Symphony of light
اگر کبھی مایوسیاں کالی گھٹاؤں کی طرح چاروں اَور چَھا جائیں، اندھیروں میں انسان ٹامک ٹوئیاں مارتا رہے تو ایسے میں کہیں ایک باریک سی روشنی کی کرن بھی اُمیدوں کے دیے جلا دیتی ہے۔ روشنی اور اس سے پُھوٹتی کرنیں ہی بُھول چُکے راستوں کا تعین کرتی ہیں۔ انگریزی کی مشہور کہاوت ہے: "Every cloud has a silver lining!” ۔ سِلور لائننگ یہاں پر ایک استعارے کے طور پر استعمال ہوا ہے یعنی کسی بھی بے نُور اور ملول سی صورتِ حال میں روشنی دکھائی پڑنا مشکلات سے نکالنے کا آلۂ کار ہے۔
جہاں روشنی کا ذکر ہو وہاں رنگوں کی بات نہ کی جائے تو رنگ و نُور کا فسانہ اُدھورا رہ جائے گا۔ اس دنیا بلکہ پوری کائنات میں سُلجھاؤ اور نفاست رنگ اور روشنی کی بدولت ہی پنپتا ہے۔ جہاں فنِ مصوری گھروں، دفتروں، شاپنگ مالز، گیلریوں اور عجائب گھروں کی زینت بنتا ہے وہیں فنِ عکس گری یعنی فوٹو گرافی بھی اپنی مثال آپ ہے۔ دنیا میں کئی عکس گروں (فوٹو گرافروں) نے قریہ قریہ بستی بستی کیمرہ کندھے پر یا گلے میں لٹکا کر اپنی تخلیق کاری کی پیاس کو بُجھایا ہے۔
آج میں اپنے قارئین کو ایک ایسے عکس گر یعنی فوٹو گرافر سے متعارف کرواؤں گی جو کئی اعزازات جیت چکے ہیں۔ حسن کوثر کے نام سے جانے جاتے ہیں اور این۔ سی۔ اے میں میرے سینئر تھے۔ این۔ سی۔ اے کے بارے میں تو میں یوں کہتی ہوں کہ رُوحانی تعلق ہے۔ 24جولائی 2024کو الحمرا آرٹس کونسل میں ان کے ماہرانہ عکس گری کے نمونوں کی شاندار نمائش منعقد ہوئی۔ اس نمائش کا افتتاح شہرت یافتہ ماہرِ تعمیرات نیئر علی دادا نے کیا۔
الحمرا آرٹس کونسل پچھلی کئی دہائیوں سے فن کاروں کے کام کی قدر افزائی کے لیے ایک شاندار پلیٹ فارم ہے۔ حسن کوثر نے نمائش کے ساتھ ساتھ فوٹو گرافی کی دو دن کی ورکشاپس بھی رکھیں جن میں سے ایک دن اندرون لاہور کے گلی کوچوں میں انہوں نے بذاتِ خود نوجوانوں کے ساتھ جا کر فوٹو گرافی کی باریکیاں سمجھائیں۔ یقینا اس دو روزہ ورکشاپ نے نوجوانوں کے اندر تلاش کے بہت سے دَر وَا کیے ہوں گے۔ اب تھوڑی سی بات کرتے ہیں فن فوٹو گرافی کی۔
فوٹو گرافی فن کی وہ جہت ہے جس میں عکس گر اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اپنے محسوسات کو کیمرے کے لینز پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قید کر لیتا ہے۔ لفظ ’’فوٹو گراف‘‘ پہلی مرتبہ 1839 میں برتا گیا۔ اس لفظ کو سر جون ہرشل جو مختلف علوم پر عبور رکھتے تھے اور ایک آزمودہ عکس گر بھی تھے انہوں نے استعمال کیا۔ یہ یونانی لفظ ہے ’’فوس‘‘ جس کا مطلب ہے ’’روشنی‘‘ اور ’’گراف‘‘ جس کا مطلب ڈرائنگ ہے سے مل کر بنا ہے یعنی ’’روشنی کی مدد سے تصاویر بنانا‘‘۔
