میاں چنوں: ارشد ندیم ایک معجزاتی حقیقت
ملتان سے سو کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ضلع خانیوال کی تحصیل میاں چنوں گزشتہ دو ہفتوں سے دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی اور یہ توجہ کا پارہ 9 اگست 2024 کی رات اپنے انتہا کو پہنچ گیا جب میاں چنوں شہر کے ایک نچلے متوسط طبقے کے جوان ارشد ندیم نے پیرس کے میدانوں سے گرمائی اولمپکس کے حتمی مقابلے میں تاریخ ساز 92.97 میٹر کی جولین تھرو سے پائی فتح کے بعد اپنے ملک کا جھنڈا دنیا بھر میں لہرایا اور میاں چنوں سمیت دنیا بھر کے لوگوں کو خود پر فخر کرنے کا جواز فراہم کیا۔ ایک اعشاریہ نو میٹر قد رکھنے والے، ستائیس سالہ ارشد ندیم پاکستان کے پہلے اتھلیٹ ہیں جنہوں نے انفرادی مقابلے میں یہ کارنامہ سر انجام دیا۔ اس سے پہلے 1984 میں پاکستان ہاکی ٹیم نے یہ تمغہ جیتا۔
پاکستان نے اب تک اولمپکس میں 3 انفرادی تمغے جیتے ہیں۔ ان میں سے ایک طلائی اور دو کانسی کے تمغے ہیں۔ پیرس میں منعقدہ حالیہ مقابلوں میں ایک طلائی تمغہ، روم میں ہونے والے 1960 کے مقابلوں میں کشتی کے کھیل میں پہلا کانسی کا تمغہ جبکہ سیول میں ہونے والے مقابلوں سال 1988 میں باکسنگ میں دوسرا کانسی کا تمغہ پاکستان نے حاصل کیا۔
ٹوکیو میں 2020 میں ہونے وال گرمائی اولمپکس میں ارشد ندیم نے اولمپکس میں ٹریک اینڈ فیلڈ فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن کر تاریخ رقم کی تو اب کے پیرس میں 2024 میں منعقد ہونے والے گرمائی اولمپکس میں ارشد ندیم نے ایتھلیٹکس میں طلائی تمغہ جیتنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن کر ایک بار پھر تاریخ رقم کی۔ ارشد ندیم نے فائنل میں اپنی دوسری تھرو پر 92.97 میٹر پر جیولین تھرو کا اولمپک ریکارڈ بھی قائم کیا۔ ارشد ندیم نے بیجنگ میں 2008 میں ہونے والے گرمائی اولمپکس کے مقابلوں میں بنائے گئے پچھلے ریکارڈ کو توڑا اور خود کو اس فہرست میں سب سے نمایاں کیا۔
اب دیکھتے ہیں ان گلیوں بازاروں اور روز و شب کو جن میں سانس لے کر ہمارے اس ہیرو نے 27 برس کی عمر میں خود کو پوری دنیا میں ممتاز کیا۔ میاں چنوں این پانچ (این 5 ) کو اپنے درمیان سے گزارنے والا شہر ہے جو ملتان، بہاولپور، لاہور، اسلام آباد، پشاور، کراچی کو باہم ملاتی مرکزی شاہراہ ہے۔ اس شہر کا ریلوے اسٹیشن پاکستان ریلوے کی کراچی۔ پشاور مرکزی ریلوے لائن کے اوپر واقع ہے جہاں کئی ایکسپریس ریلیں رکتی ہیں۔
