عورتوں کی تعلیم اور خیبر پختونخوا تعلیمی بورڈ کے نتائج


 

اسلام میں عورتوں کی دنیاوی تعلیم کے بارے میں بنیادی طور پر کہا گیا ہے کہ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے اور یہ عمل ان کے لیے ضروری ہے۔ پیغمبر محمد رسول اللّٰہ ﷺ نے تعلیم کو مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے فرض قرار دیا ہے۔ ایک معروف حدیث میں فرمایا گیا: ”علم کی طلب ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔“ (ابن ماجہ)

اسلامی تعلیمات کے مطابق، خواتین کو دنیاوی اور دینی تعلیم دونوں حاصل کرنی چاہئیں تاکہ وہ اپنے حقوق و فرائض کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور معاشرتی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ ہر عورت کو اس فساد کے دور میں اپنی حفاظت کے لئے اتنی تعلیم حاصل کرنا ضروری ہے کہ وہ دنیا کے مختلف فراڈ اور دھوکے سے اپنی حفاظت کر سکے۔

کل 8 اگست 2024 کو تعلیمی بورڈ کے نتائج کا اعلان کیا گیا۔ خیبر پختونخوا کے تعلیمی بورڈ کے پوزیشن ہولڈرز طلباء و طالبات کے اعزاز میں سی ایم ہاؤس پشاور میں انعامات کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں مختلف سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈا پور تھے تقریب میں صوبائی وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم فیصل خان ترکئی، سیکرٹری اییلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پختونخوا مسعود احمد اور چیئرمین پشاور تعلیمی بورڈ و چیئرمین KPBCC پروفیسر نصراللہ خان، تمام بورڈز کے چیئرمین اور کنٹرولرز سمیت پوزیشن ہولڈرز طلباء و طالبات اور ان کے والدین نے شرکت کی۔

خیبر پختونخوا مالاکنڈ بورڈ آرٹس گروپ میں فرسٹ پوزیشن صداقت نور مارکس 1075 ، سیکنڈ پوزیشن شوکت خان نے 1071 مارکس، تھرڈ پوزیشن محترمہ حنا شہزاد 1068 مارکس نے حاصل کی۔ تقریب کے دوران محترمہ حنا شہزاد اپنے والد کے ساتھ برقعہ پہن کر سٹیج پر آئی اور اپنی شیلڈ حاصل کی تب سے حنا شہزاد کے برقعہ پہننے پر اعتراضات شروع ہوئے۔ اس لڑکی کے برقعہ پر ان پڑھ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ سب ہی تنقید کر رہے ہیں آئیے اس کا دوسرا پہلو بھی دیکھتے ہیں۔

اس برقعہ کی وجہ سے اس کے والدین اور معاشرے والے قصور وار ٹھہرائے جا رہے ہیں جو کہ نا انصافی ہے کیونکہ کسی کو کچھ بھی معلوم نہیں کہ برقعہ لڑکی نے اپنی مرضی سے پہنا ہوا تھا یا کوئی معاشرے کی نظروں سے حفاظت کے لیے یا وہ اسلامی تعلیمات پر پختہ یقین ہونے کی وجہ سے۔

چلے اس لڑکی نے ٹاپ پوزیشن لے کر انعام کے وقت برقعہ پہن لیا تھا اور تعلیم یافتہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ کی بیٹیاں اور بہنیں تو ہوں گی (معذرت کے ساتھ) سکول بھی جاتی ہوں گی ان سے ایک عدد تصویر لے لیں اور فیس بک پر پوسٹ کر دیں کہ میری بیٹی یا میری بہن یا میری بیوی سکول جا رہی ہے اور معاشرے کو روشن کر رہی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ کون کون ایسا کرتے ہیں، بس اس بیچاری کو آڑے ہاتھوں لیا ہوا ہے۔ اس کے والد کو نہ جانتے ہوئے بھی اور واقعہ کی تصدیق کے بغیر فیس بک کو رنگین کیا ہوا ہے۔

کل ہمیں انتظار رہے گا کہ کون کون تصویر فیس بک پر ڈال دیتا ہے۔ اگر آپ کو اپنی بیٹی، بہن یا بیوی عزیز ہے پیاری ہے دنیا سے ان کا چہرہ چھپانے کی کوشش کرتے ہو تو اس لڑکی کے پیچھے بھی پوسٹ نہ کریں اور نہ آپ کا کوئی حق بنتا ہے۔ وہ اس کا بنیادی اور اسلامی حق ہے۔ سب کو یہ تجسس ہے کہ اس ٹاپر لڑکی کے چہرے کو نہ دیکھ پائے، کہ کاش دیکھ پاتے، بس یہی سب افسوس کر رہے ہیں اور کچھ نہیں۔

Facebook Comments HS