حسن کوثر کی بیشتر تصویروں میں ہم کالی اور سفید روشنی کا شعوری استعمال بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ یہ دونوں رنگ ان کے فن پاروں کو وقت کی قید سے آزاد کر دیتے ہیں۔ ان دِنوں میں پاکستان میں موجود نہیں ورنہ حسن کوثر کی نمائش دیکھنے ضرور جاتی مگر چونکہ ہم ٹیکنالوجی کے دور میں جی رہے ہیں لہذا میں نے بھی بہت سی تصویریں دیکھ ڈالیں۔ انہوں نے اجنبی دیسوں کی دُور دراز بستیوں کی گلیوں میں خاک چھانی تو چند چَنیدہ تصاویر عوام کی نگاہوں کا شوق بنیں۔
ان کی بہت سی تصاویر میں خواب دیکھتی آنکھیں، سِسکتے جذبات، دُعائیہ لمحات اور محنت کش فنکاروں کے فنی سفر نظر آتے ہیں۔ مثلاً ایک تصویر لاہور جیسے بڑے شہر میں لوگوں کے کپڑے سی کر گُزر بسر کرنے والے درزی کی ایک دُکان کی ہے۔ دُکان کے منظر میں درزی فقط ایک پیلے پھٹک سے بلب کی روشنی میں کپڑوں کی کٹائی کرتا ہے۔ دُکان کی زبوں حالی اس کے گھریلو حالات کا پتہ دیتی ہے۔ یہ تصویر نہیں بلکہ ایک تاریخ ہے کہ جہاں حکمران عیاشی کرتے ہیں وہاں ایک غریب درزی فقط ایک بلب پر گزارا کرتا ہے۔
ایک تصویر بادشاہی مسجد کے بیرونی بڑے دروازے کی ہے جہاں گیروے رنگ کی روشنی میں لپٹے ہوئے ملجگے کپڑوں میں ملبوس شاید تھکے ہارے دہاڑی دار سانس لینے کو بیٹھے ہوں گے۔ یوں لگتا ہے تصویر کہتی ہے! اے زندگی تیرے رنگ بس مجھ پر مٹیالے ہی رہے۔ ایک اور تصویر جو دنیا کے قدیم ترین شہر لزبن کی ایک گلی کی ہے جہاں بہت سی سیڑھیاں چڑھ کر ایک راہ گیر جا رہا ہے۔ پوری گلی بُھورے رنگوں میں گُندھی ہوئی ہے اور نکڑ پر اچانک موڑ مڑتے ہوئے روشن نیلگوں رنگ امید کا سندیسہ دیتے ہیں۔
حسن کوثر کی تصاویر میں روشنی اور رنگ کا ایسا حسین تال میل ہے جیسے ایک سُر دوسرے سُر سے گلے ملتا ہو۔ بلا شبہ ان تصویروں میں زرد خزاں کے سامنے ایک سر سبز بہار کے بیانیے کا پتہ چلتا ہے۔ اُن کی تصاویر میں کوئی صبح کی ٹھنڈی دُھند کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں تو کوئی ڈھلتی شام کے شنگرفی رنگوں سے جگمگاتی ہیں۔ کہیں رات کے اندھیرے میں اگلے دن کے لیے اپنے بچوں کا ناشتہ خریدنے کے لیے پھل فروش پھلوں کی ٹوکری پر لگے دودھیا بلب کی روشنی اور ارد گرد کا اندھیرا تصویر کو خواب ناک بنا دیتا ہے۔
یوں لگتا ہے کہ حسن کے شاہپاروں کی انگلی تھامے ہوئے میں بھی ملکوں ملکوں اور گلی کوچوں پہ اُترتی چڑھتی دھوپ سے نکلتی روشنیوں میں گم کچھ تلاش کر رہی ہوں۔ کیا؟ شاید آرٹ کا کوئی کھویا ہوا منظر جو کہیں نہ کہیں میرے دل کے اندر بھی بستا ہے۔ روشنی اور سایوں سے کھیلتے ہوئے حسن ایسی شاہکار تصویریں تخلیق کرتا ہے کہ انسان کی آنکھ سوچنے پہ مجبور ہو جاتی ہے کہ زمان و مکان کو لمحوں میں کیسے قید کیا جا سکتا ہے۔ مجھے تو روشنی اور سائے کا یہ کھیل ہمارے ملک کی سیاسی، سماجی، معاشی، اقتصادی اور انسانی زبوں حالی سے نکلنے کی سلور لائننگ دکھائی دیتی ہے جس سے وہ روشن دن نکلیں گے جو کبھی ڈوبیں گے نہیں۔ آخر میں حسن کوثر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہوں گی اس طرح کی اور ڈھیروں تصویریں بنائیے اور لوگوں کی آنکھوں کو خیرہ کیجیے!


