مقامی منگول سے ملاقات


naseer ahmad

ارے یہ دیکھیں، اس گھامڑ کو، بھیڑوں پر موٹر بائیک چڑھا دی۔
ہم نے کہا
سب ہماری اور آپ کی طرح خاندانی نہیں ہوتے، مرزا جی۔ یہ کوئی موچی ہے۔
وہ کہنے لگے
ارے آپ کو کیسے پتا چلا؟
ہم نے پوچھا

کوئی خاندانی آدمی ہوتا تو ہم پر موٹر سائکل چڑھاتا ناں۔ ہماری کھال کھنچوانے کی سوچتا، لیکن یہ اسے کھال کی طرف لپکا جس کے جوتے بنتے ہیں۔

انھوں نے جواب دیا

اور ہم جان گئے کہ انھیں اقوام متحدہ کے حقوق کے آس پاس لے جانا نا ممکن ہی ہو گا۔ نقش فریاد کرتا رہے گا لیکن شوخی تقریر اس کے دام میں نہیں آئے گی۔ ہم نے فیصلہ کر لیا کہ یہاں اصلاح تو ہو نہیں سکتی، اس لیے مزے ہی لیتے ہیں۔

اور ہمارے بارے میں آپ کو کیسے پتا چلا؟
ہم نے پوچھا

ارے، یہ کوئی مشکل کام ہے، ان چندھی ہوئی پاکیزہ آنکھوں میں سجی ہوئی رعونت بتا رہی ہے کہ اگر خان بابا کے لشکر کے سنگ ہوتے تو دو تین سو لوگوں کا خاتمہ تو ایک دو لحظوں میں ہو جاتا۔ میں نے بڑی تحقیق کی ہے اس موضوع پر۔ اور جو شدھ منگول نہیں ہوتے، ان کو تو میں لمحوں میں فاش کر دیتا ہوں۔ آپ کو پتا ہے ہم لوگ کہاں سے آئے ہیں؟

انھوں نے جواب دے کر ہم سے پوچھا
بھیڑیے سے جناب۔
ہم نے کہا
یہ تو ہم لوگوں کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔
وہ کہنے لگے
اچھا، اب میرے پاس آپ جیسا علم کہاں؟ آپ بتا دیں۔
ہم نے عاجزی سے پوچھا

سب سے بڑا جو خان تھا، اس کے دو بیٹے تھے۔ خان بابا انھیں ایک شامان کے پاس لے گئے۔ اور ان کی قسمت کا حال پوچھا۔ بس ان کا پوچھنا ہی تھا کہ خدا نے ایک کی قسمت میں چاندنی لکھ دی اور ایک کی قسمت میں اندھیرا۔ آپ کو پتا ہے کہ وہ دو عظیم بیٹے کون تھے؟

وہ پھر امتحان لینے لگے
نہیں جناب مجھے کیا خبر، یہ روایت تو میں نے کہیں نہیں پڑھی۔
ہم نے اپنی لا علمی کا اعتراف کیا

ارے علم تو سینہ بہ سینہ آ رہا ہے، جسے کتابیں بگاڑتی رہتی ہیں۔ آپ کو ضرور اس بات کا علم ہونا چاہیے تھا۔

وہ اصرار کرتے ہوئے بولے
ارے جناب، غلطی ہو گئی، آپ بتا دیں۔
ہم نے غلطی مانتے ہوئے کہا
جسے اندھیرا ملا تھا، وہ وزیر اعظم بنا تھا اور اس کا نام تیمور خان لنگڑئی تھا۔
انھوں نے ہماری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا
یعنی اپنے برلاس قبیلے کے امیر تیمور۔
ہم نے کہا

ہاں، تیمور خان لنگڑئی۔ جو غصے بھری ایک نگاہ بھی اٹھاتے تو پورا شہر اجڑ جاتا۔ اور دوسرا ہلاکو خان۔ اور مجھے صرف ان کا ہی نہیں بلکہ سادات کا بھی علم ہے۔ اپنے علاقے میں بس ایک دو ہی شدھ سید ہیں۔ باقی بس کھیل تماشا ہی ہے۔ اور میں آپ کو ایک راز کی بات بتاتا ہے۔ صحت سادات جاننی ہو تو، ایک سوال کریں؟

وہ پھر امتحان لینے لگے
کیسا سوال؟
ہم نے کہا
یہ پوچھتے ہیں کیا آپ کو پتا ہے کہ مولا علی کے دو خاص آدمی کون تھے؟ کیا آپ جانتے ہیں؟
انھوں نے پوچھا
ایک کا تو مجھے پتا ہے کہ قنبر تھا۔
ہم نے ادھورا سا جواب دیا
ارے بڑی بات ہے، کچھ تو آپ کو پتا ہے۔ اور یہی قنبر کہتے ہیں، منگول تھا۔
انھوں نے ہماری معلومات بڑھاتے ہوئے کہا
منگول اور غلام؟ یہ تو آپ کی ساری تھیوری ہی غلط ہو جاتی ہے۔
ہم نے ایک بنیادی اعتراض داغ دیا

اچھا، اونہہہہہہہہہہ، آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ قنبر کوئی ایرانی ہو گا۔ کیوں کہ دوسرے خاص آدمی سلمان فارسی تھے اور وہ ایرانی تھے۔ آپ کو پتا ہے کہ ہم میں نہ صرف بڑے بڑے بادشاہ بلکہ اولیا بھی گزرے ہیں؟

وہ ہمیں حیران کرتے ہوئے بولے
اور وہ کون تھے؟
ہم سادگی سے پوچھنے لگے

شاہ کاکی۔ یہ اپنا پاک پٹن والا پیر نہیں فرید، یہ رابعہ بصری کی چڑیاں مارتا تھا۔ رابعہ بصری نے شاہ کاکی سے شکایت کی۔ انھوں نے بس ایک ہنکارا سے بھرا اور اس کے بعد رابعہ بصری کی چڑیاں نہیں مار سکا۔ اور جب فرید گیند بلا کھیلتا تو شاہ کاکی نے ایسا دائرہ کھینچ دیا تھا کہ وہ گیند نہیں اٹھا سکتا تھا۔ اس کے بعد اس نے شاہ کاکی سے معافیاں مانگیں تو اسے دعائیں ملیں اور وہ بہت بڑا پیر بن گیا۔

انھوں نے کہا
ہاں جناب، لیکن وہ زمانے تو گزر گئے۔ آپ کون پوچھتا ہے کہ منگول بھی کوئی لوگ تھے۔
ہم نے ان کا جوش تفاخر پنکچر کرنے کی کوشش کی۔

وہ زمانے واپس آئیں گے۔ یہ لڑکے سے شادیوں میں ایک ہاتھ سے کلاشنکوف تھامے فائرنگ کیا کرتے ہیں۔ مجھے بڑا غصہ آتا ہے اور میرا دل چاہتا ہے کہ سب کلاشنکوفوں کا گٹھا سا بناؤں اور ایک ہی ہلے میں داغ دوں، نہ نوشہ رہے نہ باراتی۔

وہ غصے میں آ کر بولے

ارے اکیلے ایسا کچھ نہیں کرنا۔ بس انتظار کریں، آسمان آبی جب چاہے گا تو کوئی چنگیز خان بھیج دے گا، آپ کہاں جیلیں کاٹتے پھریں گے۔

ہم نے کچھ سمجھانے کی کوشش کی
ارے ایسوں کے لیے خان بابا کی کیا ضرورت ہے۔ یہ بد نسلے تو کرونا میں ہی مر جائیں گے۔

Facebook Comments HS