بنگلہ دیش اور پاکستانی بہاری: حقیقت، خاموشی، اور فکر


انگریزی کا ایک فقرہ جس کا آزاد اردو ترجمہ کچھ یوں بھی ہو سکتا ہے کہ ”صرف ہم پلہ ہی موازنے کے اہل ہیں“ میرے دماغ میں بار بار آ رہا ہے جب سے میں نے بنگلہ دیش کی حالیہ صورت احوال کے پس منظر میں سوشل میڈیا پر مختلف اسٹیک ہولڈرز بشمول ایسے ”صحافیوں“ کے ( جو ان فورمز سے بھی منسلک ہیں جو کبھی معروف اور معتبر فورمز جانے جاتے تھے ) تبصرے اور تجزیے پڑھے ہیں۔ ان کا نام میں ممکنہ قانونی کارروائی کے خوف کی وجہ سے نہیں لے سکتی۔ قانون بھی ایلیٹ کا ڈارلنگ ہے۔ کچھ عقلمندوں اور بہی خواہوں کا تو بس نہیں چل رہا کہ ناہید اسلام کو جماعت اسلامی کا لیڈر ہی بنوا دیں اور کچھ نے تو بنوا بھی دیا ہے۔ ایسے بھی ہیں جو بلوچ اور بنگالی میں مماثلت تلاش کر چکے ہیں۔ کچھ کو تڑپ ہو رہی ہے کہ پاکستان میں نوجوان قیادت کیوں نہیں ہے؟ پتا نہیں ان کو اشرافیہ کے نوجوان کیوں نہیں نظر آتے؟ یہ تو مجھ کو نہیں معلوم کہ بنگالی سٹوڈنٹ لیڈر ناہید جو مڈل کلاس سے ہیں اور ایک ٹیچر کی پڑھی لکھی اولاد ہیں پاکستانی اخبارات یا ٹویٹس پڑھتے بھی ہیں کہ نہیں اور نہ ہی پڑھیں تو بہتر کہ ہمارے ”جذبات“ جان کر کہیں حیرت سے بے ہوش ہی نہ ہو جائیں کیونکہ ابھی ان کے ملک میں ان کی ہوشمندی کی اشد ضرورت ہے۔

بنگلہ دیش جو کبھی پاکستان کا ایک صوبہ تھا۔ یہ صوبہ ہم سے الگ ہوا تھا۔ جدائی کا آغاز تو چودہ اگست 1947 کے کچھ سال بعد ہی یعنی کب کا شروع ہو چکا تھا، ایک سلسلہ تھا سازشوں، نا انصافیوں اور خونریزیوں کا۔ بالآخر 1971 کی جنگ کے بعد اور ہماری اجتماعی قومی توہین اور تضحیک ( گر کوئی سمجھے تو ) کے ساتھ اس کا سرکاری اعلان ہوا۔

میں بے چین ہوں اور گہری تکلیف محسوس کر رہی ہوں کہ ہمارے ”موورز اور سیکرز“ میں بنگلہ دیش کی شورش اور مُمکِنَہ انقلاب پر غیر معمولی جوش و خروش ہے۔ کاش ایسے محسوسات قابل گرفت بھی ہوتے۔ سب سے زیادہ ستم ظریفی یہ ہے کہ 1971 اور بنگلہ دیش پر اچانک علمی اور ماہرین کی توجہ اُبھر رہی ہے۔ راتوں رات کئی خواتین و حضرات بنگلہ دیش پر ایکسپرٹ بن گئے۔ جو چاہے ان کا حسن کرشمہ ساز کرے۔

وطن عزیز میں عوام کے لیے انٹرٹینمنٹ ناپید ہے۔ بھلا ہو مرحوم ڈکٹیٹر جنرل مشرف کا انھوں نے کرنٹ افیئرز کے بوسیدہ اور بور فارمیٹ کو بدلا اور ان کو بیک وقت اشتعال اور مسخرے پن سے بھرپور شو اور بہت ہی مصالحے دار بنا ڈالا۔ ناظرین نے بھی پوری دلچسپی سے لال مسجد سے لے کر آرمی پبلک اسکول پر حملے کو سانحہ نہیں بلکہ سسپنس سے بھرپور فلم سمجھ کر دیکھا اور یوں ہمارے کئی ٹی وی اینکرز نے رائے ساز بننے کی فضیلت بھی حاصل کی اور ایجنڈا سیٹنگ، ہوسٹنگ اور اینکرنگ کا اٹوٹ انگ بن گئی۔

