کیا ہم علی اکبر ناطق کو پڑھنا چھوڑ دیں؟
درج بالا عنوان پہ شروع ہونے والی بحث دلچسپ ہے۔ اس پہ گزشتہ کچھ ہفتوں سے ہر کوئی اپنے خیالات کا ببانگ دہل اظہار کر رہا ہے۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ اردو ناول نگار علی اکبر ناطق نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پہ اپنی نئی آنے وال کتاب سے متعلق لکھا کہ اگر میرے دوست اسے نہیں خریدیں گے تو میں انہیں ان فرینڈ کر دوں گا۔ دوسری طرف خلیل الرحمان قمر کو ہنی ٹریپ کر کے جس طرح میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا، وہ روزَ روشن کی طرح عیاں ہے۔
جو نکات میں آپ کے سامنے پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ انہیں آپ مجموعی طور پہ دیکھیے۔
ناطق و خلیل الرحمان قمر دو متنازعہ اور جدا، الگ استعارے ہیں۔
دراصل ہم اس سوال کی کھوج لگانے کی کوشش کریں گے کہ کیا ایسے رائٹرز کو پڑھا یا دیکھا یا سراہا جائے جو ہمیں کسی وجہ سے ناپسند ہوں یا متنازعہ ہوں یا وہ کچھ ایسا شدید مذہبی رویہ اپناتے ہوں۔ یا کسی خاص فکر کے لوگوں کو دکھ پہنچانے کی وجہ بنیں۔
ترکی کی مشہور جرنلسٹ مینا کیریک کانات نے گزشتہ سال ایلف شفق پہ الزام لگایا۔ انہوں نے بتایا کہ موصوفہ کے کچھ کالمز سے مواد چوری کیا ہے۔ کچھ کردار اور جگہوں کو اپنی تخلیقات میں استعمال کیا ہے۔ اس خبر کے جواب میں ایلف شفق نے تردید کی مگر امسال ہی ایلف شفق پہ الزام ثابت ہوا۔ اور انہیں اک لاکھ ستر ہزار ترکی لیرا بھرنے کا کہا۔ ترکی کی عدالت میں یہ ثابت ہوا کہ ایلف شفق نے تقریباً پانچ فیصد تک مواد چوری کیا تھا۔
اب ہم جو سکول کالجز اور جامعات میں سیکھتے ہیں کہ دوسروں کے کام کو ایکنالج نہ کرنا علمی زیادتی ہے۔ اپنے تھیسز میں ایسا کرنے پہ ریجیکشن بھی مل سکتی ہے۔ یہاں آسٹریلیا میں اگر غیرقانونی مواد چوری کرتے کوئی پکڑا جائے۔ اس پہ پانچ سال قید اور ساتھ ہزار آسٹریلوی ڈالرز جرمانہ کیا جاسکتا ہے۔ اب ایسے سنجیدہ عدالتی کیس کے بعد کیا ہم ایلف شفق کر پڑھنا چھوڑ دیں۔ جو دوسروں کو اخلاقی اسباق دیتی ہے۔ روحانی فکر سمجھاتی ہے۔ مگر ذاتی و سماجی زندگی میں اس نے ترکیوں اور آرمینیائیوں کا متنازعہ ذکر کیا ہے۔ کیا ہم اسے پڑھنا چھوڑ دیں؟ میں اس سب جاننے سے پہلے ہی موصوفہ کا ”عشق کے چالیس اصول“ انگریزی اور اردو زبان میں پڑھ چکا تھا۔
”عشق کے چالیس اصول“ کی خاص بات اس کے ہر اصول پہ اک الگ سے باب باندھا جاسکتا ہے۔ روحانی ادب میں دلچسپی رکھنے والے اسے دل سے لگا کر پڑھتے اور آگے شیئر کرتے پائے گے ہیں۔ ’دا گزٹ‘ میگزین کے مطابق اس کے ابھی تک سات لاکھ پچاس ہزار کاپیاں صرف ترکی اور فرانس میں فروخت ہو چکی ہیں۔ یہ ذہن میں رہے کہ ایلف ترکی نژاد ہیں مگر اب برطانیہ میں زندگی بسر کر رہی ہیں۔ آپ ان کی چوری کے مواد اور بچوں یا آرمینیائی لوگوں پہ متنازعہ کامنٹس کو یاد رکھیں گے تو غالب امکان ہے کہ آپ اک دلچسپ رائٹر کو پڑھنے سے قاصر ہو جائیں گے۔
