احساس، عزم اور دوستی


Faysal Pakistani

میں نے کہیں پڑھا تھا کہ زندگی میں رشتے ملا کرتے ہیں۔ مگر ایک انسانی رشتہ ایسا ہے جس میں زندگی ملا کرتی ہے اور وہ رشتہ دوستی کا ہے۔ زندگی گزارنے کے لیے صرف ایک ایسا دوست کافی ہوتا ہے جسے صحیح معنوں میں دوست کہا جائے۔
دوست وہ ہوتا ہے جس پر آپ بلا جھجک اعتماد کر سکتے ہوں۔ اگر دوست کے ساتھ مالی معاملات یا ذاتی نوعیت کا مشورہ کرتے ہوئے آپ کے دل میں ذرا بھی شک ہو، تو وہ آپ کا حقیقی دوست نہیں ہے۔ جس کے دو حقیقی دوست ہوں، اسے خود کو خوش قسمت ترین سمجھنا چاہیے۔ میرے ایک ایسے ہی دوست نے کچھ واقعات شیئر کیے، جو میں آپ کو اسی کی زبانی سنا رہا ہوں۔ یہ دوست مخلص، حساس، اور درد دل رکھنے والا ہے اور دوسروں کی مدد کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔ آئیے اس کی کہانی اسی کی زبانی سنتے ہیں۔

2010 میں پاکستان میں شدید بارشوں کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں سیلاب آئے اور بہت سے لوگ متاثر ہوئے۔ حکومت اکیلی اتنی بڑی آفت سے نہیں نمٹ سکتی تھی، اس لیے بڑی تعداد میں این جی اوز اور درد دل رکھنے والے لوگ مدد کے لیے آگے آئے۔ میں نے بھی سوچا کہ مجھے کچھ کرنا چاہیے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے بات کی اور طے ہوا کہ ہم سب اپنی ایک دن کی تنخواہ سیلاب متاثرین کو دیں گے۔ اگلے دن سب نے اپنی کنٹریبیوشن دے دی۔

میں نے اپنے چند دوستوں اور جاننے والوں سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں بھی اس کار خیر میں حصہ ڈالنے کی دعوت دی۔ سب پیسے دینے پر تیار تھے، لیکن پوچھ رہے تھے کہ یہ پیسے ضرورت مندوں تک کیسے پہنچیں گے؟ تو میں نے کہا کہ میں خود ان پیسوں سے ضرورت کی چیزیں لے کر ان تک پہنچاؤں گا۔ میری یقین دہانی سے وہ مطمئن ہو گئے اور پیسے بھیجنے لگے۔ میں مزید پرجوش ہو گیا اور بیرون ملک مقیم اپنے سینئر کولیگ کو ٹیلی فون کیا اور مدد کی درخواست کی۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پہلے ہی ایک بڑی رقم ایک چیریٹی کو دی ہے، لیکن مجھے پچاس ہزار روپے بھیجنے کا وعدہ کیا۔ میں بہت خوش ہوا اور انہیں بتایا کہ میرا ہدف ایک لاکھ روپے کا تھا، جو حاصل ہو گیا ہے۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور فون بند کر دیا۔ چند منٹ بعد ان کی دوبارہ کال آئی اور پوچھا کہ میں نے کتنے پیسوں کا کہا تھا؟ میرے ذہن میں اندیشے سر اٹھانے لگے کہ شاید وہ پیسے کم کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے ڈرتے ڈرتے بتایا کہ آپ نے پچاس ہزار روپے کا کہا تھا۔ لیکن میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے کہا کہ وہ ڈیڑھ لاکھ روپے بھیج رہے ہیں۔ مزید کہا کہ پاکستان میں اپنے جاننے والوں سے بات کرو اور میں یہاں برطانیہ میں مسلم کمیونٹی سے مدد کی اپیل کرتا ہوں۔

