پاکستان۔ خطرے کی گھنٹی

بنگلہ دیش میں اس وقت جو حالات چل رہے ہیں پوری دنیا میں اس کا چرچا ہو رہا ہے کہ کیسے طالبات نے تحریک کے ذریعے حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ کتنے ہی لوگوں نے اپنی جانیں گنوائی مگر یہ تحریک زور پکڑتی گئی، جس نے حسینہ واجد کو اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور انھوں نے فرار ہونے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔
بنگلہ دیش کے حالیہ واقعات میں ہمارے لیے کیا سبق پوشیدہ ہے؟
اس تحریک کی سب سے اہم بات، بنگلا دیش میں یہ ساری تحریک طلبا نے چلائی ہے، یعنی نوجوانوں نے، اور اگر موازنہ کیا جائے تو پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب بنگلا دیش سے بھی بڑا ہے۔ پاکستان کے حالات پر نظر ڈالیں تو یہاں پر حالات بنگلہ دیش جیسے ہی ہیں، حسینہ واجد 2009 ء سے اقتدار میں تھی، پاکستان میں بھی کئی سالوں سے دو خاندانوں کی ہی حکومت رہی ہے، حسینہ واجد اقتدار سنبھالنے کے پہلے دن سے وہ ان لوگوں کو چن چن کر عبرت کا نشان بناتی رہی جنہوں نے بقول اس کے بنگلہ دیش کی ”جنگ آزادی“ کے دوران پاکستان کو یکجا رکھنے کی کوشش کی تھی یا بنگلہ دیش کے آزاد ملک بن جانے کے بعد اس کے باپ کو قتل کیا اور بعد ازاں شیخ مجیب کی بنائی عوامی لیگ کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا۔ امریکہ اور یورپ کی حکومتوں، غیر سرکاری تنظیموں اور میڈیا کو یہ سب مگر دکھائی نہ دیا۔ پاکستان میں بھی اقتدار میں بیٹھے لوگ اپنے اپنے مفاد کی خاطر لوگوں کو استعمال کرتے ہیں اور وقت آنے پر انہی لوگوں کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال باہر کرتے ہیں۔
ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ حسینہ واجد نے تقریباً 19 سال حکومت کی ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں، وزیر اعظم حسینہ واجد نے بنگلادیش کو ایک نئی پہچان دی۔ بنگلادیش میں 2005 تک صرف 50 ہزار کلومیٹر کارپٹ روڈ تھا جو آج 90 ہزار کلومیٹر تک پہنچ چکا ہے، بنگلادیش میں 5 انٹرنیشنل ائرپورٹ تھے اب 10 انٹرنیشنل ائرپورٹ بن چکے ہیں۔ 2005 تک بنگلادیش میں بجلی 50 فیصد تھی جو 90 فیصد کر دی گئی، ملک میں غربت 40 فیصد تھی وہ کم ہو کر 25 فیصد تک آ گئی، ملک کی جی ڈی پی پوری خطی میں بنگلادیش کی آگے ہے۔ بنگلادیش کے لوگ انڈیا سے بھی زیادہ امیر ہو گئے ہیں۔ ملک میں آبادی کی گروتھ کم ہو گئی ہے۔ جو کسی وقت میں پورے خطی میں زیادہ تھی بنگلادیش کے فارن ایسٹس 26815 ملین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جو تاریخ کی بلند سطح ہے۔
اتنی ترقی کے بعد بھی بنگلادیش کے لوگ حسینہ واجد سے خوش کیوں نہیں تھے جو ایک بڑا سوال اور اس کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہنے کو تو بنگلادیش میں ایک جمہوری حکومت تھی مگر حقیقت میں وہ سویلین ڈکٹیٹر کا دور تھا جس میں اپوزیشن پارٹی کا رول ختم کر دیا گیا تھا، ملک میں پورے الیکشن کے نظام کو عوامی لیگ کی ونگ بنا دیا گیا تھا اور ملک میں ون پارٹی رول بنا دیا گیا تھا اس لیے حسینہ واجد کے مینڈیٹ پر بڑے سوال تھے۔
اس کے بعد فوج کو بھی اقتدار میں حصہ دیا گیا تھا جو جمہوری حکومت میں بڑے سوال پیدا کر دیتا ہے اور جو ملک کی اہم پوزیشن تھی وہاں اپنے لوگوں کو لگانا اور میرٹ کا قتل بھی اہم سبب تھے۔ پاکستان میں بھی ہر ادارے میں بیٹھے بڑے بڑے افسران میرٹ کا قتل کرتے ہیں اور کرپشن کے نت نئے ریکارڈ بھی قائم کرتے ہیں۔ پاکستان کے اب جو حالات ہیں لوگ مہنگائی کی وجہ سے خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں، مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، یہاں ایک وقت کی روٹی کھانے کے پیسے نہیں ہیں اور ہزاروں اور لاکھوں کے بلوں نے لوگوں کے پیروں تلے زمین کھینچ لی ہے۔
کوئی اپنی بیماری کے پیسوں سے بل ادا کر رہا ہے تو کوئی اپنی ماں بیوی کے زیور بیچ کر ان بلوں کو جمع کروا کر جان چھڑوا رہا ہے مگر کب تک لوگ اپنے گھر والوں کا حق مار کر ہزاروں لاکھوں کو بل ادا کرتے رہیں گے۔ ضروری اشیاء پر ٹیکس روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ ایسے میں اگر لوگوں کی ہمت جواب دے گئی تو پاکستان کی عوام کے ہاتھ ہوں گے اور حکمرانوں کے گریبان، یا حسینہ واجد کی طرح ہمارے حکمران بھی ملک سے فرار ہو جائیں گے۔
بنگلادیش کے حالات سے یہ بات سمجھ آتی ہے لوگوں کو ترقی کے ساتھ اپنے حقوق اور فریڈم آف ایکسپریشن بھی چاہیے اگر آپ ترقی کے نام سے لوگوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالیں گے تو لوگ اس کو کبھی بھی قبول نہیں کریں گے۔
اگر اگلی نسل کے خواب بھی چھین لیے جائیں تو ریاست بے تعبیر ہونے لگتی ہے، یعنی بہ قول شاعر ”گل ہوا ہے چراغِ مے خانہ۔ اب بڑی دور تک اندھیرا ہے۔“

