دم توڑتی ثقافت، گم ہوتی شناخت


کسی بھی قوم کی شناخت اور معنویت اس کی مخصوص ثقافت سے ہوا کرتی ہے۔ اکیسویں صدی جہاں مادیت پرستی کی طرف بڑھتی دنیا کا نام ہے وہاں وہ مخصوص روایات بھی دم توڑتی جا رہی ہیں جو کسی مخصوص قوم کی پہچان ہوا کرتی تھیں۔ بات کو صرف پاکستانی سیاق تک محدود کرتے ہوئے، اس خطہ عرض کی ثقافت کی بات کی جائے تو بچپن سے آج تک کئی ایسی رسومات ہم نے اپنی زندگی میں دیکھیں، جو یا تو مر چکی ہیں یا رمق بھر سانس باقی ہے جو آئندہ چند سالوں میں دم توڑ جائیں گی۔ پاکستانی قوم ان اقوام میں سے ایک ہے جن کے مزاج میں ہر چیز میں دھوم دھڑکا مچائے رکھنا اور اپنی خوشیوں کو بلند آواز آلاتِ موسیقی کے ساتھ منانا شامل ہے۔ اگر اس بات کو زندگی اور موت کے درمیان معلق سچائی کے ذریعے دیکھا جائے تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستانی شادی ہو یا جنازہ، دھوم دھڑکے کے بغیر نہ ہی ڈولی سجتی ہے اور نہ ہی میّت۔ ہمارے بچپن میں جب کسی کے ہاں شادی کا ماحول ہوا کرتا، ایک ایک مہینہ پہلے رقص کی محفلیں شروع ہو جایا کرتی تھیں۔ شادی والے گھر، ہر شام ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے جاتے اور عورتیں گیت گایا کرتیں۔ ان گیتوں میں جہاں خوشیوں کا رنگ ہوتا وہاں چھیڑ چھاڑ اور جنسیت کے چھینٹے بھی شامل ہوتے۔ تب میں سوچا کرتا تھا کہ یہ عورتیں کتنی بد تہذیب ہیں کہ سرے عام عاشق و معشوق کی ملاقات کو گیتوں میں پرو رہی ہیں۔ (یہ اس زمانے کی بات ہے جب میں معاشرتی ثقافتی حرکیات سے ناآشنا اور ان کی معنویت و افادیت سے نابلد تھا) ۔ شادی کی رات مہندی کی رسم ہوتی اور صبح بارات میں جو جھومر ڈالا جاتا اس کا بیان ہی کیا۔

دوسری طرف اگر کسی کے ہاں موت ہو جاتی، ایسے ایسے بین ڈالے جاتے کہ کرخت مزاج و سخت دل لوگوں کی آنکھوں میں بھی آنسو آ جاتے۔ مگر کچھ عرصے سے یہ رسمیں ختم ہونے لگی ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں بیک وقت مذہبیت اور لبرل ازم کا رنگ چوکھا ہوا جاتا ہے۔ پچھلے دنوں گاؤں میں ایک شادی ہوئی، مہندی کی رسم کی جگہ ذکرِ الٰہی کی محفل سجائی گئی، بارات میں ڈھول اور لوک گیتوں کے بجائے نعت شریف۔ یہ دونوں پہلو مذہبی حوالے سے بڑی اہمیت رکھتے ہیں مگر ان کو ثقافتی رسوم کی جگہ دینا غیر مہذب ہونے کی علامت اور اپنی پہچان کھونے کے مترادف ہے۔ چیزوں کے نام بدل دینے سے، اور لوک ثقافتی رسموں کی جگہ مذہبی عناصر حاوی کرنے سے، نہ ہی مذہبیت رہے گی اور نہ ہی اصلیت۔ اگر لاہور کے سنت نگر اور کرشن نگر کو باہم ملا کر اسلام پورہ بنا دیا گیا ہے تو لوگ بدلے ہیں نہ ہی ان کا مزاج۔ ہاں اتنا ضرور ہوا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے سنت نگر اور کرشن نگر میں جنم لیا، وہ اس احساسِ محرومی کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں جو ان کی جنم بھومی کا نام چھین کر ان کی آغوش میں ڈالی گئی۔

ثقافت مرنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ موجود نسل، مذہبیت اور لبرل ازم کے درمیان یوں معلق ہو کر رہ گئی ہے کہ اسے سمجھ ہی نہیں آ رہا کہ اس کی اصلیت مذہبی ہونے میں ہے یا آزادانہ سوچ رکھنے میں۔

زندہ قوموں کی یہ پہچان ہوا کرتی ہے کہ وہ اپنی ثقافتی روایات اور مذہب دونوں کو الگ الگ مقام دیتی ہیں اور ایک کو دوسرے کا نعم البدل نہیں گردانتیں۔ یہاں یہ نکتہ بیان کرنا ضروری ہے کہ اسلام نے جنم ایسے علاقے میں لیا جو صحراؤں کی سر زمین ہے۔ اس خطے کی ثقافت ایسے خطے سے کئی حوالوں سے مختلف ہو گی، جو پانیوں اور جنگلوں سے اٹا ہوا علاقہ ہے۔ ہاں مذہب نے اصول دیے ہیں، ان پر عمل کرنا نہ کرنا، انفرادی سطح پر ہونا چائیے۔ مگر اپنی ثقافت کو اجتماعی سطح پر دیکھنے کی، اور اس کی روایات کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ صحراؤں کی ثقافت کو پانیوں کی سر زمین کی ثقافت کا نعم البدل قرار دینے سے ہم نہ صرف اپنی ہزاروں سالہ ثقافتی جمالیات سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے بلکہ ذات کی بے معنویت کا شکار ہو کر قومی شناخت بھی گم کر بیٹھیں گے۔

Facebook Comments HS

علی حسن اویس

علی حسن اُویس جی سی یونی ورسٹی، لاہور میں اُردو ادب کے طالب علم ہیں۔ ان کا تعلق پنجاب کے ضلع حافظ آباد سے ہے۔ مزاح نگاری، مضمون نویسی اور افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ تحقیقی آرٹیکل بھی لکھتے ہیں۔

ali-hassan-awais has 78 posts and counting.See all posts by ali-hassan-awais