دو تین دن میں ہی ہمارے پاس چند لاکھ روپے جمع ہو گئے، جن سے ہم نے کھانے پینے کی اشیاء خریدیں، ان کے فیملی پیک بنائے، اور ایک ٹرک میں لوڈ کر کے مظفر گڑھ پہنچ گئے۔ مظفر گڑھ جانے کی دو وجوہات تھیں : ایک تو وہاں نقصان بہت زیادہ ہوا تھا، دوسرا وہ ہم سے قریب ترین سیلاب سے متاثرہ علاقہ تھا۔ جب ہم مظفر گڑھ شہر سے باہر نکلے تو سڑک کے دونوں اطراف پانی ہی پانی تھا اور کئی موٹر سائیکل سوار ہمارے ٹرک کے پیچھے چلنے لگے اور ہمیں روکنے کے لیے آوازیں دینے لگے۔ ہم رک گئے اور ان سے روکنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ ہم سیلاب متاثرین ہیں اور آپ جو امداد لے کر آئے ہیں وہ ہمیں دے دیں۔ مگر ہمارا دل مطمئن نہیں تھا کیونکہ ہم تو متاثرین کو ان کے گھروں میں یہ چیزیں پہنچانا چاہتے تھے، تو ہم نے کہا کہ آپ ہمیں اپنے گھروں تک لے جائیں، ہم وہاں جا کر دیکھیں گے اور اگر آپ واقعی سیلاب سے متاثر ہوئے تو ہم آپ کو یہ سامان دے دیں گے۔ ہمارا یہ جواب سن کر وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگے، اب ہمارا شک یقین میں بدل گیا۔ اور ہم نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا، اور انہیں کہا کہ وہ ہمارا پیچھا کرنے کی بجائے اپنے گھروں کو جائیں۔

ہم نے آگے بڑھنا شروع کر دیا، وہ بدستور ہمارے پیچھے پیچھے چلتے رہے اور ان کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا رہا۔ چند منٹ کے سفر کے بعد ہمیں رکنا پڑا کیونکہ آگے سڑک پر ایک ٹریکٹر ٹرالی آڑی ترچھی اس طرح کھڑی کی گئی تھی کہ ساری سڑک روک لی گئی تھی اور اطراف میں پانی ہی پانی تھا اور واپس مڑنے کا راستہ بھی نہیں تھا۔ ان موٹر سائیکل سواروں میں سے چند ہمارے پاس آئے اور ہمیں بتایا کہ راستہ ہم نے روکا ہے، ہم آپ کو تب تک نہیں جانے دیں گے جب تک آپ ہمیں راشن اور وہ چیزیں نہیں دیں گے جو آپ لے کر آئے ہیں۔

ہم کچھ خوفزدہ ہوئے کیونکہ ہم پانچ چھ تھے اور وہ پچیس تیس۔ اور یہ علاقہ بھی ان کا تھا، لیکن ہم نے اپنے اندر کا خوف ان پر ظاہر نہیں ہونے دیا۔ اور ان سے کہا کہ وہ دو تین سرکردہ افراد کو منتخب کریں جن سے ہم بات چیت کر سکیں اور جو بھی فیصلہ ہو سب لوگ اس فیصلے کو ماننے کے پابند ہوں گے۔ اس طرح ان سے مذاکرات کا آغاز ہوا۔ آخرکار طے یہ ہوا کہ وہ سب لائنوں میں بیٹھ جائیں، ہم ان کے شناختی کارڈ دیکھیں گے، جو اس متاثرہ علاقے کے رہائشی ہوں گے جہاں ہم کھڑے تھے ان کو ہم راشن کے بیگز دے دیں گے اور جن کا تعلق اس علاقے سے نہیں ہے ان کو راشن نہیں ملے گا۔ چند ہی منٹوں میں وہاں بہت سے مقامی افراد بھی جمع ہو گئے جن میں سے اکثریت متاثرین کی تھی۔

ہم نے ان سیلاب متاثرین کو شناخت کیا جو سڑک کے آس پاس اپنے گھروں میں رہ رہے تھے یا اونچی جگہوں پر پناہ لیے ہوئے تھے اور ان کو راشن کے بیگز دیے۔ ہمیں بعد میں پتہ چلا کے زیادہ تر موٹر سائیکل سواروں کا تعلق سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے نہیں تھا، بلکہ دو لوگ مل کر کرائے پر موٹر سائیکل لیتے اور سیلابی علاقوں کی طرف نکل پڑتے، امداد لے کر آئے ہوئے لوگوں سے سیلاب متاثرین بن کر راشن اور امداد وصول کرتے، کچھ ضرورت کی چیزیں گھر میں رکھتے، باقی مارکیٹ میں بیچ دیتے، اس طرح وہ روزانہ اچھی دیہاڑی لگا لیتے تھے۔ ہم نے انہیں فریڈم فائٹرز کا نام دیا۔

