آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس: چند گزارشات
گزشتہ روز آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی پریس کانفرنس سے حالات کی تصویر واضح ہونے کی بجائے مزید دھندلی ہو گئی ہے۔ یہ قیاس کرنا مشکل ہے کہ پاک فوج کے ترجمان نے کیا یہ خبر دی ہے کہ چوکس فوج کے ہوتے ہوئے عوام کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے یا یہ بتایا ہے کہ ان کی حکومت بعض بنیادی معاملات پر بھی کنٹرول کرنے میں ناکام ہے جس کی وجہ سے فوج بھی عوام کی طرح پریشانی میں مبتلا ہے۔
پاک فوج اس ملک کا سب سے طاقت ور ادارہ ہے جسے بوجوہ ملکی سلامتی کے علاوہ سیاسی و معاشی معاملات میں وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ اگرچہ سیاست کے ساتھ معیشت پر فوجی کنٹرول کے حوالے سے شدید اختلاف پایا جاتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فوج کو درحقیقت صرف سرحدوں کی حفاظت کے آئینی فریضے پر توجہ مبذول کرنی چاہیے۔ اور امور حکومت یا سیاسی معاملات کا کام پارلیمنٹ اور پارٹیوں کے حوالے کر دینا چاہیے۔ اس کے باوجود ملک میں کسی بھی شعبہ یا کسی بھی سیاسی نقطہ نظر کا حامی کوئی فرد اس سچائی سے انکار نہیں کرتا کہ فوج اس وقت ملکی سیاست میں اہم ترین سانجھے دار ہے۔
بعض تجزیہ نگار، سیاست دان اور پارٹیاں تو فوج کی شراکت کو ناقابل تردید حقیقت مانتے ہوئے سب سے اس کی حیثیت کو تسلیم کرنے اور اس کی زیر نگرانی تابعداری سے حالات و معاملات میں صرف اتنے ہی حصے پر اکتفا کرنے کا سبق عام کرتے ہیں، جو فوجی قیادت سیاست دانوں کو دے دینا چاہتی ہو۔ ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ ملک کی بیشتر سیاسی جماعتیں بھی اس اصول کو سب سے بڑی سچائی مان کر اس کے سامنے سر بسجود رہتی ہیں۔ البتہ جب کسی صورت فوج کی سرپرستی کے سبب حکومتی اقتدار میں حسب منشا حصہ نہ مل سکے تو پھر کبھی ووٹ کو عزت دو اور کبھی حقیقی آزادی کے نام سے ’شور مچانے‘ کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے تاکہ پیاری فوجی قیادت کو ان کی ’محرومی‘ کا احساس بھی ہو سکے۔
دیکھا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد آنے تک سیاسی حق کی جو صدائیں نواز شریف بلند کیا کرتے تھے، اب وہ غراہٹ عمران خان کے بیانات میں دکھائی دینے لگی ہے۔ جبکہ عمران خان استہزائیہ انداز میں یہ کہہ کر موجودہ حکومت اور نواز شریف کا مذاق اڑاتے ہیں کہ ’ووٹ کو عزت دینے والے اب بوٹ کو عزت دے رہے ہیں‘ ۔ اس طعن زنی کے باوجود پاکستانی عوام کو یہ منظر بھی ابھی بھولا نہیں ہو گا جب تحریک انصاف کے ایک لیڈر نے ایک لائیو ٹی وی ٹاک شو میں فوجی بوٹ میز پر رکھ دیا۔ اور اپنی مجبوری یا ’طاقت‘ کا ماخذ کسی تقریر کے بغیر ہی واضح کر دیا۔ یادش بخیر ملک میں حالات کی تبدیلی کے بعد عمران خان کے یہ پرانے ساتھی بھی اب تحریک انصاف کی کشتی سے چھلانگ لگا کر ہوا کے رخ پر پرواز کی کوشش میں رہتے ہیں۔
