ڈاکٹر احمد حسن دانی کی یاد میں


احمد حسن دانی کے بارے میں ایک معلوماتی تحریر پڑھ رہا تھا تو کچھ عرصہ قبل یونیورسٹی دور کے ایک انتہائی قابل، مہربان، خوش گفتار اور ایک علم پرور بیوروکریٹ دوست سید عبدالستار مظہر یاد آ گئے۔ ان سے کافی عرصہ بعد رابطہ ہوا تو موصوف نے ایک تقریب میں شرکت کی دعوت دی تھی کہ اس بہانے باہمی ملاقات بھی ہو جائے گی۔ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ۔ 8 میں واقع اکیڈمی آف لیٹرز میں منعقد ہونے والی اس تقریب کے اغراض و مقاصد کے بارے مجھے کوئی معلومات نہ تھیں اور میں نے محض اپنے دوست کی محبت میں اس تقریب میں شرکت کی تھی کیونکہ آئی۔ 8 میں رہنے کی وجہ سے مسافت نہ ہونا اور دیرینہ دوست سے ملاقات کی تمنا نے مجھے تقریب میں شرکت کے لئے آمادہ کر دیا۔ جبکہ وہاں پہنچ کر شاہ صاحب نے بطور منتظم تقریب کے، عنوان اور اغراض و مقاصد کے بارے میں کچھ معلومات دیں، یوں پہلی بار میں تفصیلی طور پر ایمرٹس پروفیسر ڈاکٹر احمد حسن دانی مرحوم کی ذات سے شناسا ہوا۔

یہ ایک پُروقار اور سادہ سی تقریب تھی جس میں پروفیسر صاحب کے کچھ شاگرد، فیملی کے چند افراد اور کچھ دیگر چاہنے والے ان کی سالگرہ منانے کے لئے اکیڈمی آف لیٹرز میں جمع تھے۔ پروفیسر صاحب کے شاگرد اور مقربین محترم آزاد، برادرم عبدالستار مظہر، محترمہ فرحت اور محترمہ فریال صاحبہ نے جب ڈاکٹر احمد حسن دانی کی ذات اور ان کی علمی و تحقیقی خدمات پر روشنی ڈالی تو مجھے اپنے میڈیا اور معاشرے کی بے حسی پر افسوس ہوا کہ جہاں علم و دانش بکھیرنے والوں کی کوئی قدر نہیں جبکہ سارا دن جھوٹ بولنے اور ریٹنگ کے لئے تماشا لگانے والے ٹی وی چینلوں پر چھائے رہتے اور معاشرے میں معتبر ٹھہرتے ہیں۔ ایسے لوگ جن کا نہ کوئی کردار ہے نہ اخلاق، نہ ضمیر ہے اور نہ کوئی شرم و حیا وہ سارا سارا دن میڈیا اور عوام کی توجہ کا مرکز نگاہ رہتے ہیں۔ ایسے بدکردار، وفاداریاں تبدیل کرنے والے، جھوٹے، پرلے درجے کے جاہل اور کرپٹ لوگوں کو جب سارا دن ہمارا میڈیا ہیرو اور رول ماڈل بنا کر پیش کرتا رہے گا تو ظاہر ہے معاشرے میں مثبت اقدار کو کیونکر فروغ ملے گا؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ غیر سنجیدہ لوگوں کی بجائے ہمارا میڈیا لوگوں کے حقیقی مسائل اُجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ علمی، تخلیقی، تحقیقی اور سائنسی خدمات انجام دینے والی شخصیات کے لئے بھی اپنی نشریات کا کچھ حصہ مقرر کرے تاکہ لوگوں کے ذوق کو نئی اور مثبت جہت مل سکے اور ٹک ٹاکروں کی یرغمال نئی نسل اپنے مشاہیر سے روشناس ہو سکے۔