اس کے بعد مقامی لوگوں نے راستہ کھول دیا اور ہم واپس روانہ ہو گئے۔ دو تین جگہوں پر رک کر ہم نے متاثرین میں راشن تقسیم کیا، لیکن ابھی بھی ہمارے پاس نصف کے قریب سامان باقی تھا۔ ہم مظفر گڑھ شہر کی طرف سفر کر رہے تھے کہ ہم نے فوج کا ایک ٹرک جس میں فوجی جوان سوار تھے اور ان کے آگے ایک فوجی جیپ کو چلتے ہوئے دیکھا۔ ہم نے گاڑی کی رفتار بڑھائی اور جیپ کے قریب پہنچ کر انہیں رکنے کا اشارہ کیا، وہ رک گئے، ہم گاڑی سے باہر آئے، جب ہم جیپ کے قریب پہنچے تو جیپ میں سوار فوجی افسر باہر نکلا اور ہمارے ایک ٹیم ممبر سے بغل گیر ہو گیا۔ پتہ چلا کہ وہ اور ہمارے ٹیم ممبر ایک ہی محلے کے رہنے والے ہیں اور سکول فیلو بھی ہیں۔ ہم نے انہیں اپنی روداد سنائی، انہوں نے بتایا کہ وہ مظفر گڑھ میں ہونے والی امدادی کارروائیوں کو کمانڈ کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہمیں کنٹرول سنٹر پہنچنے کا کہا۔

کچھ ہی دیر میں ہم شہر کے کالج میں قائم پاک آرمی کے کنٹرول سنٹر پہنچ گئے۔ انہوں نے ہمیں چائے پلائی اور دو تجاویز دیں کہ یا تو ہم بقیہ راشن ان کے حوالے کر دیں اور واپس چلے جائیں، وہ اس راشن کو تقسیم کر دیں گے یا ہم خود ان کی مدد سے متاثرین تک جائیں اور ان میں یہ راشن تقسیم کر کے آئیں۔ ہم نے دوسری تجویز کو پسند کیا۔ راشن فوجی ٹرک میں لوڈ کیا اور وہ ہمیں لے کر خان گڑھ کی طرف روانہ ہوئے۔

مشہور سیاستدان نواب زادہ نصراللہ خان، خان گڑھ کے رہنے والے تھے، یہ مظفرگڑھ تحصیل کا ایک قصبہ ہے، اس کے ارد گرد بہت سارے دیہات ہیں، وہاں ہمارا استقبال پاک فوج کے ایک متحرک نوجوان کپتان نے کیا، ہر طرف پانی ہی پانی تھا، پاک فوج کے جوان کشتیوں کی مدد سے سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے تھے، سیلابی پانی میں پینے کے پانی کی بوتلیں، خوراک اور دیگر ضروریات کی اشیاء کشتیوں کے ذریعے متاثرین تک پہنچائی جا رہی تھیں۔ فوجی افسر نے ہم سے کہا کہ ہم ٹرک سے سامان اتارنا شروع کریں اور اس دوران وہ اپنی کشتی تیار کر لیتے ہیں۔ کچھ ہی دیر میں فوج کے جوانوں نے ہمارے ساتھ مل کر سامان اتارا اور کشتی میں رکھنا شروع کر دیا۔ پھر کشتی کے ذریعے متاثرین کو راشن پہنچانا شروع کر دیا۔ تین گھنٹے مسلسل محنت کے بعد ہم نے متاثرین میں سارا سامان تقسیم کر دیا۔

چند گھنٹوں کے اس سفر نے ہمیں بہت کچھ سکھایا اور ہمیں کئی حقیقتوں سے روشناس کرایا۔ ہم نے دیکھا کہ انسان کی فطرت کبھی نہیں بدلتی، چاہے سیلاب ہو یا زلزلہ، موقع پرست ہمیشہ فائدہ اٹھانے کی تاک میں رہتے ہیں۔ دوسری جانب، لوگ اپنے مال و اسباب کی حفاظت کے لیے اپنی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں، اس امید پر کہ یہ مصیبت جلد ہی ختم ہو جائے گی۔

اس سفر کے بعد ہم نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے متعدد دورے کیے۔ شروع میں ہم راشن تقسیم کرتے رہے، پھر کپڑے، جوتے، گندم کے بیج اور دیگر ضروری اشیاء پہنچانے لگے۔ عید الفطر کے دوران، ہمارے بچوں نے نہ صرف اپنے کھلونے دیے بلکہ اپنے دوستوں اور کزنز کو بھی ترغیب دی کہ وہ بھی اپنے کھلونے عطیہ کریں۔ اس طرح، ہم سیلاب متاثرین کے بچوں کے لیے کھلونے، بسکٹ اور جوس لے کر پہنچے۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر ، ہم نے وہاں جا کر قربانیوں کا اہتمام کیا۔