میاں چنوں کی بنیاد انگریز راج کے دوران 1918 ء میں باقاعدہ نقشے کے تحت رکھی گئی۔ اس شہر میں غلہ منڈی، تعلیمی و طبی مراکز، فروٹ منڈی، باغات، عوامی کتاب خانہ، مسجد، کلیسا اور گردوارہ سرکاری سرپرستی میں بنائے گئے تھے۔ جن میں سے بیشتر اب قصۂ ماضی ہو چکے ہیں جبکہ بعض نشان ابھی بھی ماضی کی کہانی سناتے ہیں۔ سرکار کی طرف سے 1919 ء میں یہ علاقہ نوٹیفائیڈ ایریا قرار دیا گیا۔ 1938 ء میں ٹاؤن کمیٹی، 1975 ء میں میونسپل کمیٹی اور یکم جولائی 1985 ء کو اسے خانیوال ضلع کی تحصیل کا درجہ ملا۔ اس سے پہلے یہ شہر ملتان سے ملحق تھا جبکہ خانیوال ملتان کی تحصیل تھی۔ میاں چنوں شہر کی آبادی ایک لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ یہ شہر لاہور سے 250 کلومیٹر، کراچی سے 1050 کلومیٹر، پشاور سے 650 کلو میٹر، کوئٹہ سے 690 کلو میٹر جبکہ پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے 510 کلو میٹر کے فاصلے پر آباد ہے۔ ۔ اس کی تحصیل میں 37 یونین کونسلیں ہیں جو زیادہ تر چکوک پر مشتمل ہیں۔ گجر، ہراج، سیال، سنپال، مغل، مہر، آرائیں، کھرل، کاٹھیا، راجپوت، جٹ، سادات وغیرہ یہاں آباد نمایاں اقوام ہیں۔
گورنمنٹ کالج میاں چنوں برائے طلباء اور گورنمنٹ کالج میاں چنوں برائے طالبات یہاں کے مشہور اور مقبول تعلیمی ادارے ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب کالج، اسپائر کالج، سپیریئر کالج اور ایپکس بھی وقت کی رفتار کے ساتھ اس خطے میں قائم ہوئے اور خوب ترقی پائی کہ میاں چنوں کے لوگوں میں حصول تعلیم کا شوق نہایت نمایاں ہے جس کا ثبوت ان تعلیمی اداروں کا قیام اور مسلسل ترقی ہے۔
اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے نمایاں ہونے والے پنجاب کے دسویں وزیر اعلیٰ غلام حیدر وائیں کا تعلق بھی میاں چنوں سے ہے۔ اپنے طرز گفتار، مٹکتی بڑی بڑی آنکھوں جو سرمے کی لکیر سے مزید نمایاں پو جاتی ہیں، اور نت نئی متنازعہ خبروں کا حصہ بننے والے، ایم ٹی جے کے نام سے کاروبار کرنے والے مولانا طارق جمیل کا تعلق بھی اسی سر زمین کے ساتھ ہے لیکن آج کی تاریخ اور اگست 2024 میں ارشد ندیم نے میاں چنوں شہر کو عزت اور وقار کی بلندیوں پر پہنچایا ہے۔ یہ وہ زمین کا سپوت ہے جس نے اپنی زمین سے بہت کم وصولا جبکہ بہت زیادہ لوٹا دیا ہے۔ محض آٹھ ماہ پہلے اپنی جولین خریدنے کے لیے پریشان ارشد ندیم نے اپنی ہمت اور محنت سے ثابت کیا ہے کہ کامیابی کا تعلق نئی نئی مشینوں، بے بہا دولت، مصنوعی ذہانت اور ایسی دیگر بے شمار چیزوں کے ساتھ نہیں، نہ ہی کامیاب ہونے کے لیے لاہور ایسے سہولتوں اور آسائشوں سے بھرے شہروں کی ضرورت ہوتی ہے اپنے ملک اور قوم کا نام دنیا بھر میں روشن کرنے کے لیے اسلام آباد جیسے روح پرور موسم کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ ہی کامیابی و کامرانی کے لیے بڑے بڑے جغادری گروؤں کی چھتر چھایا درکار ہوتی ہے بلکہ یہ مسلسل محنت، جانفشانی اور خدا پر بھروسا کرنے سے حاصل ہونے والا معجزہ ہے جسے ارشد ندیم جیسا بھولا بھالا سائنس اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے نابلد نوجوان آن کی آن میں برپا کرتا ہے اور یوں اس کی زمین، اس کے لوگ، اس کی سادگی دنیا بھر میں ایک مثال بن جاتی ہے۔


