2024 کا ڈیجیٹل پاکستان
آج پاکستان کے جشن آزادی کے موقع پر ہم مایوسیوں کی بات نہیں کریں گے بلکہ امید اور روشنیوں کی بات کریں گے جو ہمیں ایک نئی صبح کی امید دلا رہی ہیں کیونکہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہر تاریک رات کے بعد ایک روشن صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ ہمیں وطن عزیز میں اس روشن صبح کے امکانات نمایاں ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں جس سے لگتا ہے بہت جلد ملک سے اندھیروں کا خاتمہ ہونے والا ہے۔
ہماری سب سے بڑی امید ہمارے نوجوان ہیں جو پاکستان کی آبادی کا 64 فیصد ہیں جن کی بدولت آج دنیا میں پاکستان کا سر فخر سے بلند ہو رہا ہے ابھی تازہ مثال ارشد ندیم کی ہے جس نے محدود وسائل کے باوجود ثابت کیا کہ پاکستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف شعبوں میں پاکستان کے باصلاحیت نوجوان معین نوازش علی ہو یا عرفہ کریم، ملالہ یوسف زئی ہو یا شرمین عبید سیکڑوں پاکستانی نوجوان اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔
پاکستان اکنامک رپورٹ کے مطابق پاکستانی یوتھ نے اپنے سٹارٹ اپس کے ذریعے 353 ملین ڈالر کی ریکارڈ فنڈنگ حاصل کی اور معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا۔ اسی طرح ڈیجیٹل فری لانسنگ کے ذریعے پاکستانی معیشت میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا۔ اس وقت پاکستان ڈیجیٹل فری لانسر فراہم کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن چکا ہے اور لاکھوں پاکستانی نوجوان ڈیجیٹل میڈیا کی دنیا میں اپنا نام بنا چکے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں 72 ملین افراد سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر ہر طرح کی معلومات سے مستفید ہو رہے ہیں اور آگاہی کا ایک نیا جہاں آباد ہو چکا ہے جس کا مکمل کنٹرول نوجوان نسل کے پاس ہے۔ اسی طرح اس وقت 190 ملین ایکٹو موبائل فون ہیں جو تقریباً 77 فیصد لوگوں کے پاس ہیں اور رابطہ کا ذریعہ ہیں۔
پاکستانی نوجوانوں کو ڈیجیٹل دنیا سے روشناس کرانے کے حوالے سے اس وقت بہت سے پاکستانی سرگرم عمل ہیں انہی میں ڈیجیٹل پاکستان کے بانی جناب سید عمار جعفری کا نام نمایاں ہے جنہوں نے پورے پاکستان میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے میں گراں قدر خدمات انجام دیں ہیں ان کے ساتھ ارزش اعظم ایجاد لیب کے ذریعے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے لئے پانچ سو سے زیادہ کمپنیوں کو مدد فراہم کر رہے ہیں ہر سال فیچر فیسٹ کے نام سے ایک ٹیکنالوجی کی عالمی کانفرنس کا انعقاد کر رہے ہیں۔ سیکڑوں ماہرین ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیئے پاکستان میں سرگرم عمل ہیں۔
اگر سماجی ترقی کی بات کریں اس شعبہ میں پاکستانی نوجوان بہت آگے نظر آتے ہیں سماجی خدمت کے رضاکاروں کی فہرست میں کئی نوجوان نمایاں نظر آتے ہیں جن میں پاکستان کی یوتھ پارلیمنٹ، سمیت سیکڑوں سماجی خدمت کی تنظیمیں پاکستانیوں کو انسانی حقوق شہری آزادیوں کے حوالے سے معلومات اور آگاہی دے رہی ہیں۔
سیاسی عمل میں بھی نوجوان کسی طرح پیچھے نہیں الیکشن کمیشن کی نئی کمپیوٹرائز انتخابی فہرستوں میں سب سے زیادہ تعداد انہی نوجوانوں کی ہے جو اس ملک کی امید ہیں۔ یہ کمپیوٹرائز انتخابی فہرستیں وہ انقلابی کام ہے جو اس سے پہلے پاکستان کی تاریخ میں نہیں ہوا ہمیں کسی بھی الیکشن میں اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کتنا بڑا کام ہے جو ہمارے اداروں نے مکمل کیا ہے۔ جس کی بدولت نوجوان بطور ووٹر رجسٹر ہوا ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ وہ انقلابی کام ہے جو پاکستان کی تقدیر بدلے گا۔
