ایک برقع پوش بچی: ذہین لیکن فطری شناخت سے محروم
ملک بھر کے تمام تعلیمی بورڈز نے 9 ویں جماعت کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے، پوزیشن ہولڈرز نے اپنے اپنے متعلقہ بورڈ سے تعریفی اسناد حاصل کر لی ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہر اسٹوڈنٹ کو اس دن کا بڑی بے صبری سے انتظار ہوتا ہے اور ٹاپرز میڈیا میں ہائی لائٹ ہوتے ہیں، انٹرویوز کے علاوہ انعام و اکرام کا سلسلہ بھی چل پڑتا ہے۔
ایک تصویر بلکہ نا مکمل تصویر یا منظر نے خاصا پریشان کیا جو ہمارے لیے لمحہ فکریہ بھی ہے اور آ نے والی نسلوں کے لیے ایک بھیانک مثال بھی ہے۔ یہ مناظر غالباً پشاور بورڈ کے ہیں، جس میں ایک برقع پوش بچی ہے، جس نے حالیہ نتائج میں پشاور بورڈ میں ٹاپ کیا ہے اور وہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سے اپنی شیلڈ وصول کر رہی ہے اور کیمرہ مین اس قیمتی لمحے کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے اس طرح کی منظر کشی ہر اسٹوڈنٹ کا خواب ہوا کرتی ہے اور ٹاپر بچے ان لمحات کی تصاویر کو ایک یادگار لمحہ اور موٹیویشن کے طور پر اپنے اسٹڈی روم کی میز پر فریم کی صورت میں سجا لیتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ لمحہ اس بچی کے لیے بھی ایک اعزاز اور مستقبل کے ذخیرے میں ایک انمول یاد کے طور پر محفوظ رہے گا۔
لیکن یہاں ایک مسئلہ ہے، یہ اعزاز اس ذہین و فطین بچی کے لیے ایک ایسا سرمایہ یا لمحہ فخریہ ثابت ہو گا جسے اسے کسی کو بھی دکھاتے وقت تاکید کے ساتھ یہ بھی بتانا ہو گا کہ "اس برقع کے اندر میں بقلم خود موجود ہوں جسے کبھی شیلڈ سے نوازا گیا تھا“۔ سوشل میڈیا پر یہ تصویر وائرل ہے جس میں بغور دیکھا جا سکتا ہے کہ بچی کا سرپرست غالباً والد ہی ہو گا برقع کی وجہ سے ساتھ ساتھ چل رہا ہے تاکہ بحفاظت مطلوبہ جگہ تک پہنچا سکے۔
یہ کیسی کامیابی ہے جسے بیساکھیوں کی ضرورت ہے؟ یہ کیسا قابلِ رحم لمحہ ہے کہ جو ٹاپر ہے وہ کسی وجہ سے اپنی پوری شناخت ظاہر نہیں کر سکتا؟ جب ٹاپرز مہمان خصوصی سے اپنی شیلڈ وصول کرتے ہیں تو دونوں کیمروں کے طرف منہ کر لیتے ہیں تاکہ وہ لمحہ کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہو جائے تاکہ سند رہے۔
اس ٹاپر بچی کا منہ بھی کیمرے کی طرف ہی تھا لیکن ایک مسخ سی شناخت کے ساتھ، اس کی بے بس نگاہیں شٹل کاک برقع کی اوٹ میں سے جھانک رہی تھیں۔
ممکن ہے اس کی نگاہیں قادر مطلق سے سوال پوچھ رہی ہوں کہ اے قادر مطلق تم نے مجھے کہاں پیدا کر دیا ہے کہ جہاں میں شناخت تک سے محروم ہوں؟ ذہین تو ہوں اور میں نے آج ثابت بھی کر دیا ہے لیکن یہ کیسی بے بسی ہے کہ میں سامنے نہیں آ سکتی، اپنے حسین لمحات کو اپنی پوری شناخت کے ساتھ محفوظ نہیں کروا سکتی؟ ہم تیرے کارخانہ قدرت میں کتنی مجبور و بے بس مخلوق ہیں جنہیں زندگی بسر کرنے کے لیے قدم قدم پر سہاروں کی ضرورت درکار رہتی ہے؟
یہ ایک ایسی نامکمل اور مسخ شناخت ہے جسے کسی کو دکھانے کے لیے ساری زندگی وضاحت درکار رہتی ہے۔ یہ کیسی غیرت، ثقافت یا ریت رواج ہیں جو انسانوں سے اوپر ہیں، یہ کیسا مکروہ دائرہ ہے جو معاشرے کے زندہ و جاوید انسانوں سے ان کی فطرتی شناخت کو مسخ کر دینے کی قربانی مانگتا ہے؟
یہ کیسا حیوانی سا معاشرہ ہم نے بنا لیا ہے کہ جس میں ہوسناک نگاہوں سے بچنے اور اپنا حق لینے کے لیے ایک ذہین و فطین بچی کو مسخ شناخت کے ساتھ اسٹیج پر آ نا پڑتا ہے؟
کیا یہ ظلم نہیں ہے کہ منافق و رزیل اور بدبودار معاشرے کی قیمت ہماری بچیاں چکائیں جنہیں یہ کہہ کر کے سخت گرمی کے باوجود لحافوں میں لپیٹ دیا جاتا ہے کہ معاشرہ بہت خراب ہے؟ کیا ایسے معاشرے کی کوئی وقعت ہوگی جس میں جنسی و ذہنی بیماروں سے بچیاں خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگیں؟ کیا بیٹوں کی طرح ہماری بیٹیوں کو بھی ایک مکمل شناخت کے ساتھ نہیں جینا چاہیے اور انہیں پورے قد کے ساتھ اپنے پاؤں پر مضبوطی کے ساتھ کھڑے نہیں ہونا چاہیے؟
کیا احساسات، آ گے بڑھنے کی تمنا، دنیا کو اپنی نگاہوں و نظریے سے دیکھنے کی خواہش اور مکمل شناخت کے ساتھ معاشرے میں مقابلہ کرتے ہوئے اپنا خود کا نام و مقام بنانے کی تمنا ہماری بچیوں کے من میں نہیں مچلتی ہوگی؟ اگر ہم انہیں ایک مکمل انسان سمجھتے ہیں تو انہیں ایک محفوظ فضا فراہم کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔



جناب کی تحریر آنکھوں سے گزری جس سے خاصی بدبو آ رہی تھی ۔ کالم کی جگہ اگر اسے منہ کالا کہا جائے تو بھی کم ہے ۔ اگر وہ بچی اللّٰہﷻ اور رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پردہ کر رہی ہے بیشک وہ جس حال میں بھی ہو دین پے عمل پیرا ہے تو جناب کے ذہن میں کس وجہ سے غلاظت اگلی جا رہی ہے لبرلزم سیکیولر ز م میں اتنے بھی اندھے نہ ہو جائیں کہ دین کے خلاف گندگی اگلنے لگیں ۔