لندن سے تعلق رکھنے والے لارڈ بائرن کا انگریزی ادب میں اہم مقام ہے۔ بالخصوص ہیرالڈ پہ اک طویل نظم جو ایک سو بیس صفحات پہ پھیلی ہوئی ہے کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ شیلے، ایلیٹ اور دیگر اہم عصر لکھاریوں نے بھی بائرن کے کام کو پسند کیا۔ مگر وہیں موصوف کے لکھے کو تنقید کا سامنا رہا۔ اس کی وجہ ان کے اپنی بہن کے ساتھ ناجائز تعلقات بنی ہوئی تھی۔ جو کہ اس کی حیات کے دوران کافی زیر بحث رہے۔ مگر وہیں واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے مصنف ڈنکن وو ایسے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ کیا بظاہر اخلاقی طور پہ کمزور انسان کو ہم پڑھنا چھوڑ دیں؟
جب میں ادب میں ماسٹرز کر رہا تھا۔ ان دنوں ہم نے تنقید کا ایک اہم باب پڑھا۔ جس میں Chicago School of Criticism کے بارے میں جاننے کو ملا۔ یہ بہت سے ناقدین کا گروپ تھا جو کے بعد میں بطور تحریک آئندہ نسلوں تک بھی منتقل ہوتا رہا ہے۔ ان کے مطابق:
الف) : بطور ناقد ہمیں کسی بھی کتاب یا ادبی تحریر کا تجزیہ کرنا ہو گا۔ اس کا سیاق و سباق، الفاظ کا چناؤ، ٹون اور دیگر کرافٹ کو زیر بحث لایا جائے گا۔
ب) : کتاب جس لکھاری نے لکھی ہے ہمیں اس کے ذاتی زندگی سے اجتناب کرنا ہو گا۔ یا وہ سماج میں کیسا انسان ہے اسے پس پشت ڈال کر اس کے کام کا تجزیہ کیا جائے گا۔
ج) : کسی حد تک ہم تحریر کے سماجی اور تاریخی پہلوؤں پہ ضرور غور کریں گے۔ لیکن اس میں لکھاری کی ذاتی زندگی کا ذکر یا اثر نہیں لیا جائے گا۔
میرا ذاتی طور پہ کئی لکھاریوں سے ملنا ملانا ہوا ہے۔ کئی خوبیوں کے ساتھ ساتھ میں نے ان میں بشری کمزوریاں بھی پائی ہیں۔ اسی طرح راقم بھی لازمی کمزوریوں سے بھرا ہوا ہے۔ اب ہم کسی بھی انسان کی پرسنل زندگی کو لے کر اس کی کتابوں سے اجتناب کریں گے تو محسوس ہوتا
ہے کہ ہم کچھ اچھا پڑھنے سے محروم ہو گے ہیں۔ اگر ہم فنکار کی بشری کمزوریوں یا الزامات کی بنیاد پہ ان کے آرٹ ورک کو خریدنے یا سوشل بائیکاٹ کرنے لگے تو مجھے نہیں لگتا کہ انگلیوں پہ بھی پڑھنے لائق کچھ رائٹرز بچیں گے۔
پھر اس میں اک نکتہ یہ بھی کارفرما ہوتا ہے کہ قارئین لکھاری پہ اپنا حق سمجھتے ہیں۔ بالکل ایسے جیسے شوبز میں سٹارز نے اداکاری تو اچھی کی تھی۔ مگر فلاں سوال جب پوچھا گیا تو مجھے نہیں پسند آیا۔ اب میں اسے دیکھنا چھوڑ دوں گا۔ یا یوٹیوب کی دنیا میں کافی سارے یوٹیوبرز کو اس تنقید کا سامنا ہوتا ہے کہ ان کے سبسکرائبرز ان سے ایسے ایسے کام کروانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ اک سمجھدار انسان اپنے آپ کو ایلین سے محسوس کرنے لگتا ہے۔ تخلیق کاروں کے کام کو پڑھنے دیکھنے اور فکر کرنے والوں کا اپنا بھی حق ہے۔ اسی سبب علی اکبر ناطق کی پوسٹ پہ بہت سارے اہم ادبی احباب نے بھی تنقید کی۔ وہیں کچھ احباب نے اسے بہترین پبلسٹی اسٹنٹ سے بھی جوڑا ہے۔
