دیس سے آئے ہوئے بس گئے تھے۔ قدیم اندلس۔

گوگل زدہ فون ہاتھ میں لے کر گلی سے نکلے اور پھر ایک اور گلی۔ ایک اور۔ ایک اور۔ اوپر نیچے جاتی، لہراتی، بل کھاتی پتھریلی گلیاں۔ کئی کئی منزلہ فلیٹس سے ابھرتی موسیقی، بچوں کی آوازیں اور میڈرڈ۔

گوگل بتا رہا تھا کہ رائنا صوفیہ قریب ہی ہے۔ کافی پینے کی طلب کافی زیادہ تھی سو کچھ دور چل کر کیفے کے باہر بچھی کرسی پر جا بیٹھے۔ پونی بنائے، رنگین شرٹ پہنے پھرتیلے ویٹر کو کافی اور کراؤسنٹ کا آرڈر دیا۔ چھوٹا سافٹ پاتھ اور اس پہ لگی میز کرسیاں۔ پاس سے گزرنے والوں کو بچ بچا کر گزرتے دیکھا مگر کسی کے ماتھے پہ کوئی تیوری نہیں تھی کہ یہ راستہ گھیرے کیوں بیٹھے ہو؟

کبھی کوئی کمر خمیدہ بوڑھا کتے کی رسی پکڑے آۂستہ آہستہ چلتا ہوا پاس سے گزر جاتا۔ جونہی کتا تھوتھنی بڑھا کر کچھ سونگھنے کی نیت کرتا، بابا جی ہنکورہ بھرتے اور کتا فوراً بیبا کتا بن جاتا۔ کبھی کوئی نوجوان جوڑا ہاتھ پکڑے آپس میں بحث کرتے گزرتا۔ نہ جانے کیا بات زیر بحث ہو گی؟ ہنی مون پہ کہاں جائیں؟ محترمہ بضد ہوں گی کہ مالدیپ کا ساحل بہترین ہو گا۔ نرم گرم دھوپ اور نیلے پانیوں کنارے چمکتی دھوپ۔ محترم کا خیال ہو گا کہ نہیں لاس ویگاس کے جوا خانے نہیں تو کچھ نہیں۔ بس جناب ہماری کافی آ چکی ہے اب ہم مزید ذہن پہ زور نہیں ڈال سکتے۔

کافی پیتے ہوئے ساتھ بیٹھی میز کی طرف نظر گئی جہاں دو بوڑھیاں آپس میں باتوں میں منہمک تو تھیں مگر گاہے گاہے اس بچے پر بھی نظر کرتیں جو پاس کھڑی پرام میں اپنے کھلونوں سے کھیل رہا تھا۔ دونوں کی عمر ستر پچھتر کے بیچ، نک سک سے تیار، کافی کے گھونٹ بھرتیں اور باتیں کرتی کرتے ہنس دیتیں۔ ہم کافی دیر انہیں دیکھتے رہے۔ کافی ختم کر کے ان میں سے ایک نے اپنے سامنے رکھا رنگین کاغذ میں لپیٹا بڑا سا پیکٹ بچے کی پرام میں رکھ دیا۔ بچہ ہمک ہمک کر پیکٹ کو چھونے لگا۔ دوسری نے پہلے مسکرا کر بچے کو دیکھا اور پھر دوسری کو اور پھر باتیں ہونے لگیں۔ تھوڑی دیر بعد دونوں اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ہم سے رہا نہ گیا۔ وہی سیاحوں والا تجسس۔ اُٹھ کر ہیلو ہائے کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا وہ انگریزی سمجھتی ہیں؟ دونوں نے بیک وقت اثبات میں سر ہلایا۔

ہم نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے ان سے گپ شپ کرنی شروع کی۔ باتوں باتوں میں علم ہوا کہ پرام میں بیٹھا ہوا بچہ ان میں سے ایک کا نواسہ ہے۔ ان کی بیٹی ورکنگ مام ہے سو دن کے وقت وہ اپنے نواسے کو سنبھالتی ہیں۔ دوسری خاتون نے بتایا کہ کچھ دن پہلے ہی بچے کی پہلی سالگرہ منائی گئی تھی جس میں وہ شرکت نہیں کر سکی تھیں سو آج انہوں نے اپنی سہیلی کو کافی پہ مدعو کیا۔ وہ بچے کے لیے گفٹ لے کر آئیں تھیں۔

یہ دونوں بوڑھیاں مغرب کے خاندانی نظام کی ایک جھلک تھیں جہاں ایک عمر رسیدہ ماں اپنی بیٹی کے بچے کو بخوشی پال رہی ہے۔ ہم نے تصور میں اپنے ہاں کی دادی نانی کو تصور کیا۔ بچے پالنے میں وہ یقیناً کسی سے پیچھے نہیں رہی ہوں گی مگر سہیلی کے ساتھ کافی شاپ پہ وقت بتانے کا تصور شاید ان کے لیے نیا ہو گا؟

پھر ہمیں یاد آیا کہ پرانے وقتوں میں دیہات کی عورتیں بھی تو ساتھ بیٹھ کر چرخہ کاتتی تھیں اور کنویں پہ پانی بھرنے کے لیے اکٹھے جانا۔

شاید کافی شاپ اس ہی کا جدید تصور ہے مگر کسی حیلے بہانے کے بغیر۔
ہم کافی پی کر تازہ دم ہو چکے تھے۔ باتوں کا کوٹہ بھی پورا ہو چکا تھا۔ چلیے رائنا صوفیہ چلتے ہیں!

Facebook Comments HS