کشمیری نسل سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی شہرت کے حامل پاکستان کے عظیم دانشور، تاریخ دان، آرکیالوجسٹ اور ماہر لسانیات احمد حسن دانی 20 جون 1920 کو بھوپال کے ایک گاؤں باسنہ میں پیدا ہوئے۔ انھیں سنٹرل ایشیاء اور ساؤتھ ایشیاء میں آثار قدیمہ پر اپنی تحقیقی کاوشوں کے سبب اتھارٹی کا درجہ حاصل تھا۔ انھوں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلیمی اداروں میں آرکیالوجی کی تعلیم کو پہلی بار روشناس کرایا۔ اپنے کیریئر میں وہ اہم اکیڈمک عہدوں اور بین الاقوامی فیلو شپ سے منسلک رہے جبکہ آثار قدیمہ کی کھدائی اور تحقیق بھی ان کا جنون رہا۔ 1944 میں بنارس ہندو یونیورسٹی سے ایم اے کرنے والے وہ پہلے مسلم طالبعلم تھے جنھوں نے پہلی پوزیشن کی وجہ سے گولڈ میڈل بھی حاصل کیا اگرچہ اپنے نام کے مخفف اے ایچ دانی کے سبب انھیں بنارس یونیورسٹی کے ہندو طلباء و اساتذہ عام طور پر ’آنند ہریش دانی‘ ہی سمجھتے رہے۔ گولڈ میڈل حاصل کرنے کے سبب وہ بنارس ہندو یونیورسٹی میں ہی استاد مقرر ہو گئے لیکن بعد ازاں مسلمان ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی میں انھیں تدریسی خدمات انجام دینے سے روک دیا گیا جس کے بعد وہ آثار قدیمہ کے ایک نامور انگریز ماہر مارٹیمر ویلر کے ساتھ بطور انٹرنی منسلک ہو گئے جن کے ساتھ مل کر انھوں نے ٹیکسلا اور موہنجو ڈارو کی کھدائی میں حصہ لیا۔ اس کے بعد برٹش انڈیا کے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے تحت انھیں تاج محل آگرہ میں تعینات کر دیا گیا جہاں کئی صدیوں سے تاج محل کی بنیادوں میں اکٹھا ہونے والے پانی کا انھوں نے کھوج لگایا اور اس ثقافتی ورثے کو تباہ ہونے سے بچایا۔ پروفیسر احمد حسن دانی نے یونیورسٹی کالج لندن کے انسٹیٹیوٹ آف آرکیالوجی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

