بروغل: آؤ نوحہ کریں


سطح سمندر سے 13600 فٹ بلند وادی بروغل نو دلفریب وادیوں کشمانجہ، سلیم آباد، گرم چشمہ، ویدنگ گوت، چیکار، اشکروارز، چلی مار آباد، گریل اور لشکر گاز پر مشتمل ہے۔ سلسلہ ہائے قراقرم، ہندو راج، ہندوکش اور پامیری پہاڑوں کے درمیان انڈس اور اکسس ریور کے سنگم پر واقع وادی بروغل کے 288 گھرانوں میں 2080 افراد رہائش پذیر ہیں۔ جغرافیائی لحاظ سے بروغل کے مشرق میں چینتئر، شمال مشرق میں قرمبر، شمال میں واخان، جنوب میں درکوت اور مغرب میں یارخون واقع ہے۔

پاکستان کی انتخابی فہرست کا آغاز (NA۔ 1 ) چترال سے ہوتا ہے اسی طرح خیبر پختونخوا اسمبلی کی نشستوں کا آغاز بھی (KP۔ 1 ) بالائی چترال ہی سے ہوتا ہے۔ قومی اسمبلی اور خیبر پختونخواہ اسمبلی کا نقطہ آغاز واخان کوریڈور کے سرہانے واقع وادی بروغل ہے مگر افسوس اس خطہ کے مکینوں کو سوائے شناختی کارڈ کے کچھ نہیں ملا ہے۔ بروغل میں تعلیم، صحت، شمسی بجلی، سڑک، پانی، تفریح اور سماجی بیداری پر جتنا کام ہوا ہے سو فیصد کریڈٹ غیر سرکاری تنظیموں کو جاتا ہے۔

بروغل میں تعلیم حاصل کرنا امتحان سے پہلے امتحان ہے۔ پرائمری تعلیم کے بعد چکار میں واحد مڈل سکول کی سہولت موجود ہے۔ یاد رہے کہ لشکر گاز، گریل اور کشمانجہ جیسے علاقوں سے روزانہ چکار جاکر تعلیم حاصل کرنا میراتھن ریس کے ایتھلیٹ کا کام ہے۔ اس وجہ سے ان وادیوں کے طالب علم کم عمری میں چترال، شمشال، یاسین، اشکومن اور دور دراز علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ کم سن بچے اور بچیاں علمی پیاس بجھانے کے لئے مشکل پہاڑی درے اور گلیشیئرز کے میدان عبور کر کے دوسرے علاقوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ علاقے کی جغرافیائی حیثیت کو سامنے رکھ کر شعبہ تعلیمات پر قانون سازی کی ضرورت ہے۔

بروغل کے مکین صحت جیسی بنیادی سہولت سے بھی محروم ہیں۔ تیس کلومیٹر تک پھیلی بروغل کی نو وادیوں کے لئے چکار میں واحد آغا خان ہیلتھ سنٹر قائم ہے۔ یہاں بھی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ زچگی، امراض گردہ و معدہ اور دیگر معمولی بیماریوں کے علاج کے لئے یہاں کے مکین چترال، پشاور یا راولپنڈی کا رخ کرتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے صحت کارڈ کی سہولت دی گئی ہے۔ مگر بروغل سے چترال جانے اور آنے کے لئے ایک لاکھ سے کم میں گاڑی نہیں ملتی ہے۔ مقتدر حلقوں کو چاہیے کہ بروغل میں ماہر ڈاکٹر کی تعیناتی اور گشتی شفاخانوں کی فراہمی کے لئے سنجیدہ اقدامات کریں۔

بروغل میں زندگی گزارنا کسی امتحان سے کم نہیں ہے۔

یہاں کے مکینوں کا ذریعہ معاش صرف گلہ بانی ہے۔ یہاں میوہ جات، سبزہ جات حتیٰ کہ جنگلی درخت بھی موجود نہیں ہیں۔ انتہائی بلندی پر واقع وادی بروغل میں آٹھ ماہ موسم سرد رہتا ہے۔ دنیا میں بروغل سے بلند اور سرد مقامات پر درخت اور سبزہ جات اگائے جاتے ہیں۔ اس کے لئے یہاں کے مقتدر حلقوں کو سب سے پہلے خود سائنس سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کی طرف سے 10 بلین سونامی جیسے میگا پراجیکٹس چل رہے ہیں۔ مگر بروغل کے مکین اس سکیم سے بھی محروم ہیں۔