دریں حالات سوال یہ نہیں کہ فوج کے پاس کتنی طاقت ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ فوج حکومت کو کتنا اختیار دینا چاہتی ہے۔ بدقسمتی سے اس بنیادی اصول کی وضاحت کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی کیوں کہ بیان شدہ موقف کے مطابق ملک میں جمہوری نظام کام کر رہا ہے، منتخب حکومتیں پارلیمنٹ کے اختیار سے امور حکومت طے کر رہی ہیں اور سب ادارے نہایت خشوع و خضوع سے آئین کے عین مطابق اپنے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ انہیں فرائض میں ایک فرض پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بھی اپنے ذمے لے لیا ہے کہ اب وہ جلدی جلدی پریس کانفرنسیں منعقد کر کے اصل اور اندر کی خبریں عام کیا کرے گا تاکہ لوگ پروپیگنڈا کی صورت میں فراہم کردہ غلط معلومات سے گمراہ نہ ہوں۔ عوام اور فوج کے درمیان فاصلے پیدا نہ ہوں، اعتماد کا رشتہ بحال رہے اور راوی چین کی بانسری بجاتا رہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے سوموار کو پریس کانفرنس میں یہی فرض ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سے پہلے جولائی کے دوران میں پریس کانفرنس میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ آئی ایس پی آر اب غلط معلومات کی روک تھام کے لیے خود میدان عمل میں اترے گا اور عوام تک حالات کی حقیقی اور درست تصویر پیش کی جائے گی۔ البتہ ان دونوں پریس کانفرنسوں میں دیکھا گیا ہے کہ پاک فوج کے ترجمان کی گفتگو کا زیادہ حصہ ایسے عناصر پر نکتہ چینی میں صرف ہوا جنہیں موجودہ فوجی قیادت کسی نہ کسی وجہ سے اپنا مخالف قرار دے رہی ہے۔ گزشتہ پریس کانفرنس میں آئی ایس پی آر کے سربراہ نے فوج کے آپریشن ’عزم استحکام‘ کے حوالے سے ایک سیاسی مافیا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کل منعقد ہونے والی پریس کانفرنس میں ایسے عناصر کو آڑے ہاتھوں لیا گیا جو اس وقت گوادر میں دھرنا دے رہے ہیں۔ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی درحقیقت جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کی پراکسی ہے اور یہ لوگ پرامن احتجاج کا صرف ڈھونگ کرتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے ویڈیو دکھا کر ثابت کرنے کی کوشش کی کہ کیسے اس تنظیم کے لوگوں نے تشدد کیا اور سکیورٹی فورسز کو اشتعال دلانے کی کوشش کی۔
ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر معاملہ الزام تراشی سے ہی حل ہونا ہے تو اس مقصد کے لیے تو کابینہ کی صورت میں بلند بانگ باتیں بنانے والے لوگوں کی فوج ظفر موج ملک میں موجود ہے۔ پھر فوج کے ترجمان کو خود اس کام کے لیے میدان میں اترنے کی کیا ضرورت تھی؟ یا آئی ایس پی آر کا خیال ہے کہ اگر پاک فوج کا ترجمان بنفس نفیس کسی تنظیم پر الزام عائد کرے گا اور اسے دشمن قوتوں کا ایجنٹ اور فارن فنڈنگ سے کام کرنے والا گروہ بتایا جائے گا تو اس کی بات میں وزن ہو گا اور لوگ بڑی تعداد میں اس پر یقین کریں گے؟ لیکن کسی ثبوت اور دلیل کے بغیر محض الزام تراشی سے یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ پاک فوج اپنا رہا سہا وقار بھی کھو بیٹھے اور عوام سیاسی پارٹیوں کی طرح فوج کو بھی سیاسی گروہ سمجھتے ہوئے، اس کی طرف سے سامنے آنے والی معلومات کو محض پروپیگنڈا سمجھ کر نظر انداز کر دیں۔ جب تنظیموں اور سیاسی تحریکوں کے بارے میں فوجی ترجمان اظہار رائے کو شعار اپنائیں گے تو دوسری طرف سے جوابی حملہ بھی ہو گا اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ سوچنا چاہیے تھا کہ ایسی صورت میں فوج کا وقار اور احترام کیسے بحال ہو گا۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے فوج اور عوام کے درمیان تعلق کے بارے میں جس حساسیت کا مظاہرہ کیا ہے، انہیں سوچنا چاہیے کہ کہیں ان کا اپنا طرز تکلم بھی تو یہ فاصلہ زیادہ کرنے میں کردار ادا نہیں کر رہا؟
