حماس کو مسئلہ فلسطین سے علیحدہ رکھنے کی ضرورت ہے


31 جولائی کو ایران کے دارالحکومت تہران میں ایک مہلک حملے میں سابق فلسطینی نیشنل اتھارٹی وزیراعظم اور حماس کے سرکردہ لیڈر اسماعیل ہانیہ کے سیاسی قتل نے بھونچال پیدا کر دیا ہے۔ حسب توقع پاکستان میں اس قتل کے متعلق سازشی تھیوریز نے زبردست زور پکڑا ہے۔ ان تھیوریز میں ایک تو وہی روایتی سوچ ہے کہ ایران اور اسرائیل کا اندرون خانہ گٹھ جوڑ ہے جس کے تحت وہ حماس کے ذریعے عرب ممالک کو سرنگوں کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری معروف تھیوری ہے کہ ایران نے خود ہانیہ کا قتل کیا اور اس کے پیچھے ان کے نامعلوم مگر مخصوص مفادات ہیں۔ ایک اور تھیوری عربوں پہ الزام دھرتی ہے کہ وہ اسرائیل سے مل کر حماس کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ایسی ہی بہت سی سازشی تھیوریز ہاتھوں ہاتھ بک رہی ہیں لیکن منطقی اعتبار سے، جیسا کہ ان تھیوریز کا خاصہ ہے، وہ مقاصد غیر واضح ہیں جو اس واقعے کے بعد حاصل ہونے ہیں۔ اگرچہ اس کا نتیجہ وہ دنیا کی تباہ کن جنگ کی صورت میں اخذ کرتے ہیں مگر ماضی گواہ ہے کہ ایسے واقعات کا ردعمل سفارتی طور پر اتنا پرجوش نہیں ہوتا جتنا بتایا جاتا ہے۔

بین الاقوامی تبدیلیوں کے محرکات میں ایک باہمی ربط ہوتا ہے جس کا دائرہ وقت اور مقامات کے اعتبار سے وسیع ہوتا ہے۔ اس ربط کو سمجھنا اور اس سے نتائج اخذ کرنا ہی ایک درست صورت وضع کرتا ہے۔ قریباً انسٹھ سالہ اسماعیل ہانیہ کے قتل کے محرکات کا جائزہ لیتے ہوئے بین الاقوامی ماہرین اور تجزیہ کار اسے اتحادی تبدیلیوں کے پس منظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق 2011 سے قطر میں مقیم حماس کی لیڈرشپ نے ایرانی حمایت میں عرب کی حمایت کا ایک مضبوط سہارا کھو دیا ہے جس کا اسرائیل بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ عرب کی سفارتی و معاشی مدد کے بدلے ایران کی عسکری امداد کے اس سودے نے حماس کو بھی ایران کی طرح تنہا کھڑا کر دیا ہے۔ اس کا بنیادی نقصان تو اس جنگ کی طوالت ہے اور دوسرا بڑا نقصان اسرائیل امریکہ اور عرب ممالک کی سفارتی عدم دلچسپی ہے۔ جس کا اظہار قیدیوں کے باہمی تبادلے کی پیش رفت نہ ہونے سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ دورہ امریکہ میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو کا حماس ایران گٹھ جوڑ پر زبردست کیس پیش کرنے پر دونوں پارٹیز کے صدارتی امیدواران اور کانگریس کا متفق پایا جانا صورتحال کی سنگینی میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ نتن یاہو کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے کہ جب صدارتی الیکشن میں اسرائیلی لابی اور جیوش کانگریس فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اسماعیل ہانیہ کے قتل سے حماس کی بین الاقوامی اور علاقائی تنہائی کے مفروضے پر سوچ بچار کرنے والے ماہرین اس کا پس منظر بھی بتاتے ہیں۔ یوں تو ایران اور سعودی عرب کا اختلاف پرانا ہے مگر موجودہ صورتحال کے محرکات نے اس اختلاف کو ایک نیا رخ دیا ہے۔ یمن میں جاری حوثیوں کی دس سالہ مزاحمتی جنگ اور شام میں بشار الاسد کے خلاف بغاوت کے باوجود اقتدار میں قائم رہنا یقیناً سعودی عرب کی سفارتی و دفاعی ناکامی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ امریکہ کے عراق اور شام سے انخلا نے سعودی عرب کی علاقائی برتری پر کاری ضرب لگائی ہے۔ ایک متفقہ رائے ہے کہ اس میں بلاشبہ ایران کی مداخلت کا کلیدی کردار ہے اور اگر ایران کی مداخلت نہ بھی ہو، طاقت کے توازن کے جھکاؤ کا فائدہ لامحالہ ایران کے فائدے میں ہی ہے۔ اس تبدیلی نے سعودی عرب اور اسرائیل کو غیر ارادی طور پر ایک صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ تاہم سعودی عرب نے اس معاملے پہ جلدبازی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔

