متراں دی مجمانی خاطر


 

اسلام آباد کی ایکسپریس وے کسی جلوہ عشوہ و ناز و ادا سے کم نہیں دونوں اطراف سبزہ و گل رنگِ برسات سے شفاف ہوئے جاوت ہیں اور بند سواری میں مصنوعی ٹھنڈک حقیقی خُنکی کا احساس دلاوت ہے! ہر چند کہ فضا میں بارش کے بعد کا حبس اور زمین سے اُٹھتے بخارات سر سے پاؤں تلک ایک مسلسل تپش کا رنگ لئے ہیں۔

پاکستانی شہروں میں حالیہ برسوں میں نسبتاً نئی تعمیر اور آباد شدہ ہاؤسنگ اسکیمز عوام و خواص میں سیاحت اور مسافرت کے ذوق کی خُوگر نظر آتی ہیں۔ صاف اور ہموار شاہراہیں، معقول لینڈ اسکیپنگ اور کناروں پہ وافر تعداد میں شجرکاری کی کاوشیں ماحولیاتی تبدیلیوں کے تدارک کی حساسیت اور اس کے مناسب ادراک کی علامت ہیں۔ اگرچہ عوامی طرز فکر پہ پانی کے وسائل، صحیح استعمال اور ویسٹ منیجمنٹ پہ ابھی طویل ذہن سازی، منصوبہ بندی اور تربیت کی اشد ضرورت ہے۔ پھر بھی ان نوزائیدہ ہاؤسنگ اسکیموں میں عوامی خوابوں کی جھلکیاں جو کچھ ”مڈل ایسٹرن اور کچھ یورپی ممالک کی نقل“ نظر آتے ہیں کافی کچھ دیکھنے کو ہے۔

یہ سب کہنے اور سُننے کا موقع کچھ یوں ملا کہ ہماری پیاری نگہت النساء نے اپنے نئے نکور فلیٹ میں جا بسنے کی ٹھانی۔ ہم کہ ازل سے دارالخلافہ میں دو کھونٹ کے مسافر ( دفتر اور گھر) بنے رہے۔ خود کو اس شہر کے نئے اور پیچیدہ نقشوں اور بائی پاسوں کا پاس رکھنے کا اہل نہیں گردانتے۔

دریائے سواں جو وادیٔ کشمیر اور راولپنڈی کے وسطی حصے اور جرنیلی سڑک کے سنگم پہ واقع ہے اور جو کولونیل تجارتی شاہراہ ہے جس کی نواحی نئی نویلی بستیاں ”عوامی“ طور پہ اسلام آباد کہلائی جانے لگیں۔ جو اب ہجرت اور مسافرت کا نہ ختم ہونے والا استعارہ بن چکا ہے۔ اندرون و بیرون ریاست انسانی مائیگریشن نے دونوں شہروں کو بے ہنگم اُفقی عمارتوں سے ڈھیروں ڈھیر کر دیا۔ کنفیوزڈ سماج ہمیشہ بے ترتیبی کی وبا کی لپیٹ میں رہتے ہیں!

کچھ کچھ خاکی اور کہیں کہیں سے سبز کولتاری سڑکوں سے ہوتے ہوئے ہم اپنی تقریباً آسمانی جائے مسکن پہ پہنچ گئے۔ دسویں فلور پہ دریائے سواں اور کہوٹہ کے لینڈ اسکیپ دونوں بہت نکھرے اور واضح سامنے نظر آئے۔ پوٹھوہار کے روایتی نشیب و فراز کو نقشہ سازوں کے اسمارٹ دماغوں نے خوبصورتی سے عوامی خوابوں کے روپ میں ڈھال دیا ہے اور اس طرح مشرقی زمینوں کو جدید میکانکی رہائشی یونٹوں میں تبدیل کرنے کی اُجرت اگرچہ حلال ہے مگر عام آدمی کی استطاعت سے تقریباً باہر!

ہماری ممدوح نے اپنا گھر چھوئی موئی کے پودے اور ہوا رنگ فرنیچر کے ساتھ ساتھ برقی آلہ خاکروب سے بھی سجا رکھا ہے (حقوقِ نسوانی میں آلات صفائی کی ملکیت کا حق وہ سب سے پہلا فرض ہے جس سے وہ بخوشی دستبرداری کو تیار رہتی ہیں )

کچھ دیر صاف ہوا اور خلائی مناظر کی تفریح کے تصور سے گُزر چُکے تو قریب ہی واقع ایک جائے خورد و نوش پہ جا پہنچے۔ یہ دعوت ہم سب کے مہربان ملک فتح خان صاحب کی طرف سے تھی۔ جو ہمسائیگی کی روایت پارینہ ہے مگر جو اُن کی حالیہ نئی اسائنمنٹ نامزدگی بحیثیت ممبر برائے وزیر اعظم زرعی کمیشن کی بدولت ایک و سیلہ تشکر رہا۔

گزشتہ دو مہینوں میں ہمارے آبائی قصبے و ضلع میں جاوید احمد ملک کی نامزدگی بحیثیت ممبر تعلیمی ایمرجنسی کمیٹی سے شادمانی کا سلسلہ ملک صاحب کی سرکاری پروفیشنل قدر افزائی کی اطلاع پہ منتج ہوا۔ ہر دو حضرات سے متعلقہ فورمز پہ تعلیم اور زراعت کے شعبوں میں کار آمد تبدیلیوں اور بہتر فیصلوں کی توقع ہے۔ تقریب میں مبین صاحب اور ملک ارشد (جو عجمان میں ایک ممتاز کاروباری شخصیت ہیں ) بھی موجود تھے۔ زیتون اور سنگتروں کے باغات کی بھرپور تشہیر اور عکاسی کرنے اور سوشل میڈیا مکالمہ کے فروغ میں صفِ اول ملک احمد خان اور برادر خورد ملک عمار خان بھی رونق تقریب رہے۔

کولونیل تاریخ اور ڈائیورسٹی، انکلوژن اور تحرک کی ساری مثالیں خطہ پوٹھوہار کی موجودہ نسل کے خون میں شامل ہے۔ جو تقریباً ایک صدی سے قومی دھارے میں شامل علم اور عمل کے راستے پہ گامزن ہے۔ سالٹ رینج کے باسی اپنی تاریخی حقیقت سے مکمل آگاہی کے ساتھ ساتھ جدیدیت کے تقاضوں اور اس کی مطلوبہ استعداد کار سے ثروت مند اور توانا لوگ ہیں!

ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغ آخر شب
ہمارے بعد اندھیرا نہیں اُجالا ہے

Facebook Comments HS