مگر سوال وہیں آ کھڑا ہوتا ہے۔
کیا ہم کسی انسان کے ذاتی فعل یا قول کو اس کے فن سے جوڑ کر اس سے بائیکاٹ کر دیں؟
یہاں پہ اک کمرشل نکتہ ِنظر سے بھی سوال پیدا ہوتا ہے۔ مغرب میں بھی کتابوں کے شوقین یہ کہتے پھرتے ہیں کہ ہم نے فلاں رائٹر کی کتاب خریدی۔ اس طرح ہم اس کے فلاں قول کو بھی سپورٹ کر رہے ہیں۔ اب آپ شکاگو کے ناقدین والا نکتہ سامنے لائیں تو ہم نے کتاب سے باہر کی زندگی کو بھی کتاب سے جوڑ دیا ہے۔ ہم نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم کتاب خرید کر کتاب کے اندر کے مواد کو صرف سپورٹ نہیں کر رہے بلکہ اس تخلیق کار کے ہر طرح کے لکھے پہ سرتسلیم خم ہیں۔
اگر ہم اس سپورٹ والی سوچ کو باکس کر دیں کہ ہم فلاں لکھے کو پسند کرتے اور فلاں سے ہمیں اعتراض ہے۔ اس طرح ہمارا نیوٹرل اور قدرے شفاف نکتہ نظر آ جائے گا۔
اردو کے شاندار ادیب کی میں آب بیتی پڑھ رہا تھا۔ یہ انہوں نے خود ہی تصنیف کی ہے۔ بلامبالغہ مجھے جابجا ژاں ژاک روسو کی انکشافات 1782 ء یاد آتی رہی۔ دونوں نے ایمان داری بلکہ کچھ زیادہ سچ لکھتے ہوئے اپنے معاشقوں پہ ایسے نکات پیش کیے ہیں۔ اگر ہم ان اعترافات کو اخلاقیات کے پلڑے میں ڈال دیں تو دس طرح کے سوالات پیدا ہوجائیں۔ مگر دنیا انہیں شوق سے پڑھتی بھی ہے اور ان کے بہترین ادبی تخلیقات کو سراہتی بھی ہے۔ یہ سنجیدہ قارئین کے ہاں اک میچور روش پائی جاتی ہے۔
ان سبھی نکات، اہم ادبی مثالوں اور ان کا سماج سے جڑا رشتہ دیکھ کر ہم انہیں بائیکاٹ نہیں کر سکتے ہیں۔ ایسے ہی علی اکبر ناطق کے نظریات جیسے بھی ہوں اور ان کے ہاں الگ فکر پائی جاتی ہو۔ مجھے لگتا ہے کہ ان سماجی رابطے کے پہلوؤں کو نظر انداز کر کے ان کے لکھے پہ توجہ دینا اہم ہے۔
آخر میں علی اکبر ناطق کے اسلوب پہ کچھ بات ہو جائے۔ نولکھی کوٹھی سمیت دیگر افسانے، شاعری یا مختصر سفرنامے پڑھنے کو ملے ہیں۔ مجموعی طور پہ جدید دنیا مٰٰیں اپنے رنگ اور جدا انداز پہ یقین رکھنے والا رائٹر پایا ہے۔ ایک طرف جیسے سمپورن سنگھ گلزار کے ہاں جدید استعارے اور زبان کی باریکیاں ملتی ہیں۔ اس کے الٹ ناطق کے ہاں اردو کے قدیم اسلوب سے بھرپور رنگ ملتا ہے۔ یہ دلچسپ بھی ہے کہ جین زی کو تقسیم ہند سے پہلے کی زبان بھی پسند ہے۔ جو خوبی مجھے ذاتی طور پہ ناطق کے ہاں پسند آئی ہے۔ وہ ان کی زبان میں سادگی کا اثر کا موجود ہونا ہے۔ وہیں نثر میں جملے اتنے لمبے نہیں ہوتے کہ قاری کو دقت پیش آئے۔ اردو کی قدیم مٹھاس میں نتھرے ہوئے اس لکھاری کو سراہا جانا اردو کے مستقبل کے لیے بھی ہے۔
اک عرصہ بعد ہم نے ایسا لکھاری دیکھا ہے جو بہترین فروخت بھی ہو رہا ہے۔ اور لکھنے میں بھی ہر بار نکھار لا رہا ہے۔ رہی بات پرسنل یا سوشل لائف تو اسے سنجیدہ لینے کی بجائے شاہ محمد کا ٹانگہ میں لکھے افسانوں سے لطف اندوز ہوں۔ نولکھی کوٹھی کے ولیم سے ملیں۔ جدید اردو میں اولڈ اردو کا بھی زبان پہ مزہ لاتے رہیں۔