ہندوستان کی تقسیم کے بعد دانی ہجرت کر کے مشرقی پاکستان چلے گئے اور حکومت پاکستان کے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ ہو گئے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے زیادہ تر عجائب گھروں کی بنیاد اور تکمیل احمد حسن دانی کے ہاتھوں ہی انجام پائی۔ طویل عرصہ تک ڈھاکہ یونیورسٹی اور راجشاہی یونیورسٹی میں پروفیسر رہنے اور مشرقی پاکستان میں کئی دیگر اعلیٰ عہدوں پر تعینات رہنے کے بعد 1962 میں وہ پشاور یونیورسٹی کا حصہ بن گئے۔ اسلام آباد میں جب قائد اعظم یونیورسٹی کا آغاز ہوا تو انھیں یہاں سوشل سائنسز کا ڈین مقرر کر دیا گیا۔ 1980 میں ریٹائرمنٹ تک انھوں نے مختلف عہدوں پر رہتے ہوئے شاندار خدمات انجام دیں۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں ایمرٹس پروفیسر کا خطاب ملا۔ ایمرٹس کا خطاب دنیا میں چند ہی لوگوں کے حصے میں آتا ہے جنھوں نے اپنے شعبے میں بے پایاں اور فقید المثال خدمات انجام دی ہوتی ہیں۔ انھوں نے پاکستان اور جرمنی کی ایک مشترکہ ٹیم کے ساتھ مل کر شمالی علاقہ جات کے متعلق بھی تحقیقی کاموں میں حصہ لیا۔ 1993 میں تاجکستان یونیورسٹی نے انھیں پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری سے نوازا جبکہ اسی سال ان کی زیر نگرانی اسلام آباد میوزیم کی تعمیر مکمل ہوئی۔ 1992 سے 1996 تک وہ وزارت ثقافت حکومت پاکستان کے ایڈوائزر رہے جبکہ اسی دوران انھوں نے نیشنل فنڈ برائے ثقافتی ورثہ کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ 1997 سے لے کر 2009 میں اپنی وفات تک وہ ٹیکسلا انسٹیٹیوٹ آف ایشین سویلائزیشن کے ڈائرکٹر بھی رہے۔ دانی یونیورسٹی آف لندن، آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی، یونیورسٹی آف پینسلوانیا، یونیورسٹی آف وسکونسن، جرمن آرکیالوجیکل انسٹیٹیوٹ اور رائل ایشاٹک سوسائٹی جیسے اداروں سے بھی منسلک رہے۔ انھیں شمالی علاقہ جات اور انڈس سویلائزیشن میں موجود تمام آثار قدیمہ پر عبور حاصل تھا۔ گندھارا، پشاور، سوات اور دیر کے آثار قدیمہ پر بھی انھوں نے بے پناہ کام کیا۔ اپنی وسیع تحقیق کی بنیاد پر ہی وہ انڈس ویلی پر ساؤتھ انڈین کلچر کے اثرات کی نفی کرتے ہوئے اس خطے کے کلچر کی ایک الگ پہچان کے قائل تھے۔ پروفیسر دانی نے دلائل سے ثابت کیا کہ قدیم تہذیب کا اصل محور عراق اور مصر نہیں بلکہ وسطی اور جنوبی ایشیاء ہیں۔

اپنی بے پناہ علمی، تحقیقی، لسانی اور تخلیقی خدمات کی بدولت انھیں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بے شمار ایوارڈز سے نوازا گیا جن میں ستارہ امتیاز، اعزاز کمال، ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے بہترین پروفیسر کا ایوارڈ، فرانس کے صدر کی طرف سے لیجن ڈی آنر، یونیسکو کی طرف سے ارسٹوٹل سلور میڈل، جرمن حکومت کی طرف سے آرڈر آف میرٹ، اطالوی حکومت کی طرف سے نائٹ کمانڈر، فرانسیسی حکومت کی طرف سے پامز اکیڈمکس اور ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگلہ دیش کی طرف سے گولڈ میڈل ایوارڈ اور خطابات شامل ہیں۔ احمد حسن دانی ایک عظیم ماہر لسانیات بھی تھے اور انھیں تیس مختلف مقامی اور بین الاقوامی زبانوں پر عبور حاصل تھا جن میں بنگالی، فرنچ، سنسکرت، کشمیری، مراٹھی، تامل، ترکی اور پشتو بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر دانی نے مختلف زبانوں میں کم و بیش تیس تحقیقی کتابیں اور لاتعداد مقالے تحریر کئے۔ ان کی بیشتر کتابیں سنگ میل پبلشر نے شائع کی ہیں جن میں سے دو کتابیں ہسٹری آف پاکستان اور انڈس سویلائزیشن سب سے اہم ہیں جبکہ انھوں نے جے پی موہن اور وی ایم میسن جیسے محققین کے ساتھ مل کر بھی کئی کتابیں لکھیں۔ پروفیسر دانی حقیقی معنوں میں قوم و ملت کا عظیم سرمایہ تھے۔ بیرونی دنیا میں ان کا بہت بڑا نام ہے۔ ایک بہتر، ترقی یافتہ اور روشن پاکستان کے لئے ہمیں پروفیسر ڈاکٹر دانی جیسے دانائیاں بکھیرنے والے لوگوں کو نئی نسل کے سامنے بطور ہیرو پیش کرنے، ایسے لوگوں کو اون کرنے، پروموٹ کرنے اور ان کی قدر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستانی معاشرے اور لوگوں کی سوچ کو پروگریسو بنایا جا سکے۔

Facebook Comments HS