آپ میں سے جن احباب نے ان لسٹوں کو دیکھا ہے ان کو اندازہ ہو جانا چاہیے کہ ووٹ کا انقلاب پاکستان کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ ووٹر لسٹ کے مطابق پاکستان میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 128.58 ملین ہے جن میں 44 فیصد نوجوان ووٹر ہیں یوں پاکستان میں 57 ملین نوجوان ووٹرز پاکستان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کر نے کا اختیار رکھتے ہیں۔ اس بات کا اظہار انہوں گزشتہ انتخابات میں کیا بھی ہے۔ آئندہ انتخابی سیاست میں یہ 50 فیصد نوجوان ووٹرز انشاء اللہ اس ملک کی تقدیر بدلیں گے۔
تبدیلی کی ایک اور بڑی امید سول سو سائٹی ہے جو دراصل شعوری ارتقاء کا نام ہے، آج پاکستان کی سول سوسائٹی جس انداز میں آگے آئی ہے اور اپنے آپ کو منوایا ہے وہ ناقابل یقین ہے وہ آئندہ الیکشن میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ سول سوسائٹی میں شہریوں کی وہ تمام تنظیمیں شامل ہیں جو شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے سر گرم عمل ہیں۔ جن میں سب سے متحرک بار ایسوسی ایشن، پریس کلب اور میڈیا کی مختلف تنظیمیں، انجمن تاجران اور دیگر تاجر اتحاد، کسان اور کسانوں کے اتحاد، ایپکا اور غیر سرکاری تنظیمیں شامل ہیں۔ شہری اور نیم شہری علاقوں قصبوں میں یہ سول سوسائٹی کے ادارے اچھے اور موثر انتخابات کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے اور سول سوسائٹی کی یہ جدوجہد مستقبل کے پاکستان کو تبدیل کرے گی۔
پا کستان کی ایک اور امید آزاد عدلیہ ہے میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں آزادانہ فیصلے یہ بتا رہے ہیں کہ ایک خود مختار عدلیہ کا آ غاز ہو چکا ہے اور جب یہی تبدیلی اعلیٰ عدلیہ سے سول کو رٹ تک پہنچ گئی تو یقین جانیں کہ پاکستان تبدیل ہو جائے گا اور یہ تبدیلی زیادہ دور نہیں۔ دیوار برلن کی ما نند نا انصافی کی دیوار بھی جلد مسمار ہونے والی ہے اور یہ وقت قریب آ چکا ہے۔
چوتھی حوصلہ افزا بات آزاد میڈیا ہے خصوصاً سوشل میڈیا جو آج عام آدمی کے مسائل کی آ واز اٹھا رہا ہے۔ اب کوئی بدعنوانی چھپ نہیں سکتی اور یہی آ زاد میڈ یا کی شروعات ہے۔ اب پاکستان کے کسی گاؤں میں زیادتی ہو تو چند منٹوں میں پورے پاکستان کو اس کی خبر ہوتی ہے۔ اب جاگیرداروں وڈیروں کا ظلم کسی کو اپنی رائے سے نہیں روک سکے گا اب کوئی وڈیرہ جاگیردار میڈیا کی آ زادی کو چھین نہیں سکے گا۔ اور وہ وقت دور نہیں جب آ زاد میڈ یا مزید آزادی کے ساتھ اشتہارات اور ذاتی مفادات اور دیگر کے خو ف کے سائے سے آزاد ہو کر اپنا موثر کردار ادا کرے گا۔
یہ امیدیں مل کر ایک نئے پر عزم روشن پاکستان کی بنیاد بن سکتی ہیں آنے والے چند سال امیدوں کو عملی جامہ پہنانے کے ہیں ہم مایوس نہیں ہیں بلکہ ہم امید کی روشن صبح دیکھ رہے ہیں جس میں پاکستان کے غریب عوام منظم ہوں گے اور پاکستان کی ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے پاکستان کی تعمیر ترقی اور تبدیلی کی طرف عوام نے قدم بڑھانا شروع کر دیے ہیں۔ اور چند سالوں میں پاکستان ایک مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان ہو گا۔


