کائنات کا اختتام


سیکنڈ لا آف تھرمو ڈائنامکس فزکس کا ایک دلچسپ مگر خوفناک قانون ہے۔ اس کی کئی تعریفیں ہیں لیکن بنیادی طور پر یہ تین چیزوں کو ڈیل کرتا ہے۔ انرجی، ٹمپریچر، اور انٹروپی۔ انرجی اور ٹمپریچر تو معروف اصطلاحیں ہیں۔ انٹروپی Entropy اتنی زیادہ رائج نہیں ہے۔ انٹروپی دراصل بدنظمی کو کہا جاتا ہے۔ یہ بھی مندرجہ بالا دونوں عوامل کی طرح ایک کائناتی مظہر ہے۔ انٹروپی اور اس کے عمل دخل پر تھرمو ڈائنامکس میں کتابیں بھری پڑی ہیں مگر خلاصہ یہ بنتا ہے کہ انٹروپی فقط ایک ہی سمت میں سفر کرتی ہے۔ یہاں سفر سے مراد انٹروپی کو متحرک دکھانا نہیں ہے بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ انٹروپی کی قیمت ہمیشہ بڑھتی ہی جاتی ہے۔ یہ کبھی بھی کسی بھی صورت کم نہیں ہو سکتی۔ کائنات بننے سے پہلے اور بگ بینگ کے وقت انٹروپی کی مقدار اتنی کم تھی کہ ہم اسے اپنی آسانی کی خاطر بالفرض صفر کہہ لیتے ہیں۔ یعنی نہ ہونے کے برابر۔ اگرچہ انٹروپی کی اصل ویلیو اس وقت کیا تھی ہم ہرگز نہیں جانتے۔ فقط اتنا جانتے ہیں کہ بدنظمی کی مقدار وہ تھی جو کم سے کم احاطہ امکان میں آ سکتی تھی۔ وقت کے اس نقطہ سے لے کر آج اور ابھی تک اور آئندہ جب تک ہماری کائنات (یہاں صرف ہماری کائنات کی بات ہو رہی ہے۔ تمام کی نہیں ) باقی ہے انٹروپی کی مقدار بڑھ رہی ہے۔ سیکنڈ لا آف تھرمو ڈائنامکس کے مطابق ہر کائناتی عمل توانائی سے عبارت ہے۔ توانائی باقی نہ رہے تو یہ نگار خانہ بشمول اپنے تمام طلسم ہوشربا کے یک لخت ایک جھپاکے سے بجھ جائے۔

ہر گزرتے لمحے میں توانائی کارفرما ہے۔ یہ ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل ہو رہی ہے۔ قانون بقائے توانائی کے مطابق توانائی کو نہ تو پیدا کیا جاسکتا ہے نہ ہی فنا کیا جاسکتا ہے فقط ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ تمام کائنات اور اس کے تمام جلوے صرف توانائی کے مختلف اشکال میں تبادلے کے رہین منت ہیں۔ سب کچھ جو کائنات میں ہو رہا ہے وہ توانائی کا مختلف بہروپ بدلنے سے ہے۔ مادہ بذات خود توانائی کی ایک شکل ہے۔ کائناتی سطح سے لے کر کوانٹم مکینکس میں سٹرنگ کی سطح تک یہی کچھ کار فرما ہے۔ ہماری زمین پر جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ بھی اسی وجہ سے رونما ہو رہا ہے۔ کسی بھی قدرتی عمل میں انٹروپی کا بڑھنا ایک اٹل حقیقت ہے۔

سیکنڈ لا آف تھرمو ڈائنامکس کے مطابق ہر عمل کے دوران انٹروپی بڑھ رہی ہے اور کائناتی درجہ حرارت کا فرق کم ہو رہا ہے۔ کائنات میں جو تعاملات، حرکت پذیری، ستارے، سیارے، بلیک ہول، گھومتی بھاگتی کہکشائیں ہیں سب درجہ حرارت کے فرق کے باعث رونما ہے۔ زمین پر زندگی اور جدید مشینیں سب اسی درجہ حرارت کے فرق کے باعث کام کر رہی ہیں۔ ہر لحظہ درجہ حرارت کا یہ فرق کم سے کم ہوتا جا رہا ہے اور کائناتی بدنظمی بڑھ رہی ہے۔ ایک وقت آئے گا جب درجہ حرارت کا یہ تفاوت بالکل ختم ہو جائے گا۔ تمام کائنات کا درجہ حرارت یکساں ہو گا۔ تمام حرکت، تمام کہکشائیں اور تمام تر کائناتی ایکٹیویٹی رک جائے گی۔ کیونکہ اس وقت انٹروپی کی مقدار اپنی بلند ترین سطح کو چھو لے گی۔ اس وقت کوئی راستہ کوئی طریقہ ایسا نہ ہو گا جس سے انرجی ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل ہو سکے۔ دنیا بھر میں موجود تمام مشینیں جب کام کرتی ہیں تو انرجی کی ایک شکل کو دوسری میں تبدیل کرتی ہیں اور اس دوران بہت سی انرجی ضائع بھی ہوتی ہے۔ اس لئے کسی بھی مشین کی پرفارمنس سو فیصد نہیں ہو سکتی۔ دنیا کی تمام تر مشینیں بنیادی طور پر انجن ہیں۔ اور انجن ہی کے اصول پر کام کرتی ہیں۔ مگر جب انٹروپی میکسیمم ہو جائے گی تو کوئی مشین اور کوئی حیات کارگر نہ رہے گی۔ انٹروپی کی یہ بلند ترین مقدار ایک 1 ہے۔

سینکڈ لا آف تھرمو ڈائنامکس کہتا ہے جس دن یہ مقدار اچیو ہو گئی اسی لمحے موجودہ کائنات کا اختتام ہو جائے گا۔

Facebook Comments HS