گورنر ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے سے یونیورسٹیوں کی زمینیں بیچنے تک


2013 میں پہلی بار پی ٹی آئی کو خیبر پختونخوا میں کامیابی ملی اور حکومت قائم کرتے وقت مرکز میں پاکستان مسلم لیگ اقتدار میں تھی۔ اس وقت مرکز اور صوبے خیبر پختونخوا کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ رہے تھے۔ دوسری مرتبہ 2018 میں خیبر پختونخوا کے ساتھ ساتھ مرکز میں بھی پی ٹی آئی نے حکومت بنائی۔

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت پچھلے دس سالوں میں 359 ارب روپے کا قرضہ لے چکی ہے اور مزید قرضہ لینے کے چکر میں تھی کیونکہ تقریباً 600 ارب روپے قرضہ کے معاہدے کیے تھے لیکن مزید وہ قرضہ ملا نہیں۔ 25 جولائی 2018 میں عام انتخابات ہوئے تھے ان انتخابات میں پی ٹی آئی نے بڑی کامیابی حاصل کی اور چیئرمین و بانی پی ٹی آئی عمران خان نیازی کو ملک کا وزیراعظم منتخب کیا گیا۔

سوات سے منتخب ہونے والے ممبر صوبائی اسمبلی محمود خان کو صوبہ خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ نامزد کرنے کا اعلان کیا۔

خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی ڈاکٹر محمود خان صاحب کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں نے گورنر ہاؤس کو یونیورسٹی تبدیل کرنے کا فیصلہ کر دیا۔ کہ ہم اس یونیورسٹی کے ذریعے تعلیمی معیار کو بہتر بنا کر ہائر ایجوکیشن کی سہولت فراہم کریں گے اور جدید یونیورسٹی بنا کر مختلف شعبوں اور مضامین کی تعلیم فراہم کی جائے گی۔ دوسری جانب بانی پی ٹی آئی وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بھی وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا تھا۔

پی ٹی آئی حکومت کی نا اہلی صوبہ خیبر پختونخوا کو قرضوں کے سمندر میں ڈبو چکے ہیں۔ اس نا اہلی کی وجہ سے شعبہ تعلیم پر بھی بہت گہرا اثر پڑ چکا ہے۔
گورنر ہاؤس اور وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے والے اس وقت خیبر پختونخوا کے بیشتر جامعات کے ملازمین کو تنخواہیں دینے کے قابل نہیں۔ یہی مشکلات پی ٹی آئی کی حکومت میں چند سالوں سے جاری ہیں۔

اس وقت خیبرپختوانخوا کی 24 یونیورسٹیز ایسی موجود ہیں جن کے مستقل وائس چانسلر تعینات نہیں کیے جا سکے۔ پی ٹی آئی کی نا اہل قیادت جو گورنر ہاؤس سے یونیورسٹی بنانا اور وزیراعظم ہاؤس سے بھی یونیورسٹی کا سفر جاری رکھتے ہوئے اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب یونیورسٹیز کی زمین بیچنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔

وزارتی کمیٹی کی جانب سے پشاور یونیورسٹی، زرعی یونیورسٹی پشاور، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے ساتھ ساتھ انجینئرنگ یونیورسٹی مردان بے کار اور اضافی قرار دیا گیا۔ صوبائی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ جو تقریباً 5 ہزار سے لے کر 14 ہزار کنال زمین بیکار پڑی ہیں اس لئے انہیں بیچنے کی منظوری دی گئی ہے۔

پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نیازی اور اس کی قیادت نے صوبہ خیبر پختونخوا کو گزشتہ بارہ سال سے ایک تجربہ گاہ بنایا ہوا ہے۔ صوبائی اسمبلی میں ہر روز لڑائی جھگڑے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ 3 اگست 2024 کو شمالی وزیرستان حلقہ PK 104 سے منتخب ممبرصوبائی اسمبلی اقبال وزیر کو اسمبلی میں شراب پی کر لڑائی شروع کرنے کے بعد سپیکر نے اسمبلی ہال سے باہر نکلنے کا حکم دیا اور باہر نکالا گیا۔ پچھلی حکومت میں اقبال وزیر بطور وزیر ریلیف و آباد کاری رہ چکے ہیں۔ جب اس طرح کے لوگوں کو عہدوں سے نوازاتے ہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ ایسے لوگ صوبے کو ترقی دینے کی بجائے زمین کے اندر گاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

دوسری جانب گورنر فیصل کریم کنڈی اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے درمیان بھی 11 مئی 2024 کو لفظی لڑائی ہوئی۔ گورنر نے 9 مئی واقعہ پر بات کی تھی جس پر علی امین گنڈاپور نے گورنر کو وارننگ دی کہ آئینی حدود میں رہیں اور اس طرح کی بیان بازی سے دور رہیں ورنہ بطور وزیراعلیٰ ساری مراعات بند کر دوں گا۔

اب گورنر کو تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہیے نہ کہ سیاسی بیان بازی میں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم یونیورسٹیز کی زمین بیچنے پر مجبور ہیں۔

Facebook Comments HS