خطے میں اپنی برتری مضبوط اور محفوظ کرنے کے لئے سعودی عرب نے تین اہم اقدامات کئیے ہیں۔ اول امریکہ کی علاقائی موجودگی کے مفادات کو یقینی بنانے کے لئے 2018 میں تین سو پچاس ارب ڈالرز کی دفاعی ڈیل کی جس میں سے ایک سو دس ارب ڈالرز پر فوری عمل شامل ہے۔ دوم اسرائیل کو ”ابراہیم معاہدے“ کے تحت متحدہ عرب امارات اور بحرین سے تعلقات کو معمول پر لانے کی پس پردہ کوششیں کیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب کو اسرائیل کی خلیج فارس میں موجودگی پہ اعتراض نہیں ہے۔ سوم مسئلہ فلسطین سے جڑا ہے جس میں پہلی بار کسی عرب ملک کی جانب سے اس کے حل کے لئے مربوط سفارتی کوششوں کا اعادہ کیا گیا اور امریکہ اور اسرائیل سے بڑھتے روابط کو ممکنہ طور پر دو ریاستی حل سے مشروط کرنے کا سخت گیر رویہ اپنایا ہے۔ تاہم حماس سعودی عرب کی مسئلہ فلسطین میں دلچسپی کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور عمومی تاثر یہ بنایا گیا کہ اس مسلے میں غیر معمولی دلچسپی کو خطے میں اپنی برتری اور اسرائیل کے ساتھ ایران کے مدمقابل ممکنہ اتحاد بنانے کا جواز پیدا کرنا مقصد ہے۔ علاوہ ازیں آل سعود کی سیاسی و سفارتی حمایت بھی ہمیشہ الفتح کے ساتھ رہی ہے۔

حماس میں یہ سوچ تب اور مضبوط ہو گئی جب ان کے انٹیلیجنس ونگ کے سربراہ، جن کا کام حماس میں اسرائیل نواز عناصر کی نشاندہی کرنا تھا، یحییٰ سنورا نے اسماعیل ہانیہ کی جگہ لی اور حماس غزہ ونگ کی سربراہی سنبھالی۔ جون 2022 میں حماس نے باقاعدہ طور پر شام سے سفارتی تعلقات بحال کر لیئے اور اس کے بعد حالات تیزی سے بدلتے چلے گئے۔ بالآخر اکتوبر 2023 کو یحییٰ سنورا نے حماس کا پورا وزن ایران اور شام کے پلڑے میں ڈالتے ہوئے اسرائیل پر میزائل داغے۔ ابتدائی طور پر حملے کے مقاصد واضح تھے کہ حماس اپنے قیدیوں کی بدلے کی رہائی چاہتا ہے مگر نیتن یاہو کی لنگڑی لولی حکومت نے اس حملے کو اپنے لئے موقع بنا دیا۔ عرب ممالک کی عدم دلچسپی اور امریکہ کی طرف سے اسرائیلی ملٹری آپریشن کو طول دینے کی حمایت نے غزہ میں شدید انسانی بحران پیدا کر دیا۔ اب ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک طرف انسانی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ جبکہ دوسری طرف حماس بھی بند گلی میں پہنچ گئی جہاں اسرائیل سے جنگ بندی اور دیگر امن مذاکرات کے لئے ثالثی کے لئے کوئی بھی عرب یا مغربی ملک اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہی نہیں۔ اسرائیل بھی جارحیت کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے سرحد پار تک حملے کرنے سے نہیں چوک رہا۔ بادی النظر میں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اسرائیل ہر صورت حماس کا خاتمہ چاہتا ہے اور عرب ممالک نے بھی خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ چنانچہ اب صورتحال یہ بن رہی ہے کہ ایران اسرائیل سے براہ راست جنگ نہیں کر سکتا اور حماس کی لیڈرشپ کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ اور اس پورے تنازعے میں غزہ کے عوام بری طرح تباہ ہو رہے ہیں اور اب تک قریباً تیس ہزار فلسطینی لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اگرچہ امدادی کاموں کے ذریعے غزہ کے مکینوں کی مدد کی جا رہی ہے مگر اسرائیلی حملوں میں تواتر ان سب کوششوں کو صفر کر دیتا ہے۔ حالات کے پیش نظر یہ ذمہ داری پاکستان سمیت ان تمام ممالک پر عائد ہوتی ہے جو غزہ میں امن چاہتے ہیں کہ انہیں اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کو فلاحی امداد سے زیادہ سیاسی مدد کی صورت میں فوری طور پر امن قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیں کیونکہ غزہ کے عوام کو اس وقت کھانے پینے سے زیادہ جنگ بندی کی ضرورت ہے۔ تاہم یہ تبھی ممکن ہے جب یہ طے کر لیا جائے کہ حماس اور فلسطینی بالخصوص غزہ کے شہری دو الگ عناصر ہیں۔ لازمی نہیں کہ حماس غزہ کے شہریوں کی ترجمانی کرتے ہوئے تشدد پسندانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہو اس لئے حماس کا بدلہ غزہ کے عوام سے نہ لیا جائے۔ ایران اور سعودی عرب کو بھی یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ طاقت کے اس کھیل میں سیاسی تبدیلیوں کو پرتشدد بنانے سے گریز کیا جائے اور بجائے آگ کے ان کی معاشی مدد سے کیوں نہ اپنے کیمپ میں لایا جائے۔

Facebook Comments HS