اخلاقی اقدار، تعلیم اور تربیت
دروازے کی بیل بجی۔ میری ماسی آ چکی تھی۔ بھائی اس کا روز کا رونا۔ میری بیٹی نے آج یہ کیا، آج یہ فرمائش کی اس کو اب نئی کتابیں چاہیے۔ وہ آگے پڑھ رہی ہے لیکن پھر بھی وہ اپنی جگہ سے ہل کر کام بھی نہیں کرتی۔ جیسے جیسے وہ بولتی ہے میں سوچتی رہتی ہوں کہ یہ تو وہی زمانہ ہے جس میں ماں باپ اولاد سے ڈریں گے اور سب سے بدترین آواز غلیظ آواز اولاد کی ہو گی سمجھ نہیں آتا تربیت کی غلطی ہے یا پھر آگے بڑھنے کی جلدی ہے جس میں کسی کو یہ سوچ ہی نہیں ہے کہ تربیت بھی ہونی چاہیے اخلاق بھی ہونا چاہیے اچھے برے کی پہچان ہونی چاہیے یہاں تو دوڑ لگی ہوئی ہے کس کا گریڈ کتنا آتا ہے اس کے نمبر کتنے آتے ہیں کون کتنے پرسنٹ لے کے پاس ہوتا ہے اور اگر وہ پاس نہیں ہوتا تو جان پر بن جاتی ہے اور اولاد اتنی خود غرض ہو جاتی ہے۔ وہ یہ بھی نہیں سوچتی کہ کہاں سے پیسے آئیں گے کہاں سے اتنی پڑھائی پہ خرچہ ہو گا کہ وہ کالج میں بھی پڑھ رہے ہیں ٹیوشن بھی پڑھیں نئی کتابیں بھی ہوں ڈریسز بھی نئے ہوں اور بس وہ رٹا لگا کے ایگزام پاس کر لیں مگر اس طرح سے پڑھ کر یہ نئی جنریشن کس پر احسان کرے گی اپنے ماں باپ پر اپنی قوم پر یا پھر اپنے اپ پر جب دیکھو یہی ہوتا ہے کہ اب یہ چاہیے اب وہ چاہیے آج یہ فنکشن ہے پرسوں یہ کھیل ہے، ہمیں نئے کپڑے چاہیے۔ اس سے غرض نہیں ہے کہ ماں باپ کہاں سے پیسے لے کر آ رہے ہیں کس طرح سے خرچ کر رہے ہیں انہیں اس بات کا احساس نہیں ہے۔
آخر اولاد کو اس بات کا احساس کیسے ہو گا شاید ہمارے ہاں کی جو نئی جنریشن ہے اس کے ماں باپ بھی اپڈیٹ ہو چکے ہیں انہیں بھی یہی ہے کہ جیسے جیسے بس بچوں کی خواہشوں کو پورا کر دینا چاہیے چاہے اس کے لیے انہیں رشوت لینی پڑے، اپنا آپ بیچنا پڑے، چاہے کچھ بھی کرنا پڑے اپنی عزت نفس کو کچلنا پڑے لیکن وہ اپنے بچوں کو بڑے سے بڑے سکول میں پڑھا کر اور ان کو آگے تعلیم دلوا کر وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنا فرض ادا کر دیا نہیں ایسا نہیں ہے بچوں کو سکھانا بھی تو ضروری ہوتا ہے پھر وہی بچے پڑھ لکھ کر باہر چلے جاتے ہیں مڑ کر بھی نہیں دیکھتے کہ ان کے ماں باپ نے اپنی جوانیاں ان کے لیے قربان کر دیں۔
شاید میرے خیالات بہک رہے ہیں مجھے سمجھ نہیں ارہی کہ میں جو کچھ کہہ رہی ہوں وہ صحیح ہے یا غلط ہے لیکن جو میں دیکھ رہی ہوں مجھے وہی سمجھ میں آ رہا ہے کہ بچہ جس بات کی ضد کرتا ہے ماں باپ اس کے آگے وہی چیز کر دیتے ہیں چاہے وہ چیخے، چاہے وہ جھوٹ بولے ہر چیز اس کے لیے حاضر کر دی جاتی ہے موبائل تو ایسا ہو گیا ہے کہ جیسے ان کے لیے سونے کا کھلونا اور پھر اس کے اوپر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں پھر ہم یہ کہتے پھرتے کہ ہمارا معاشرہ خراب ہو گیا ہے ہمارے معاشرے میں گندگی بڑھ گئی ہے کوئی کسی کا احساس نہیں کرتا سب بے حس رہتے ہیں ویڈیو بناتے ہیں سیلفی لیتے ہیں ٹک ٹاک بناتے ہیں تو کیوں نہیں بنائیں گے جب ہم ان کو پڑھنے کے لیے یہ نہیں بتاتے کہ آپ کو سب بکس میں ملے گا موبائل میں نہیں تو ان کا تو قصور نہیں ہے۔ سارا آپ کا قصور ہے جن کو سیکھنا چاہیے کہ وہ اپنے بچے کو کیا تربیت دے رہے ہیں کیونکہ کل یہی بچہ ان کا سہارا ہے اگر آج وہ اس کو احساس کرنا نہیں سکھائیں گے تو جب کل بوڑھے ہوں گے تو کون ان کا ہاتھ تھامے گا کون ان کا احساس کرے گا کیونکہ احساس کرنا تو آپ نے سکھایا ہی نہیں وہ تو اپ کو اولڈ ہوم کے حوالے کر جائیں گے اپ نے انہیں نصابی کتابیں تو پڑھا دی، انہیں اسلامی تعلیمات، انہیں اخلاقیات، انہیں تربیت نہیں دی جس کا فقدان ہے اور یہ بات سمجھنے کے لیے کوئی تیار ہی نہیں ہے ہر کسی کو یہ لگتا ہے کہ سارے بچے غلط ان کا بچہ صحیح ہے اور بڑا ہو کر وہ ان کا خیال رکھے گا وقت گزر جاتا ہے تو پھر کون سمجھتا ہے ان باتوں کو کوئی بھی نہیں۔
بیٹا سوچتی ہوں کاش اسکول میں ایک پیریڈ اخلاقیات کا ہو جس میں یہ بتایا جائے کہ اپ کی حدود یہ ہیں اپ کو ماں باپ کی عزت کس طرح سے کرنی ہے اپ کو کتنے ٹائم موبائل استعمال کرنا ہے اپ کو کتنے ٹائم تک یہ سب چیزیں جو اپ کو ملی ہوئی ہیں ان کو یوز کرنا ہے اور اپ کو اس کے ساتھ ہی اپنی دینی تعلیمات کو بھی پورا کرنا ہے اپنے اللہ کی تعلیم کو بھی دیکھنا ہے ساتھ ہی ہمیں رسول پاک کی حرمت کے بارے میں بھی بچوں کو سکھانا چاہیے کہ وہ کیا ہے کہ کل کو کوئی ان سے سوال کرے تو وہ یہ نہ کہے کہ ہمیں معلوم ہی نہیں ہاں ہمیں یہ پتہ ہے کہ فزکس میں کتنے فارمولے ہیں، کیمسٹری میں کتنے نومیریکلز ہیں، بائیو کی کتنی برانچز ہیں۔ تو یہ سب بڑا مشکل کام ہے شاید میں بہت ڈیپ میں جا رہی ہوں شاید میں بہت اگے کی سوچ رہی ہوں۔
جو میں نئی جنریشن کو دیکھ رہی ہوں تو میرا دل کرتا ہے ان کو پکڑ کر بتاؤں کہ تمہیں یہاں تک پہنچانے میں تمہارے ماں باپ کا رول اس قدر ہے کہ اگر تم ان کا قرض اتارنا بھی چاہو تو کبھی اتار نہیں سکتے مگر وہی بات جب ماں باپ بھی نہیں کہتے تو ہم کس طرح سے ان کو موٹیویٹ کر سکتے ہیں ان کو سمجھا سکتے ہیں کیسے کہہ سکتے ہیں کہ تم لوگ یہاں پر غلط ہو کیسے بتا سکتے ہیں کہ ایسے نہیں کرتے یہ سوسائٹی کے خلاف ہے کوئی سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں۔ اس بات کو لے کر ان کے ماں باپ بھی ہم سے لڑ سکتے ہیں کہ اپ کون ہوتے ہیں ہمارے بچوں کو یہ سب بولنے والے ہم بیٹھے ہیں نا اور یہی بات ان کو لے ڈوبتی ہے کیا کریں۔


