کیا حمزہ علی عباسی نے خدا کو دریافت کر لیا ہے؟


جاوید احمد غامدی کے ہونہار شاگرد معروف اداکار حمزہ علی عباسی نے خدا دریافت کر لیا ہے اور اس حقیقت کا اظہار انہوں نے اپنی ایک نئی شائع ہونے والی کتاب ”مائی ڈسکوری آف گاڈ، اسلام اینڈ ججمنٹ ڈے“ میں کیا ہے۔ شنید ہے کہ کتاب کی قیمت پاکستانی کرنسی کے حساب سے کم و بیش 4000 کے قریب بنتی ہے اور اس کتاب کو غامدی سنٹر آف اسلامک لرننگ کی بھرپور سرپرستی و تائید بھی حاصل ہے۔ اس موضوع پر نجانے کتنی کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور نجانے کتنے اہل فکر و دانش اپنی مغز خوری کر چکے ہیں لیکن اسے نہیں کھوج پائے۔ بلکہ اب تو اس قسم کے موضوع پر کتاب لکھنا یا بحث مباحثہ کرنا ایک فیشن بن چکا ہے نکلتا اس میں سے کچھ بھی نہیں ہے۔

کتاب کا کور خاصا دیدہ زیب اور مارکیٹنگ کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے، کتاب کو دیکھتے ہی آپ کا ذہن نثار عثمانی اور ریحان اللہ والا ایسوں کی طرف چلا جائے گا جو شوخ و چنچل قسم کے ٹائٹل اور کور والی کتابوں اور لچھے دار گفتگو کے ذریعے سے عوام الناس کو کروڑ پتی بننے کے نسخے بتاتے ہیں اور نیچے کمنٹس میں لوگ کچھ اس انداز میں انہیں آئینہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

بالکل فضول کتاب ہے ہم نے خاصے مہنگے داموں خریدی تھی لیکن رتی بھر بھی فائدہ نہیں ہوا۔ ہم تو کروڑ پتی بننے کے چکروں میں لٹ گئے۔ اس کتاب میں کچھ بھی ایسا نہیں ہے کہ جسے پڑھ کر آپ اپنے مقصد کو پا سکیں۔ ظاہر ہے مارکیٹنگ کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے اور بڑے بڑوں کی عقلوں پر پردہ پڑ جاتا ہے۔ کھربوں پتی بن جانا اور وہ بھی چند ہزار کی کتاب پڑھ کر ، ایں خیال است و محال است و جنوں۔

دنیا میں جتنے مذاہب ہیں اس سے زیادہ خدا ہیں، ہر ایک کا اپنا خدا ہے اور ہر کوئی اپنے اپنے خدا کو سچا و کامل مانتا ہے، اب حمزہ علی عباسی نے مذہب اور خدا کو کیسے جانا یا دریافت کیا ہے وہ تو کتاب پڑھ کر ہی اندازہ ہو سکتا ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ انہوں نے فکر غامدی کے اصول و ضوابط یا فریم آف مائنڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ نتائج اخذ کیے ہوں گے اور جہاں تک فکر غامدی کی بات ہے تو وہ بھی انہی روایتی روایات کے امین ہیں جس پر باقی لوگ چلتے آ رہے ہیں، ہاں انداز تھوڑا مختلف ہے لیکن روایتی ”لین آف لینتھ“ سے باہر بالکل نہیں ہے۔

فکر غامدی بھی عقل اور عقلی رویوں کو ایقان کے تابع کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے اور ان کا یہ ماننا ہے کہ عقل کو شتر بے مہار کی طرح آ زاد نہیں چھوڑا جا سکتا اور عقل کو حقیقی منزل تک پہنچنے کے لیے ایقان کی چھتر چھایا میں ہی ابدی پناہ ڈھونڈھنا پڑے گی ورنہ گمراہ اور بے نام و نشاں ہی رہے گی۔ جدید علم الکلام کے اب تک جتنے بھی ماڈل سامنے آئے ہیں وہ سب بھی روایتی حصار سے اپنا دامن نہیں چھڑا پائے اور انہی ماحصل اور حدود و قیود کے گرد چکر کاٹتے رہے جس کے گرد شروع دن سے کاوشیں جاری ہیں۔

مذاہبِ عالم تو مختلف تاویلات کی صورت میں اپنا اپنا خدا کب کا ثابت کر چکے اور وہ آج تک اپنے دعوؤں پر ایک کامل یقین اور حتمی سچائی کے طور پر قائم ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خدا کوئی ایسی اینٹٹی ہے کہ جس کے وجود کو ثابت کیا جا سکے؟ کیا تصور و تمثیل کو ٹھوس شکل میں لانا ممکن ہے؟ تاویلات کی حد تک یا یقین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے تسلیم تو کیا جا سکتا ہے لیکن جسمانی طور پر دریافت کرنا اب تک تو ممکن نہیں ہو پایا ہے۔ ہاں دعوؤں کی ایک طویل تاریخ ہے جس میں مختلف بزرگوں نے خواب یا روحانی طور پر قادر مطلق کو دیکھنے کے دعوے کیے ہیں لیکن یہ کہاں تک درست ہیں اس کے متعلق تو اہل فکر ہی بہتر جانتے ہیں۔

ہماری نظر میں تو انسان زیادہ قیمتی ہوتے ہیں جو وجود کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہوتے ہیں، ان کو خندہ پیشانی سے ملنا اور ان کے دکھوں کا مداوا کرنا ہی انسانیت کی معراج ہے اور کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ اپنے ہمسائے کا خیال رکھنے کے لیے ہمیں کسی مذہب کی ضرورت نہیں ہے۔ خدا کو کھوجنے کے چکروں میں آج انسانیت کہیں کھو گئی ہے۔ دوستو! ہمارا مسئلہ انسانیت ہے نا کہ خدا کو کھوجنا، خدا کا سرا اہل فکر و نظر کھوجتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS