بنگلہ دیش سے کچھ سیکھ لینا چاہیے


ویسے تو ہمیں 5 دہائیاں قبل بنگلہ دیش کے قیام کے وقت ہی کچھ سیکھ لینا چاہیے تھا مگر ہمارے ہاں اسٹیبلشمنٹ، بورژوا سیاست دان اور نام نہاد دانشور عوام کے حقِ حکمرانی سے اس حد تک خوفزدہ ہیں کہ آج تک سرکاری بیانیہ 1971کے بنیادی حقائق سے انکاری ہے۔ اسکول کے بچوں کو 2024 میں بھی پڑھایا جاتا ہے کہ سب کچھ ہندوستان کی سازش تھی۔ بنگالی عوام جو اس وقت کے پاکستان میں آبادی کی اکثریت تھے، ان کا کردار تو سرے سے غائب کر دیا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مشرقی پاکستان کے 6 کروڑ لوگوں کو پتہ ہی نہیں چلا کہ جنگ چھڑ گئی اور الگ ملک بن گیا۔

چنانچہ یہ اتنی حیرت کی بات نہیں ہے کہ 5 اگست کو بنگلہ دیش میں طلبا تحریک کی تاریخی فتح اور شیخ حسینہ کے ملک سے فرار ہونے پر پاکستان میں عجیب و غریب تبصرے سنے اور پڑھے گئے۔ حسینہ کے والد اور بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب کے مجسمے کو جب مظاہرین نے توڑ ڈالا تو پاکستانی قوم پرستوں نے اس کو مجیب کا پاکستان سے غداری کا نرالا انتقام قرار دیا۔ نوجوان نسل اور محنت کش عوام کی جمہوری امنگوں کو جانچنے کی بجائے ہمارے تجزیہ نگار اس بات پر خوشی منا رہے ہیں کہ حسینہ کے بعد ہندوستان کی بنگلہ دیش کی سیاست پر گرفت کمزور ہوگی۔

دراصل ہمیں شروع دن سے ریاستی قوم پرستی نے مفلوج کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ تاریخ میں عوام صرف تماشائی کا کردار ادا کرتے ہیں (کم از کم عوام کی وہ پرتیں جو ”محب الوطن“ ہیں، ایسے بھی ہیں جو دشمن ملک کے ساتھ مل کر غداری کرتے ہیں ) ۔ جو کچھ ہوتا ہے وہ ریاستوں اور مخصوص بڑے آدمیوں کے آپسی کھیل ہی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یقیناً سیاست میں خفیہ طور طریقے اپنائے جاتے ہیں، ریاستوں کے بیچ جو سیاسی کھیل کھیلے جاتے ہیں ان میں عوام کی تحریکات کو استعمال کیا جاتا ہے لیکن عوام بہر حال تاریخ کو بناتے ہیں۔ 1971 میں ہندوستان نے ضرور کردار ادا کیا اور بنگالی قومی تحریک کے اندر کئی حلقوں نے ہندوستان سے مدد بھی لی۔ مگر بنگالی عوام کی شعوری جدوجہد ہی بنگلہ دیش کے بننے کا بڑا سبب تھی۔

بنگلہ دیش کے قیام سے یہی سیکھ لیا جاتا کہ عوام تاریخ میں بڑے فریق ہیں تو آج فوج کے ترجمان سے یہ نہ سننا پڑتا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی چلانے والی نوجوان بلوچ خواتین کسی ”دہشت گرد“ تنظیم کی ”پراکسی“ ہیں۔ اسی طرح کبھی پی ٹی ایم کے نوجوانوں، کبھی گلگت بلتستان اور کشمیر کے پر امن مظاہرین، کبھی اوکاڑہ ملٹری فارمز کے کسان حتیٰ کہ اسٹیبلشمنٹ سے روٹھے پی ٹی آئی کے نوجوان کارکنان بھی بخشے نہیں جاتے۔

یہ بہر حال پرانی باتیں ہیں۔ حالیہ بنگلہ دیش پر نظر ڈالیں۔ ایک ایسا ملک جس کی معیشت کے بارے میں گزشتہ 2 دہائیوں سے دنیا بھر کے ماہرِ اقتصادیات گیت گا رہے ہیں۔ گارمنٹ کی کامیاب ایکسپورٹ صنعت نے اربوں ڈالر کمائے، عورتوں کی بڑی تعداد کو معاشی سرگرمیوں میں شامل کیا، آئی ایم ایف کے قرضوں سے بہت حد تک جان چھڑائی۔ تو پھر کیا ہوا کہ نوجوان نسل اتنے بد زن ہو کر تحریک چلانے پر مجبور ہوئی؟ خطہ کے دیگر ممالک کا بھی یہاں ذکر کرتے ہیں۔ ہندوستان میں حالیہ الیکشن نے ظاہر کیا کہ وہاں بھی نوجوان محنت کش طبقہ مطمئن نہیں، کہ معاشی ترقی کے باوجود طبقاتی تفریق تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ سری لنکا یاد ہے؟ وہاں تقریباً 2 برس قبل اسی طرح کے مناظر دیکھے گئے جو کہ آج ڈھاکہ میں دیکھے جا رہے ہیں : نوجوان سڑکوں پر ، اشرافیہ کی عیاشیوں کے خلاف نفرت سے بھرے ہوئے، حکمرانوں کے محلات پر حملہ آور۔

پاکستان سمیت جنوبی ایشیا ء کے تمام ممالک کی آبادی کی اکثریت جوان ہے۔ 2 ارب انسان یہاں بستے ہیں جن میں سے تقریباً 1.3 ارب کی عمریں 23 سال سے کم ہیں۔ سرمایہ دارانہ عالم گیریت کے نتیجہ میں شہروں میں بہت پلازے اور روڈ بنے ہیں، گاڑیاں سڑکوں پر نظر آتی ہیں اور ہر طرف امپورٹڈ مال بک رہا ہے مگر وسائل کی تقسیم وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ غیر منصفانہ ہوتی گئی ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ نوجوانوں کی خواہشات بڑھ رہی ہیں۔ ان کے پاس سمارٹ فون ہیں، ہر وہ چیز ان کی پہنچ میں لگتی ہے جو کہ ڈیجیٹل دنیا ان کو دکھاتی ہے۔ مگر عملی طور پر ان کے پاس نہ زمین ہے کہ وہ با عزت روزگار زراعت سے حاصل کریں، نہ صنعت میں مستقل ملازمتیں اور تنخواہیں کافی ہیں اور نہ ہی اتنا سرمایہ کہ وہ چھوٹا موٹا کاروبار کر سکیں۔ شیخ حسینہ نے جب بنگلہ دیش کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو یہ کہا کہ سول سروس کی پہلے سے محدود نوکریوں کا بڑا حصہ عوامی لیگ سے منسلک لوگوں کے لیے مختص ہوں گی تو نوجوان پھٹ پڑے۔ اور ان کو مزید آگ اس وقت لگی جب حسینہ نے احتجاج منظم کرنے والوں کو ”رضا کار“ کا لقب دے کر ان پر بنگلہ دیش سے غداری کا الزام لگایا۔

یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں ”رضا کار“ ان کو کہا جاتا ہے جنہوں نے 1971 کی جنگ میں عوامی لیگ کی مخالفت کی، جن میں مذہبی حلقے اور خاص طور پر جماعت اسلامی پیش پیش تھے۔ یہ تقسیم اور تضاد آج تک بنگلہ دیش کی سیاست میں مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ حسینہ کا خیال تھا کہ اسی تضاد کو بنیاد بنا کر وہ اپنے آپ کو ہر طرح کے عوامی دباؤ سے محفوظ رکھ سکتی تھیں، کہ ان کو صرف بنگلہ دیش کی ناہموار معاشی ترقی کا نعرہ لگا کر اور ”رضاکاروں“ کی غداری کا حوالہ دینا ہو گا۔ مسلسل 15 برس سے حکومت ان کے گرفت میں رہی، اسی دور میں جبری گمشدگیاں اور مجموعی طور پر ریاستی جبر تمام حدیں پار کر گیا۔ باقی جنوبی ایشیاء کے ممالک کی طرح بنگلہ دیش میں بھی صرف نام کی جمہوریت رہی۔ اور جب وقت آیا تو نوجوانوں نے نام نہاد جمہوریت کے خلاف بغاوت کی۔ نظریاتی دعوے اس حد تک عوام قبول کرتے ہیں کہ جب تک ان دعووں کی پیٹ کی آواز سے کوئی مطابقت ہو۔

حسینہ اور عوامی لیگ کے نکالنے سے بنگلہ دیش میں دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہنے لگیں گی۔ سیاسی و معاشی ڈھانچے ایک آمر کے جانے سے تبدیل نہیں ہوتے۔ بلکہ عوامی لیگ کی پسپائی کے نتیجہ میں ایک طرف جرنیل اور دوسری طرف دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں مضبوط ہوئی ہیں۔ یہ وہی گھسے پٹے عناصر ہیں جو کہ سرمایہ دارانہ ”ترقی“ ، ریاستی قوم پرستی اور تنگ نظری کے ڈھونگ بجاتے رہے ہیں۔ تاہم ایک نئی سیاسی قوت بھی سامنے آئی ہے جس نے تا حال جماعت کی شکل تو اختیار نہیں کی، طلبا کی قیادت میں ابھرنے والی عوامی تحریک بنگلہ دیش کے مستقل کی ضامن ہے۔ ان کو نہ فوج، نہ دائیں بازو کی جماعتوں اور صاف ظاہر ہے کہ عوامی لیگ سے کوئی امید نہیں۔ شعوری یا لاشعوری طور پر یہ نوجوان محنت کش جنوبی ایشیا ء میں رائج مخصوص طرزِ سرمایہ داری اور اس کے ساتھ آمرانہ ریاستی اداروں سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ وہ مزدور بھی ہیں، کسان بھی ہیں، پڑھے لکھے سفید پوش بھی ہیں۔ یہی عوام ہیں اور اپنا حقِ حکمرانی مانگ رہے ہیں۔ کیا وہ ارد گرد کی ریاستوں حتیٰ کہ مغربی سامراج یا نئی سپر پاور چین کے ہاتھوں میں استعمال ہوں گے ؟ ممکن ہے، کیونکہ سیاست میں کچھ بھی ممکن ہے۔ مگر نوجوان محنت کش اکثریت خود بھی طاقت ہے اور بنگلہ دیش کے بارے میں اس وقت کوئی بھی ایمان دارانہ تجزیہ اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا۔

پاکستانیوں نے بنگلہ دیش سے ماضی میں کچھ نہیں سیکھا تو آج سیکھ لینا چاہیے۔ ہمارے ہاں بھی نوجوان محنت کش اکثریت کو حقیقی سیاسی فریق کے طور پر قبول کرنا ہو گا۔ یہ دھچکا کسی حد تک اسٹیبلشمنٹ، نون لیگ، پیپلز پارٹی اور دیگر پرانے سیاسی کھلاڑیوں کو 8 فروری کو لگ چکا ہے کہ نوجوان نہ صرف آزادانہ سوچ رکھتے ہیں بلکہ طاقت سے ٹکر بھی لے سکتے ہیں۔ مگر پی ٹی آئی کے سپورٹرز نے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔ بلوچ اور پشتون نوجوانوں کو دیکھ لیں، مہرنگ اور منظور جیسے نوجوان جو محکوم اقوام کی آواز ہیں، اسی طرح جیسا کہ 6 دہائیاں قبل بنگالی محکومیت کے خلاف آواز بلند کرتے تھے۔ پاکستان کے باقی خطوں میں بھی ایسے نوجوان ہیں جو عوام کی معاشی، سیاسی و ثقافتی امنگوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اگر ان نوجوانوں کو غدار کہ کر غائب یا کسی اور طریقہ سے جبر کا نشانہ بنانے والی پالیسی قائم رہی تو اسٹیبلشمنٹ جتنا بھی زور لگائے، اور جتنے بھی پالتو سیاست دانوں پر مشتمل جعلی حکومتیں بنوائے معاملہ سنبھلے گا نہیں۔ جہاں تک عوام دوست ترقی پسند سیاسی حلقوں کا سوال ہے، ان کے لیے چیلنج ہے کہ بلوچ، پشتون، سندھی، گلگت بلتستانی، کشمیری، سرائیکی، مہاجر سب کو پنجاب کے محنت کش عوام کے ساتھ برابری کی بنیاد پر جوڑا جائے تاکہ بڑی اسٹیبلشمنٹ مخالف قوت بنے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر عاصم سجاد اختر

ڈاکٹر عاصم سجاد اختر قائد اعظم یونیورسٹی ا سلام آباد میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ بایاں بازو کی سب سے بڑی پارٹی عوامی ورکرز پارٹی کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری اور تین کتابوں کے مصنف ہیں اور ڈان اخبار میں کالم لکھتے ہیں ۔

aasim-sajjad-akhtar has 4 posts and counting.See all posts by aasim-sajjad-akhtar