یہ ایک عظیم اور ناقابل یقین واقعہ ہی تو ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں مطالعہ پاکستان کو مغالطہ پاکستان بنا دیا گیا، جہاں ڈھائی کروڑ سے زیادہ بچے کبھی سکول ہی نہیں گئے، جہاں آبادی اور نا انصافی بے لگام بڑھ رہی ہے، جہاں ڈھاکہ کے سقوط پر کوئی عالمی معیار کا ہم آہنگ تحقیقی ادارہ نہیں ہے، جہاں ہائی اسکول کا نصاب ”مشرقی پاکستان کی تباہی“ کو کم کم ہی توجہ دیتا ہے، اور جہاں ”بے باک اور آزاد“ میڈیا نے اس خونریز تاریخ کے المناک باب پر صحیح بیانیہ کو کبھی بھی مین اسٹریم نہیں کیا۔ یہاں تک کہ آزاد خیال شہریوں یا لبرلز کے درمیان بھی پاکستانی بہاریوں کے لیے کوئی ہمدردی نہیں ہے، اس ملک میں راتوں رات نبگلادیش ایکسپرٹ پیدا ہو گئے۔

میں اسی بدنصیب، بے وطن اور بھلا دی گئی بہاری کمیونٹی سے ہوں جنہوں نے متحدہ پاکستان کے حق میں کھڑے ہو کر پاکستانی فوج کی حمایت کی اور اپنے آزادی پسند بنگالی دوستوں، رشتہ داروں، ساتھیوں اور پڑوسیوں کی پرتشدد ناراضگی کا سامنا کیا، یہ وہی کمیونٹی ہے جس نے بدترین قتل و غارت سہ کر بے گھری جھیلی ہے۔ اسلام آباد میں پروان چڑھتے اور عمررسیدہ ہوتے ہوئے، اپنی بہاری شناخت کی وجہ سے کئی بار زندگی کے مختلف مراحل میں دھونس، ہراسانی، ذلّت اور امتیازی سلوک کا سامنا کیا ہے۔ تاہم، میری ذاتی مشکلات میرا بنیادی مسئلہ نہیں ہیں۔ جو چیز واقعی دل کو چیر دیتی ہے وہ انسانی حقوق، خواتین کے حقوق، وغیرہ اور آزاد پریس کے نام نہاد چیمپیئنز کی مجرمانہ خاموشی ہے۔

اس کے پیچھے دانشورانہ جواز ہوں گے جو میری محدود سمجھ سے باہر ہیں۔ جب تک میں اپنی کمیونٹی کے بارے میں بے حسی کی منطقی وجہ کو سمجھنے کے قابل ہو جاؤں گی جو پاکستان کے ضیاء کے دور حکومت میں قومی شناخت سے بھی محروم ہوئے (بنگلہ دیش میں بھی ایک جنرل ضیاء تھا) ، شاید مجھے ان مسائل پر خاموش رہنے کی عادت ڈال دینی ہو گی۔ شاید عقل مندی یہی ہے کہ اسلام آباد کے مرکزی مارگلہ روڈ پر بین الاقوامی سطح پر معروف بہاری شاعرہ و بیوروکریٹ پروین شاکر کے نام پر وہ سڑک دیکھ کر ہی سکون تلاش کروں جہاں وہ ایک کار کے حادثے میں 1994 میں شاید قدرتی موت سے گلے ملی تھیں۔

دل نادان پھر بھی چاہتا ہے کہ شاید یہ بکھری سوچیں کسی کو میری ناکام نثری نظم نہ لگیں اور شاید یہ چھپ جائیں اور میری خودکلامی ایک بلاگ یا کلام بن کر آپ کے سامنے ہو اور شاید آپ میں سے کسی کا ضمیر بیدار ہو اور پاکستان کا پرچم بلند رکھنے والے پاکستانی بہاریوں کے لیے آپ کا دل نرم ہو جائے۔ شاید لٹے پٹے مجروح بہاری نوجوان جو بنگلہ دیش کے کیمپ نما اذیت خانوں میں اب بھی بے امان ہیں اپنی شناخت کے لیے جدوجہد اور سچائی کی تلاش جاری رکھیں اور وہ صرف امریکا یا کسی یورپی ملک میں مراعات یافتہ بچوں کی فلموں یا تھیسس کا عنوان ہی نا بن کر رہ جائیں۔ کاش ہمارا فارن آفس جاگ جائے۔ یہ مکالمہ اور تفکر کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ شاید!

 

Facebook Comments HS