پھر موسم بدلنے لگا، گرمی کی شدت کم ہونے لگی اور پانی بھی اترنے لگا۔ دیہات کی راتیں ٹھنڈی ہو گئیں، اور سیلاب کی وجہ سے کچھ زیادہ ہی سرد ہو گئیں۔ لوگوں کی اکثریت خیمہ بستیوں میں مقیم تھی، اور انہیں فکر ہونے لگی کہ سردیاں خیموں میں کیسے گزریں گی۔ انہوں نے ہم سے بھی یہ پریشانی شیئر کی کہ جوان تو کسی طرح گزارہ کر لیں گے لیکن بچوں اور بزرگوں کا کیا بنے گا۔

واپسی کے سفر میں، ہم نے اس اہم مسئلے پر گفتگو شروع کی۔ لاہور سے آئے ہمارے ایک موٹیویشنل سپیکر دوست نے کہا کہ سب لوگ تجاویز دیں کہ ہم گھر بنانے کے لیے پیسے کیسے اکٹھے کر سکتے ہیں۔ کل اکیس تجاویز لکھی جائیں اور پھر ان میں سے جو سب سے بہترین اور قابل عمل ہو، اس کو چن لیا جائے۔ ایسا ہی کیا گیا اور جو تجویز منتخب ہوئی، وہ یہ تھی کہ عید کے بعد ہم ایک فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام کریں گے، جس میں تمام اہل ثروت کو دعوت دیں گے، انہیں اب تک کی کارکردگی کے بارے میں بتائیں گے اور گھروں کی تعمیر کے لیے عطیات کی درخواست کریں گے۔ ہمارا خیال تھا کہ اس طرح ہم دو سے تین ملین روپے اکٹھے کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، جس سے ایک کمرے اور واش روم پر مشتمل پچیس سے تیس یونٹس کی تعمیر ممکن ہو سکے گی۔ اس کے بعد سب نے عید کے بعد ملنے کا وعدہ کیا اور چلے گئے۔

عید کی چھٹیوں کے بعد ، میں نے اپنے ایک ٹیم ممبر کو فون کیا اور انہیں اپنے واپس آنے اور طے شدہ پروگرام کے مطابق فنڈ ریزنگ ڈنر کے لیے کام شروع کرنے کے بارے میں بتایا۔ لیکن ان کی بات سن کر میں حیران رہ گیا جب انہوں نے بتایا کہ ایک شخص نے چالیس گھروں کے پیسے دینے کا وعدہ کر لیا ہے۔ ہم نے ابھی تک کام کا آغاز نہیں کیا تھا صرف سوچا تھا، اور جتنا سوچا تھا، اس سے زیادہ کا بندوبست ہو بھی گیا تھا۔ اس سے مجھے دو باتیں سمجھ آئیں : پہلی، جب بھی اللہ رب العزت کے لیے کوئی کام شروع کرنے لگیں تو ہدف بڑا رکھیں، دوسری، اگر آپ کی نیت سچی ہو تو راستے خود بخود بنتے چلے جائیں گے اور آپ جاگتی آنکھوں سے معجزے برپا ہوتے دیکھیں گے۔

جب ہم نے گھروں کی تعمیر کا آغاز کیا تو اس وقت وہاں تعمیراتی خام مال سیلاب کی وجہ سے بہت مہنگا تھا کیونکہ اینٹوں کے بھٹے بند تھے۔ ہم نے اینٹیں، چھتوں کے لیے ٹائلیں، گارڈرز اور ٹی آر بورے والا سے ٹرک کے ذریعے بھیجے، ڈی جی سیمنٹ کی فیکٹری سے سیمنٹ خریدا اور انہیں قائل کیا کہ وہ ہمیں بلا اضافی فیس کے سیمنٹ کی ڈیلیوری ہماری کنسٹرکشن سائٹ پر دیں۔ دروازے اور کھڑکیاں لینے کے لیے جب لوکل مارکیٹ پہنچے تو ان کی کوالٹی بہت ہلکی پائی۔ ہمارا استدلال یہ تھا کہ ہم ایسے دروازے اور کھڑکیاں کیوں لگائیں جو ہم اپنے گھروں میں لگانا پسند نہ کریں۔ جب ہم نے اچھی کوالٹی کا پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ کہروڑ پکا جائیں۔