آئی ایس پی آر کے سربراہ نے پریس کانفرنس کا آغاز اس شکوے شکایت سے کیا کہ ملک میں ’ڈیجیٹل دہشت گردی‘ کا سلسلہ جاری ہے، ملکی قانون ان عناصر کی سرکوبی کرنے میں ناکام ہے جو فوج کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا پھیلا کر عوام میں عدم اعتماد پیدا کر رہے ہیں۔ بیان کے اس حصے میں واضح کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر کنٹرول کے موجودہ میکنزم اور جھوٹا پروپیگنڈا کرنے یا نفرت انگیز مہم جوئی کرنے والے عناصر کی گرفت نہیں ہوتی اور قانون انہیں سزائیں دلانے میں ناکام ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے قوانین غیر موثر اور ناکارہ ہیں۔ اس بارے میں افسوس اور غم و غصہ کا اظہار کرنے کے بعد انہوں نے فرمایا کہ ’البتہ پاکستانی فوج ڈیجیٹل دہشت گردی کو بہت سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ پاکستان یا اس کی سرحدوں سے باہر اگر فوج کے خلاف ایسا پروپیگنڈا نوٹ کیا گیا جو فوج اور عوام میں فاصلہ پیدا کرنے کا سبب بنتا ہو تو ایسے عناصر کے خلاف فوری طور سے قانونی کارروائی کی جائے گی۔ فوج میں اس حوالے سے پہلے ہی نظام استوار کر لیا گیا ہے‘۔
ایک طرف ملکی قانون پر مکمل عدم اعتماد اور دوسری طرف کسی بے قاعدگی کی صورت میں فوج کی طرف سے ’قانونی کارروائی‘ کا اعلان، صورت حال کو مبہم اور غیر واضح کرتا ہے۔ اگر قانون ناقص ہے تو مدعی خواہ حکومت ہو یا فوج، کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ بلکہ پریس کانفرنس میں اس معاملہ پر ناراضی کا اظہار کرنے کی بجائے، پاک فوج حکومت کو پیغام دیتی کہ وہ موجودہ قانون سے مطمئن نہیں ہے، اس میں مناسب ترمیم کی جائے تاکہ قصور واروں کا احتساب ہو سکے۔ لیکن یہ بات تو پاک فوج کے ترجمان کو خود بھی اچھی طرح معلوم ہوگی کہ قانون کو کیسے موثر بنوایا جا سکتا ہے۔
البتہ اگر بین السطور عدالتوں کو کوئی پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے تو اس کے بھی دو پہلو ہیں۔ ایک تو یہ کہ فوج کی طرف سے ملکی عدالتی نظام کے بارے میں براہ راست یا بالواسطہ رائے زنی کوئی اچھی روایت نہیں۔ اس طریقے سے اداروں کے درمیان موجود احترام کا رشتہ مزید کمزور ہو گا۔ دوسرا یہ کہ ملک میں فوج کے خلاف رائے زنی سمیت ہر قسم کے جرائم کی گرفت کے لیے سرکاری انتظام موجود ہے۔ اب اگر فوج اس نظام کے ہوتے ہوئے فوج کے اندر کوئی نظام استوار کر رہی ہے جو قانون شکن عناصر کے خلاف عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی کرے گا تو فوج اپنی ذمہ داریوں میں ایسا اضافہ کرنے کی کوشش کرے گی جس میں اس کی کامیابی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہو گا۔ فوج پر ذمہ داری کا بوجھ بھی بڑھ جائے گا اور فوج کی خود مختاری کے بارے میں نت نئے سوالات کا سلسلہ بھی شروع ہو گا۔
گزشتہ روز لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی پریس کانفرنس کی رپورٹنگ دیکھنے کے بعد یہ کہنا ضروری ہے کہ ایسی میڈیا ٹاک کا سلسلہ بند کیا جائے۔ فوج اگر کسی اہم معاملہ پر اپنی رائے یا معلومات عوام تک پہنچانا چاہتی ہے تو اسے پریس ریلیز کی صورت میں جاری کیا جائے۔ ایک تو اس طرح کسی معاملہ پر واضح اور دو ٹوک رائے سامنے آ سکے گی دوسرے پریس کانفرنس میں غیر ضروری گفتگو کے ماحول میں ایسی باتیں کہنے سے بچا جا سکے گا جو اعتماد سازی کی بجائے فوج کے بارے میں شبہات میں اضافہ کا سبب بنتی ہیں۔