چکار میں ایک سیٹلائٹ فون نصب ہے جہاں ٹیلی فون کی سہولت موجود ہے۔ اس کے علاوہ کمیونیکیشن کا نظام سرے سے موجود نہیں ہے۔ اس لئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بینیفشریز کو پیسے نکلوانے کے لئے ژوپو یا مستوج جانا ہوتا ہے۔ بروغل جیسے پسماندہ علاقے کی خواتین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دس ہزار روپے نکلوانے کے لیے لینے کے دینے پڑتے ہیں۔ قانون ساز بھی بادشاہ ہوتے ہیں۔ بند کمروں میں بیٹھ کر بروغل اور ترنول کے لئے ایک قانون بناتے ہیں۔

اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ سیاحتی اعتبار سے بروغل جیسا سحر انگیز خطہ اور کہیں نہیں ملے گا۔ بروغل کی جھیلیں، درے، گلیشیئرز، چوٹیاں، سرسبز و شاداب وادیاں، وسیع و عریض میدان، جنگلی حیات، روایتی تہذیب اور بہت کچھ دیکھنے کے لئے سالانہ ہزاروں سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ بروغل کی کہانی بہت طویل ہے۔ چند سطور میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ پہاڑوں اور گلیشیئرز کے درمیان مقیم بروغلیوں کے لئے 77 سال گزر جانے کے بعد بھی ہم کچھ نہیں کرسکے آؤ نوحہ کریں۔

Facebook Comments HS

3 thoughts on “بروغل: آؤ نوحہ کریں

  • 15/08/2024 at 9:26 صبح
    Permalink

    بروغل میں ڈاک خانے، یا بنک کی صورتحال کیا ہے ؟
    آپ کے مطابق آبادی 2080 افراد ہے 288 گھر ایسے میں کتنی خواتین کو بے نظیر انکم سپورٹ ملتی ہے ؟
    ان 2080 میں سے بھی کتنے افراد بالغ ووٹر ہیں؟
    اگر ہزاروں سیاح آتے ہیں تو ا س سے یقیناً لوگوں کا معیار زندگی بھی اتنا برا تو نہیں رہا ہوگا؟

    پاکستان میں اب بھی ایسے متعدد مقامات موجود ہیں۔ ایک نہیں سینکڑوں۔ صحت تعلیم صاف پانی کھیل بلدیہ یہ سب اب صوبے کی ذمہ داری ہیں۔ پکڑیں ان کو۔

  • 16/08/2024 at 5:34 صبح
    Permalink

    دوست ایک طرف آپ نے لکھا ہے

    سیاحتی اعتبار سے بروغل جیسا سحر انگیز خطہ اور کہیں نہیں ملے گا۔ بروغل کی جھیلیں، درے، گلیشیئرز، چوٹیاں، سرسبز و شاداب وادیاں

    دوسری طرف آپ لکھتے ہیں
    یہاں میوہ جات، سبزہ جات حتیٰ کہ جنگلی درخت بھی موجود نہیں ہیں۔

    کیا یہ تضاد نہیں
    آلو اور مختلف اسی طرح کی خوراک دنیا بھر میں ان علاقوں میں اگائی جاسکتی ہے بس تھوڑی حفاظت چاہئے ہوتی ہے علاقے کے لوگوں کو آگاہ کریں اور خود اگائیں باہر سے کوئی آکر تو یہ کام نہیں کرے گا۔

    • 18/08/2024 at 3:46 شام
      Permalink

      بھائی صاحب۔
      یہ بروغل ہے۔ چکوال یا ساہیوال نہیں ہے۔ یہاں کا اب و ہوا مختلف ہے۔ 13600 فٹ کی بلندی پر پودے اگانا اور کاشت کاری کرنا آسان نہیں ہے۔ اسکے لیے پہلے سائنسی بنیادوں پر کام کرنا ہوتا ہے۔
      آپ اپنی معلومات میں اضافہ کرنے کے لئے گوگل کرسکتے ہیں۔ کہ بلند مقامات پر کیسے اگائے جاتے ہیں۔

Comments are closed.