بے چارے سیاسی ورکر۔ نہ تحفظ نہ عدالت


پاکستان میں فیکٹریز ایکٹ کے تحت ورک مین کی جبکہ انڈسٹریل ریلیشن آرڈیننس کے تحت ورکر کی تعریف کی گئی ہے۔

اسی طرح کے اصطلاحات یا الفاظ کئی اور بھی ہیں۔ جو مجموعی طور پر ورکرز کے لیے استعمال ہوتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں کارخانے اور ادارے خالصتاً سرمایہ داروں کے ہوتے ہیں اور وہ بھی ان کو محض کمانے اور سرمایہ بڑھانے کی خاطر چلاتے ہیں۔ تو بشری کمزوریوں، لالچ اور بد نیتی سے براہ راست یا بالواسطہ ایسے ورکروں کے حقوق کی پامالی، ان کا استحصال کرنے اور ان کے دیگر حقوق کو تحفظ دینے کے لیے لیبر کورٹس، نیشنل انڈسٹریل ریلیشن کمیشن، ویج کمشنر کے ساتھ ساتھ مختلف ٹریبونلز بنائے گئے ہیں۔ البتہ جو ملازمین اور افسران ورکرز کے زمرے میں نہیں آتے ان کے لیے ایسی عدالتوں کے علاوہ دیگر فورمز موجود ہیں۔

لیکن پاکستان سمیت دنیا بھر میں ورکرز کی ایک اور مشہور قسم بھی موجود ہے۔ جو ملکی نظام کو چلانے، ملک کو ترقی اور خوشحالی پر گامزن کرنے اور عوامی شہری، قانونی اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے شبانہ روز جدوجہد کرتے ہیں۔ اور وہ بھی بلا معاوضہ خالصتاً رضاکارانہ بنیادوں پر ۔

پاکستان میں سوائے ایک دو کے باقی ساری سیاسی پارٹیاں خاندانی جاگیریں ہیں اور خیر سے اب یہ ایسے ہاتھوں میں ہیں۔ جو اس کے بانیان کی دوسری، تیسری اور چوتھی نسل ہے۔

ہر ایک پارٹی میں ایسے ایسے ورکرز ہیں جو ان پارٹیوں کے ساتھ ابتدا ہی سے نسل در نسل وابستہ چلے آرہے ہیں۔ ان میں بہت سارے اب ایسے ہیں جن کی نہ لیڈر شپ کے ساتھ کوئی پہچان ہے اور نا وہ ان کو جانتے ہیں۔ بس ایک نظریے کے تحت پارٹی اور قیادت کے ساتھ خوشی اور وفاداری کے ساتھ چلے آرہے ہیں۔

کچھ ایسے بھی ہیں جو ہر وقت کام، کام اور کام ہی کرتے رہتے ہیں اور پارٹی کو دن بدن ہر محاذ پر تقویت دیتے چلے جاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اور ان کی طرح کے دوسرے نظریاتی اور مخلص کارکنان اکثر آخری قطاروں میں یا گمنام ہی رہتے ہیں۔ جبکہ زیادہ تر آگے وہ کارکن ہوتے ہیں جو نہ تو کام وام جانتے ہیں اور نہ ہی حقیقی معنوں میں کرتے ہیں۔ بس بلا ضرورت اور بلا نتیجہ دوڑے رہتے ہیں۔ یا خاص خاص موقعوں اور بالخصوص لیڈرشپ کی آمد پر آگے آگے رہتے ہیں۔ اور نمبر بڑھانے کے چکر میں رہتے ہیں۔

اس کے علاوہ پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد ایسے لوگ بھی پارٹی میں آ جاتے ہیں جو اس کے سراسر خلاف رہتے تھے۔ یا پھر کچھ لوگ متوقع حکومت کی آس میں اپنی خوشامد سے اور بعض دولت اور طاقت کی بیساکھیوں پر آتے ہیں اور آگے چلے جاتے ہیں۔ جبکہ اصل اور نظریاتی کارکنان پیچھے دھکیلے جاتے ہیں۔

ترقی ہر جگہ اور ہر انسان کا حق ہوتا ہے۔ لیکن سیاسی پارٹیوں میں تو پروموشن کا کوئی راستہ ہوتا ہی نہیں۔ بلکہ جب پارٹی کے اندر انتخابات ہوتے ہیں اس میں بڑے اور ذمہ دار عہدوں تک رسائی نا ممکن ہوتی ہے۔

لیکن یہاں بھی اکثر الیکشن سے حتی الوسع بھاگنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اتفاق رائے اور اختلافات سے چھٹکارے کے نام پر طرح طرح کے ڈھونگ رچائے جاتے ہیں۔ کہ الیکشن ہو ہی نہ پائے۔ اور اگر نوبت ایسی آ بھی جاتی ہے تو بڑے بڑے، منظور نظر افراد کے لیے لابنگ کر کے منتخب کرائے جاتے ہیں۔ اور اکثر اصل کارکن پیچھے رہ جاتے ہیں۔

ہر ادارے میں جو بھی آسامیاں پر کی جاتی ہیں خاص کر بڑے گریڈوں کی تو اس کے لیے کوٹہ سسٹم ہوتا ہے۔ مطلب کچھ پروموشن پر اور کچھ براہ راست بھرتی سے پر کیے جاتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کو بھی ایسا ہی کوئی سسٹم متعارف کرانا چاہیے۔ تاکہ اصل کارکنان کو مواقع ملتے رہیں۔

سیاست جس کو ایک کاروبار اگر نہ بھی کہا جائے تو بھی ایک جاگیر ایک وراثت کی شکل ضرور اختیار کر چکی ہے اور یہاں سیاسی کارکنان ہر وقت تنے رسے پر کھڑے رہتے ہیں۔ ڈسپلن وغیرہ کے نام پر کسی بھی وقت نہایت بے عزتی کے ساتھ اس کی ممبر شپ ختم کر کے ساری کی ساری محنت اور جدوجہد غارت کر دی جاتی ہے۔
دوسری طرف الیکشن کمیشن کو دیکھا جائے تو اس کا کام بھی پارٹی کی رجسٹریشن، انتخابی نشان، فنڈز اور سطحی امور تک محدود ہے اور اس کو پارٹی کی تنظیمی بے قاعدگیوں کا نوٹس لینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

ایسی حالت میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ سیاسی کارکنان کے ساتھ نا انصافی نہ ہونے دینے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے باقاعدہ کوئی قانونی فورم وضع کیا جائے۔ اور ان کو استحصال سے بچایا جائے