اگلے دن ہم کہروڑ پکا پہنچے۔ کئی ایکڑز پر مشتمل سعید گیٹ ورکس بلا شبہ آدھے پاکستان کے دکانداروں کو بنے بنائے دروازے بیچ رہے تھے۔ انہوں نے ہمیں اپنی فیکٹری کا دورہ کروایا اور مال دکھایا۔ ہمارے پسند کیے گئے دروازوں اور کھڑکیوں کی قیمت کا تعین کیا اور کہا کہ پیسے ایڈوانس لیں گے، مال بنا کر لوڈ کر کے جہاں کہیں گے، بھیج دیں گے۔ اگر مال طے شدہ معیار کے مطابق نہ ہوا تو واپس کر دیں، ہم آپ کو آپ کے پیسے واپس کر دیں گے۔ لیکن اس کی نوبت نہیں آئی بلکہ ہمارے تمام گھروں میں ان کے بنائے گئے دروازے اور کھڑکیاں ہی لگائے گئے۔

ہماری تین ممبروں پر مشتمل کمیٹی متاثرین کا فرداً فرداً وزٹ کرتی، ان کے نقصان کا جائزہ لیتی اور اگر ان کا گھر مکمل تباہ ہو چکا ہوتا یا ناقابل رہائش ہوتا تو ایک شادی شدہ فیملی کے لیے ایک کمرہ اور واش روم بنا کر دیا جاتا۔ کیونکہ ان میں سے زیادہ تر اکثریت مزدور پیشہ تھی، اس لیے اپنا گھر بنانے کے لیے مزدوری وہ خود کرتے تھے، باقی تمام سامان بمعہ مستری ہم مہیا کرتے۔ ہم خود بھی ہر دس سے پندرہ دن بعد وہاں جاتے، تعمیر کی کوالٹی کو دیکھتے، پرکھتے اور جہاں ضرورت پڑتی بہتری کے لیے اقدامات کرتے۔ تعمیر کا تجربہ رکھنے والا ہمارا ایک نمائندہ وہاں ہمہ وقت موجود رہتا، ہونے والے کام کی نگرانی کرتا اور استعمال ہونے والے سامان کا حساب رکھتا۔

ڈیڑھ سال تک تعمیری کام چلتا رہا اور ہم نے چار سو تئیس گھر بنائے۔ ایک دن بھی پیسوں کی وجہ سے کام نہیں رکا اور وہ فنڈ ریزنگ ڈنر تو منعقد ہو ہی نہیں سکا۔ ہم نے سب سے کم قیمت میں بہترین میٹیریل کا استعمال کرتے ہوئے تعمیر مکمل کی کیونکہ ہماری کور ٹیم بلا معاوضہ (والنٹئیرز) پر مشتمل تھی، جس میں ڈاکٹر، بزنس مین، اور تعمیراتی کام کے ماہر افراد شامل تھے۔

یہ کہانی ہمارے دوست کی زندگی کے اس پہلو کو ظاہر کرتی ہے جس میں انہوں نے انسانیت کی خدمت کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ اللہ ہمیں بھی ایسی نیکیاں کرنے کی توفیق دے۔

یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں

Facebook Comments HS

فیصل پاکستانی

فیصل پاکستانی بزنس مینجمنٹ کی تعلیم اور ڈیڑھ دہائی پر محیط انتظامی تجربہ رکھتے ہیں۔ ایک معروف ادارے میں کلیدی ذمہ داریاں سنبھالنے کے ساتھ ساتھ ایک سرگرم سوشل ایکٹوسٹ بھی ہیں۔ ’ہم سب‘ جیسے معتبر فورمز پر کرنٹ افیئرز، کھیل، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، آن لائن فراڈ اور سماجی موضوعات پر مستقل لکھتے ہیں۔

faysal-pakistani has 26 posts and counting.See all posts by faysal-pakistani

One thought on “احساس، عزم اور دوستی

  • 11/08/2024 at 9:09 شام
    Permalink

    ما شا اللہ
    بہت ہی موٹیویشنل اور سچائی پر مبنی ہے آ پ کی یہ تحریر
    اور واقعی آ پ نے سچ لکھا جب نیت صاف ہو تو راستے اللّٰہ خود بنادیتا ہے

Comments are closed.