ریفریشر کورس: چار دنوں کے بعد واپسی


صبح ساڑھے نو بجے شیخ ایوب نے کالج کے سامنے ڈراپ کیا۔ کالج ٹائم آٹھ بجے تھا۔ بھاگم بھاگ پیریڈ میں پہنچے تو نذیر صاحب لیکچر دینے میں مصروف تھے ہم حسب عادت بغیر کاپی پنسل کے بیٹھے سر ہلا رہے تھے۔ پانچ سات منٹ کے بعد جب ہم نے اپنی توجہ مبذول کی تو معلوم ہوا کہ موصوف کچھ گڑ بڑ کر رہے ہیں۔ وہ تفاعل کے متعلق بتاتے ہوئے ڈومین سیٹ اور رینج سیٹ کی تعریفیں لکھوا رہے تھے۔ جس کے مطابق ڈومین سیٹ تفاعل میں موجود مرتب جوڑوں کے پہلے اعداد پر مشتمل ہوتا ہے۔ جبکہ ہمیں اصرار تھا کہ تفاعل کی جگہ Binary relation آنا چاہیے۔ جب ہم نے اعتراض کیا تو کچھ سوچ میں پڑ گئے اور پھر کلاس سے رائے مانگی تقریباً تمام کلاس کی رائے ہمارے خلاف تھی۔ فرمانے لگے اب بولو۔ ہم نے جواب دیا یہ حقائق ہیں۔ ان کو ووٹوں کی بنیاد پر نہیں جانچا جاسکتا کافی دیر لے دے ہوتی رہی۔ آخر کار ہم چاک پکڑ کر بلیک بورڈ پر ان کی جگہ آئے اور انہیں اور کلاس کو مثالوں سے سمجھایا کہ فنکشن کی جگہ binary relation کیوں کر آتا ہے اور انہیں یہ بات ماننا پڑی۔ پہلا پیریڈ ختم ہوا ہم نے حاضری لگاتے ہوئے اپنی حاضری چیک کی اس کے مطابق 21 اپریل سے اب تک ہم باقاعدگی سے پیریڈ پڑھ رہے تھے۔ لیکن حقیقت حال سے ہم واقف تھے۔ ہو سکتا ہے کہ اہلیانِ کالج کو بھی خبر ہو لیکن لگتا تھا کہ یہ لوگ واقعی وقت کو دھکا لگا نے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بیالوجی کے پروفیسر آج تشریف نہیں لائے تھے۔ کیوں کہ ان کے کالج کے ایک پروفیسر کو قتل کر دیا گیا تھا۔

پیریڈ کے اختتام پر مبارک صاحب سے تھوڑی سی نوک جھونک ہوئی۔ انہیں ان کے سکول کے متعلق من گھڑت اور خوفناک خبروں سے آگاہ کیا گیا جن میں سر فہرست یہ خبر تھی کہ آپ کی کلاس پر رزاق صاحب نے قبضہ کر لیا ہے اور اب رزاق صاحب اور آپ کے شاگردوں کی خواہش ہے کہ یہ کام باقی عرصہ بھی اسی طرح چلتا رہے۔ مبارک صاحب اس بات پر اصرار کر رہے تھے کہ میں ان کے ساتھ جا کر ان کے بھائی کا نتیجہ پتہ کرنے میں ان کی مدد کروں اور میں سوچ رہا تھا کہ یہ حضرت جو ظاہری طور پر بڑے مومن اور پابند دین نظر آتے ہیں اپنے لیے کی جانے والی بے ایمانی اور بد دیانتی کو جائز تصور کرتے ہیں۔ وہ اس سے پہلے مجھے اس بات کی نصیحت کر رہے تھے کہ تم کالج سے غائب رہ کر یہاں پر فرضی حاضریاں لگواتے ہو جو مذہباً اور اخلاقاً جرم ہے۔

کالج کے قریب ہی ایک ٹک شاپ تھی جو باہر سے بڑی گرینڈ قسم کی چیز نظر آ رہی تھی۔ اس کو چیک کرنے کے لیے اندر جا گھسے بیٹھنے کے لیے گھاس کے پلاٹ پر بہترین کرسیاں لگائی گئی تھیں اور محسوس ہوتا تھا کہ سٹینڈرڈ ٹھیک ٹھاک ہی ہے۔ لیکن چائے کے برتنوں نے سارا بھانڈا پھوڑ دیا۔ مستقل میل خوردہ برتن ہمارے سامنے پڑے ہوئے ہماری کم علمی کا مذاق اڑا رہے تھے۔ چائے پینے کے بعد سیر کو نکل گئے۔ رات نو بجے واپسی ہوئی۔ ہم ہوسٹل کی چھت پر جا بیٹھے اور بارہ بجے تک گپیں لگاتے رہے۔ سونے کا پروگرام بنا تو ایک تجویز آئی کہ چارپائیاں اٹھا کر چھت پر سویا جائے چنانچہ چارپائیاں چھت پر بچھا کر سونے کی ناکام کوشش میں مصروف ہو گئے اور ساتھ ہی مچھروں نے اپنا کام دکھانا شروع کیا۔

Facebook Comments HS